71 ءکے موڑ پر

ساجد عمر گل
sajid umer gillکچھ ایسی ہی ہلچل تھی۔ افراتفری تھی۔ سیاسی کھلاڑیوں کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے گاڑھی چھن بھی رہی تھی اور مفادات کے کھیل کی بساط بھی بچھی ہوئی تھی۔ تب بھی تمام کھلاڑیوں کا زور عروج پر تھا۔ آج بھی تمام کھلاڑی خوب زور شور سے اپنے اپنے من پسند نتائج کے حصول میں سرگرداں ہیں۔ ایسے میں وطن کا سر فخر سے تب بھی بلند نہیں بلکہ گرد آلود تھا اور آج بھی گرد آلود ہے ۔ یہ گرد ہماری تمام تر تاریخ پر چھائی ہوئی ہے۔ منظر نامہ کبھی بھی شفاف نہیں رہا۔ شفافیت کا براہ راست تعلق کردار سے ہے۔ کردار ہمارے ہاں ڈراموں تک محدود رہ گئے۔ ڈرامے حقیقت سے دور اور بیکار کی راگنی ثابت ہوئے۔ ثبوت اِس امر کے جابجاثبت ہیں۔ بد قسمتی یہ بھی رہی کہ ہمارے ہاں سچے ثبوتوں کی بناءپر جزاو سزا کا عمل کبھی جاری و ساری نہیں رہا۔ ثبوت گھڑے جاتے رہے، گواہان بنائے جاتے رہے۔ سنا تھا کہ قانون اندھا ہوتا ہے، پر ہمارے ہاں عدالتیں بھی فالج زدہ رہیں۔ انصاف مرتا رہا، بکتا رہا، لٹتا رہا، متاعِ کارواں کا زیاں ہوا۔ کارواں بے منزل و بے مقام رہا۔ ناموری ہمارے حصے میں نہ آئی۔ ہم رہیں نہ رہیں، نابکاروں میں سر فہرست ہمارا نام ہمیشہ رہا، حیف کہ ہمیشہ رہے گا۔
سب پرانوںکی مانند ، تازہ گھاتوں اور وارداتوں کے گھمسان میں گم ہوتے حقائق پر بھی تاحال گردجمی ہے۔ دور کی کوڑی لانے والے تجزیہ کار تو بے شمار مگر بیشتر تجزیات، سچائی سے ماورا۔ خاندانی اور پیشہ ور افراد اپنے اپنے تعلقات یا روٹی روزی کی مجبوریوں تلے دبے، اپنی اپنی ہانک رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ سچا مگر سچ ہے کہ اپنی جگہ سے معدوم، مفقود! اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ کی طرح حاوی۔ تیور نئے، انداز پرانے۔ پتے نئے، کھیل پرانا۔ میدان پرانا، کھلاڑی نئے۔پرانوں میں سب سے پرانا یہ وطن جسے ہم بڑے زعم سے اپنا گردانتے ہیں اور ’یہ وطن ہمارا ہے‘ الا پتے ہوں ہم بھول جاتے ہیں کہ اس وطن پر حق ہمارا نہیں، گویا اُن کا ہے کہ جنہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کا تسلسل قائم رکھنے کیلئے اِسے بنایا یا بنوایا۔ وہی اِس کے مالک و مختار ہیں۔ انہی کی یہ وراثت ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ ’اُن‘ کی وراثت کہاں تک جائز اور صائب ہے؟ ہم اگر اِن سطور میں یہ بحث گھسیٹ لائے تو نتیجتاًہمارے بھی دار پر گھسیٹے جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ایسا نہیں کہ ہم مرنے سے ڈرتے ہیں، موت تو ہماری عاشق ہے ساتھ اپنے لے ہی جائے گی۔ ڈر کیسا؟ لیکن یہ جو مرکر بھی رسوائی ہمارا مقدر ٹھہرے گی، اس کا کیا کیجئے؟ خیر رسوا ہونے کو یہ امر کیا کم ہے کہ ہم اِس دورِ با طل میں سانس لیتے ہیں؟ زندہ ہونے کے جرم وار ہیں؟ سزا کی مانند نافذ یہ جیون تو پہلے سے ہی دسمبر 71 ءکی خون آلود گرد میں اٹا ہوا ہے۔ اب جو کچھ تازہ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے جا رہا ہے اُس میں گرد اور خون کی مقدار کس قدر ہو گی؟ اِس کا تخمینہ ابھی مشکل ہے۔ یوں بھی Infiniti کبھی کاﺅنٹ تو ہوتی نہیں کہ جو اِس کو ہم کر پائیں گے! یعنی :
حقیقتاً نہ ہو سکا حسابِ رنجِ رائیگاں
اصول ہی بنے نہیں شمارِ بے شمار کے!
پرانی جماعتوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور نئی جماعتوں کے قیام کا کھیل اس تیزی سے جاری ہے کہ گویا نبضیں چھوٹ رہی ہیں۔ یہ عالم ارتقاءکا ہے؟ یا نزاع کا؟ دیکھا بہر حال نہیں جا رہا۔ سنا ہے کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ ناخلف بنائی جانے والی نئی فہرستوںکا حصہ ہیں۔ دُرّہ¿ احتساب، طاقت کے تیل میں لت پت ہونے کو ہے۔ جو ’سیدھی‘ راہ پر لگ گئے، بچ رہیں گے، جو مَیں نہ مانوں کی رٹ لگاتے رہے، عدالتی تازیانے اُن کی پشت ادھیڑ کر رکھ دیں گے۔ پرانے پاپی غسل ماہتابی لیں گے اور کچھ اڑیل جانور، ٹٹو بنادئیے جائیں گے .... غور سے دیکھئے یہ کھیل نیا نہیں۔ ایسے ہی کھیل کھلواڑ نے ملک کو دولخت کر دیا تھا۔ اب رہے سہے پر بھی نحوست کے سائے دراز ہو رہے ہیں۔ اندرونی صورتحال کی گھمبیر تاکیا کم ہے؟ کہ اب پھر سے بیشتر عالمی طاقتیں کہ جنہوں نے اس سے قبل القاعدہ کے نام پر اسلام مخالف کارروائیاں کیںاور اب وہی خونی کھیل داعش کے نام پر کھیل رہی ہیں.... مگر مفاداتی پٹھوﺅں کے شکنجے میں جکڑا پاکستان تا حال پرانی دلدلوں میں دھنسا ہوا ہے۔ یعنی ہم آگے بڑھنے کی بجائے ابھی تک 71 ءکے خونی موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں۔ پیچھے کھائی اور آگے رستہ بند ہے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *