ایک عارضہ، ایک فریضہ

farnood alamدرد کے مارے نوحے کم ہی پڑتے ہیں۔ درد کی جو پیہم سوداگری کرتے ہیں، اکثر وہ بے درد ہی ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہ اذیت بیانی کوئی کامیابی کی سند بھی نہیں ہوتی۔ کیسے۔؟
وہ ایسے کہ۔!!
درد جب کسی سائے کی طرح انسان کے تعاقب میں ہو، تو اکتاہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں درد کا کوئی قصور نہیں۔ قصور قدرت کا ہے کہ انسان کو تغیر کا پیکر بنا دیا ہے۔ مسلسل ایک ہی حالت میں رہنا انسان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ درد کے ساتھ بھی بسر کرے تو کب تک؟ یہ ٹھیک ہے کہ درد اس کا دامن چھوڑنا نہیں چاہتا، مگر اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ یہ اب اس درد کے ساتھ جینا بھی نہیں چاہتا۔
دیکھیں۔!!
گردوپیش میں کتنے لوگ ہیں جو بہرطور مسکراتے ہی دکھتے ہیں۔ یہ محفل کی شمع ہوتے ہیں۔ ہمارے قہقہے انہی کی بذلہ سنجیوں کی عنایت ہوتے ہیں۔ ان کا احساس مگر کس قدر گہرا ہوتا ہے؟ وہ کس قدر مختلف زاویئے سے اس دنیا کو دیکھتے ہیں۔؟ یہ گہرائیاں اور گیرائیاں کہاں سے آئیں۔؟ یونہی ہنستے ہنساتے کیا وہ خاموشیوں کی زبان جان گئے؟ پل بھر کو سنجیدہ ہوجائیں تو ان کے لہجے میں یہ ٹھہراو کہاں سے آجاتا ہے۔؟ کیوں لگتا ہے کہ ان کی آنکھیں بھی بولتی ہیں اور ان کے بول بھی دیکھتے ہیں؟
یہ سب کیا ہے؟
یہ درد ہے۔ یہ کرب ہے۔ مگر یہ درد و کرب کی وہ قسم ہے، جو اپنے گرد وپیش کو سوگوار نہیں کرتی۔ یہ صرف احساسات کی زیبائش اور جذبات کی آرائیش کرتی ہے۔ سوال مگر اپنی جگہ رہ گیا۔ وہ کیا؟
وہ یہ کہ۔!!
”یہ ہنستے مسکراتے ہی کیوں رہنا چاہتے ہیں؟”
شکستہ دلوں کے درو بام پہ مسکراہٹوں کے دیئے جلائے رکھنے والوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔
?۱۔جنہیں ظرف عطا ہوا
۲۔ جن کے حصے میں خود داری آئی۔
جو ظرف رکھتے ہیں، وہی اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ خوش رہنا نہ صرف یہ کہ ایک طبعی ضرورت ہے بلکہ یہ ایک سماجی فریضہ بھی ہے۔ ایسے چہرے ایک سماجی آزمائش ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر طبیعتیں اپنا منہ پھیر لیں۔ انہی چہروں کا سماج مقروض ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر زندگی جی اٹھتی ہے۔
پھر۔!!
خود داری جس کے نصیب میں آئی، خوش نظر آنے کی کوشش اس کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ کیوں؟
کیونکہ۔!!
وہ دکھوں کی رفاقتوں سے بیزار آچکا۔ خوشیوں کو اس کی طبعیت ترس گئی ہے۔ اس کا ماننا یہ ہے کہ خوش رہنا اور خوش دکھائی دینا ہی در اصل زندہ انسان ہونے کا ثبوت ہے۔ سو وہ بھی باقی انسانوں کی طرح جینا چاہتا ہے۔ وہ ایک صبح سر جھٹک کر کہتا ہے ’اب بس‘، مگر دکھ کہاں انسانوں کی طرح بے وفا واقع ہوئے ہیں۔ وہ پہلو میں رہنا چاہتے ہیں۔
اب.... !
کیا یہ ممکن ہے کہ دکھوں نے میرا گھیراو¿ کرلیا ہو اور میں آسودہ حال بھی رہوں؟ اب تو ایک ہی رستہ بچا ہے۔ وہ کیا۔؟
وہ یہ کہ۔!!
دکھوں کا احترام بھی کروں اور مسکراہٹوں کے لئے جگہ بھی بناو¿ں۔ ایک چیلنج درپیش ہے کہ میں نے ثابت کرنا ہے خوشیوں پہ تنہا کسی کی اجارہ داری نہیں۔ خود دار لوگ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کیلئے فاقہ مستیوں سے گریز نہیں کرتے۔ ادھار کی سہی، مگر گراں قیمت ہی پی کر دکھائیں گے۔ درد کے ہاتھوں وہ اپنی خود داریوں کو خوار ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ وہ ہنس کے دکھانا چاہتے ہیں۔ آسودگی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔
اب....!
ایسے میں اگر کوئی ان سے کہہ دے کہ جناب آج کچھ پریشان لگ رہے ہو، تو وہ اندر ہی اندر شکستگی سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ اپنی ناکامی کا احساس ہونے لگتا ہے کہ ’آخر میں کیوں خود کو معمول کا ایک انسان ثابت کرنے میں ناکام ہوں؟‘ ’ناکامی کا یہ احساس مزید بہتری پیدا کرنے کی ایک تحریک کو جنم دیتا ہے۔ وہ وقت آتا ہے کہ یہ وقت کا سب سے آسودہ انسان دکھتا ہے۔ اب ایسے میں کوئی کہہ دے ’میاں آج تو بڑے جیتے جاگتے لگ رہے ہو “تو خود ہی اپنی تحسین کرتا ہے کہ بالآخر میں بھی ہنستے بستے لوگوں کی ہمسری میں کامیاب ہوگیا۔
بالکل اسی طرح۔!
کچھ لوگ ہیں جو آسودگیوں کی گود میں پلتے ہیں۔ ان کی ہر امید بر آنے کو بے تاب رہتی ہے۔ یہاں خیال میں کہیں خواہش کا کنول پھوٹا اور وہاں تکمیل کی خوشبو سے آنگن مہک اٹھا۔ پلکوں پہ خواب سجانے کی دیر تھی کہ دیکھا تو تعبیر چلی آرہی ہے۔ شبستان کی سیاہ مستیوں نے جب بھی د یکھی شبِ وصل ہی دیکھی۔ شبِ فراق کے وقفوں سے در ودیوار کو کبھی شناسائی نہیں رہی۔ ابھی ایک زلف سر ہونے کو تھی کہ دوسرا عشق بانہیں پھیلائے کھڑا تھا۔ وصلِ یار کا ایک سلسلہ۔ یہ سلسلہ در سلسلہ۔ مگر کب تک؟
جی ہاں۔!!
کب تک۔؟ یہ بھی تو آخر انسان ہیں۔ کب تک انسان مسلسل آسودہ حال رہ سکتا ہے؟ وصال یار کا بار بھی کب تک اٹھائے پھریں؟ کبھی جھانک کر دیکھیئے گا۔ یہ لوگ خالی گلاس کی طرح ہوتے ہیں جو بہت کھنکتے ہیں۔ تجربے سے عاری۔ احساس سے تہی دامن۔ جذبات سے بے نیاز۔ کیوں؟
کیونکہ۔!!
یہ نہیں جانتے کہ انتظار کے لمحے محسوس کرنے میں کیسے ہوتے ہیں۔ انہیں نہیں خبر کہ یادوں کا تعاقب کس قدر ہلاکت خیز ہوتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ ہجر و فراق کی گھڑیاں جب روح کو چھلنی کرتی ہیں تو خاموشیاں کیسے چیختی ہیں۔ اسی لیئے تو ان کے لہجے صاف اور چہرے سپاٹ ہوتے ہیں۔ اسی لیئے تو ان کے لفظوں سے معانی کشید نہیں ہوتے۔ ہوتا کیا ہے۔؟
یہی کہ۔!!
ایسے لوگ مسلسل مسکرتے رہنے سے اکتا جاتے ہیں۔ خوشیوں سے ایک بیزاری سے ٹپکتی ہے۔ اس کی وجہ احساس کمتری ہوتی ہے۔ ا نہیں وہ لوگ متاثر کرتے ہیں جو درد کے مارے ہوتے ہیں۔ جو اذیتوں کے امین ہوتے ہیں۔ ان کے لہجوں کے ٹھہراو ان کی معنی خیز خاموشیوں ان کی مفہوم آور نگاہوں سے یہ متاثر ہوتے ہیں۔
اب وہی مسئلہ۔!!
کہ لاکھوں درد نچوڑیئے تو ایک قطرہ شراب بنتی ہے۔ ہزار درد یکجا کیجیئے تو ایک دیوان ہوتا ہے۔ درد ملا ہی نہیں، تو گہرائیاں کہاں سے آئیں۔ فراق کی حشر سامانیوں کا کبھی لطف ہی نہیں لیا تو گیرائی کہاں سے لائیں۔ ہجر میں جس طرح مسکرانا مشکل، وصال میں اسی طرح نوحہ گری مشکل۔ بس ایک ہی رستہ۔ کیا۔؟
وہ یہ کہ۔!!
خود کو عبقری ظاہر کرنے کیلئے خود کو خراب حال کر لیجیئے۔ چاک گریبانی کو شیوہ بنا لیجیئے۔ کوئی حال پوچھے تو پہلے گہرا سانس لیجیئے اور پھر پر اسرار جواب دے دیجئے ۔ جب بھی کیجئے، درد بھری گفتگو کیجیئے۔
سنیں۔!!
یہی لوگ ہوتے ہیں جو سماج پہ بوجھ ہوتے ہیں۔ یہی ہوتے ہیں جو ان دکھوں کی تشہیر کرتے ہیں جو ابھی ملا نہیں۔ کیونکہ ان کی زندگی کی ایک خواہش ابھی باقی ہے کہ میں ٹوٹ کر کسی کو چاہوں اور مجھے ہجر کی عیاشیاں نصیب ہوجائیں۔
مگر کہاں۔!!
یہ ہر کسی کا نصیب کہاں۔ سمجھنے کی بات اور ہے۔
’دکھی چہرے ہنستے ضرور ہیں، مگر ہنسنا نہیں آتا۔ آسودہ چہرے روتے ضرور ہیں مگر انہیں رونا نہیں آتا۔ دونوں جگہ ناپختہ کاری کارفرما ہے۔ مگر کیا کیجئے کہ درد کے ماروں کی ناپختہ کاری سے ایک حسن جھلکتا ہے۔ آسودہ چہروں کی ناپختہ کاری سے کراہت جھلکتی ہے۔
عجب یہ کہ۔!!
مسکرانا دونوں ہی نہیں چاہتے۔ ایک مسکراہٹ گنوا چکا ہے، دوسرا گنوا دینا چاہتا ہے۔
بات سنو۔!!
روتے ہی کیوں ہو؟ مسکراتے کیوں نہیں؟ آپ کی خواہش نہ سہی، مسکرایئے کہ یہ ایک سماجی فریضہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *