آہا، ہم نے ادبی میلہ دیکھا!

husnain jamal (2)عارف نے فون پر یاد کیا۔ سکرین پر ان کا نام جگمگایا، دل میں خوشی کی جلترنگ سی بجنے لگی۔ عشق صاحب نے دل پہ دستک دی/آئیے مرشدی و مولائی۔ فون اٹھایا، لفظوں کی چھاگل چہکنے لگی۔ بعد از تسلیم و نیاز عارف پوچھنے لگے، "جی، تو ادب کی خدمت ہو گئی؟" ہم ہنس دئیے کہ اپنا ہی پردہ مقصود تھا۔
معزز صاحبان، یہ ادبی میلے بھی کیا خوب صورت روایت ہیں۔ اب کوئی بھلے لاکھ بیان دیتا پھرے کہ صاحب ہم تو ادب کی خدمت کر رہے ہیں اس میں شریک ہو کر، تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ بھئی سیدھی بات ہے، اپنا رانجھا راضی ہوتا ہے تو ہر کوئی جاتا ہے۔ وقت سب کا قیمتی ہے، ترجیحات کے حساب سے اسے تقسیم کرنا ہے۔ اب کے ہماری ترجیح تھی کہ صاحب یہ میلہ بھرپور طریقے سے گھومنا ہے تو ہم گھومے اور یقین جانیے ایک دن ایسا نہیں لگا کہ آ کر غلطی کی ہو۔
فقیر نوکری پیشہ ہے تو عموماً دن ڈھلے جانا ہوتا تھا یا سہ پہر کے آس پاس۔ اس وقت الحمرا کا یہ میلہ اپنے پورے جوبن پر ہوتا تھا۔ بھئی کیا کمال کے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ کیا عمدہ گفت گو تھی۔ یقین کیجیے اگر چار چھ مہینے بعد ایک ایسا اکٹھ نصیب ہو جائے تو روح کی خوراک جانیے۔ اور خوراک سے یاد آیا، کمال یہ کہ مکئی کی روٹی اور ساگ، دیسی مکھن اور لسی کے ساتھ میسر تھا۔ ڈیڑھ سو روپے دیجیے اور لذت کام و دہن کا بھرپور بندوبست حاضر۔ دیگر سٹال بھی تھے لیکن فقیر کھانوں میں تجربے کا قائل نہیں۔ چند ذائقے اور بچپن سے انہی کا ساتھ ہے۔
تو میلوں کی بات ہو رہی تھی۔ یارو اپنے لیے تو یہ میلے عید کا پیغام ہوتے ہیں۔ کیا ہم جیسا عام انسان کبھی انیس اشفاق صاحب کے درشن کر پاتا؟ نہیں کبھی نہیں۔ ان سے چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو ہو سکتا؟ سوال ہی نہیں۔ دکھیارے جیسا بلند قامت ناول اور اسی قامت کے مصنف، کیا خوب فیاضی ہے قدرت کی! ناول پر گفت گو ادھار جانیے کہ ابھی انہی کی ایک اور کتاب ہاتھ آئی، اکٹھے تبصرہ کریں گے۔ اس ہاتھ آنے کا قصہ بھی ادھار، واپس آئیے الحمرا کے میلے کی طرف۔
aqeelتقریباً ایک سال بعد استاد محترم عقیل عباس جعفری صاحب کی زیارت ہوئی۔ کیا عمدہ باتیں، کیا ذوق، کیا معلومات! بقول راشد اشرف صاحب، ان سے بات کرتے وقت بندے کو ٹیپ ریکارڈ ساتھ رکھنا چاہیے۔ ڈان اخبار والے عرفان بھائی ملے۔ ہم دونوں ہمیشہ میلوں ہی میں ملتے ہیں اور اگلے میلے تک کے لیے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔
اب آئیے اس کانفرنس کی ادبی نشستوں کی طرف۔ افتتاحی تقریب میں انتظار حسین صاحب نے ایسی عمدہ باتیں کیں کہ مزہ آ گیا۔ سب سے کمال بات یہ فرمائی کہ ایسے دہشت گردی اور نفسا نفسی کے دور میں یہ ادبی میلے جو ہیں، یہ اس سب کا رد عمل ہیں۔ یعنی ان تمام شیطانی کاموں کے عروج پر ہونے کے باوجود ایسی خوب صورت محفلیں اس کے قدرتی رد عمل میں سج رہی ہیں۔
بات بہت زبردست ہے، اور ان دوستوں کے لیے تو اکسیر دوا کا درجہ رکھتی ہے جو ہر میلے میں ایک عالمی سازش تلاش کرتے ہیں۔ ارے بھئی خدا کا خوف کرو، مر مر کے ایک بھلے کام کی ریت پڑی ہے۔ بچے بچیاں تیار ہو کر آتے ہیں، خوب چہکتے پھرتے ہیں۔ کوئی گٹار لے کر آیا ہے گانے گا رہا ہے۔ کوئی تارڑ صاحب کو دیکھ کر دیوانہ ہو رہا ہے، کوئی مشہور ادیبوں کے ساتھ تصویریں بنا رہا ہے۔ ظفر اقبال کا سیشن ہال نمبر دو میں ہے، ہاوس فل ہے، نوے فی صد آبادی نوجوانوں کی ہے، اور کیا مانگتے ہو یار؟ یہ بچے باہر جائیں، اسلحہ ہاتھ میں اٹھائیں یا چرس پئیں، پھر آپ خوش ہیں؟ اردو ڈرامے کے حوالے سے ایسا بھرپور سیشن، وہی ہاوس فل اور وہی نوجوانوں کی کثرت۔ نور الہدیٰ شاہ بہت عمدہ بولیں، مکمل یکسوئی اور خیالات کی سادہ و سلیس ترجمانی ان کی گفت گو میں ہمیشہ کی طرح نمایاں تھی۔ منو بھائی نے کیا عمدہ باتیں کیں، واہ وا!
"کتے اگر کچلہ کھاتے ہیں اور مر جاتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کچلہ کتوں کی مرغوب غذا ہے۔ بھئی آپ جو چیز لپیٹ کر دیں گے انہوں نے تو کھا جانا ہے۔ یہی معاملہ ٹی وی کا ہے۔ آپ ہمارے بھائیوں کو بیٹوں کو بہنوں کو جو کچھ بھی دکھائیں گے، وہ ان کی خاموش ذہنی تربیت کرے گا اور ان کا ذوق اسی کے مطابق تیار ہو گا، لیکن، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں وہ سب پسند بھی ہے۔" یہ لب لباب تھا ان کی گفت گو کا۔ اصغر ندیم سید صاحب نے حسب معمول عمدہ نظامت کی۔ پی ٹی وی کو بہت اچھے الفاظ میں یاد کیا اور اس بات پر افسوس بھی کیا کہ اب اس کا پرسان حال کوئی نہیں۔ یہ بھی بہت کامیاب نشست تھی۔
llfاب ادبی کانفرنسوں پر اعتراض کرنے والے پیارے بھائیو، ایسی محفل ایسے میلوں کے علاوہ کہاں ہو سکتی ہے بھئی۔ ایسی پائے کی فکری نشست اور سامعین کا ایسا انہماک اور باقاعدہ سوال و جواب۔ نعمت ہے بابا!
یقین جانیے فقیر کسی ادبی میلے کی کسی نشست میں کبھی شامل نہیں رہا، نہ منتظمین سے کوئی تعلق ہے لیکن ہر ادبی کانفرنس کے بعد ان پر ناجائز تنقید کے طومار دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ بھئی منتظمین کی مرضی جسے بلائیں جسے نہ بلائیں۔ جس کتاب پر نشست کریں جس پر نہ کریں۔ جس شاعر کو بلائیں جس ادیب کو بلائیں ان کا اختیار۔ وطن عزیز میں تو شاعر اور نثر نگار پڑھنے والوں سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ سب کو بلا لیں گے تو سننے کون آئے گا۔ ایسا نہ کیجیے، مثبت پہلو دیکھیے، ایک غدر مچا ہوا تھا، اردو کا مستقبل کیا ہو گا، بچے کتابیں کیوں نہیں پڑھتے، لوگ آرٹ سے کیوں دور ہیں۔ اب اس بہانے ہم نے تو سیکھ لیا کہ بھئی ماشاللہ پڑھنے والے بھی ہیں اور سمجھنے والے بھی، زور قلم مگر درکار ہے اور ایں سعادت بزور بازو نیست۔
یاد رفتگاں کی دو نشستیں ہوئیں۔ جبار مرزا صاحب نے ضمیر جعفری مرحوم کو یاد کیا، مسعود اشعر صاحب نے عبداللہ حسین مرحوم کی یاد میں ایک عمدہ مضمون پڑھا۔ حسن عباس رضا صاحب نے میڈم نور جہاں پر ایک ہلکا پھلکا اور دلچسپ مضمون پڑھا۔ عقیل عباس جعفری صاحب نے وزیر آغا مرحوم کو یاد کیا، مکمل تحقیق کے ساتھ۔ اور آہا! شفقت تنویر مرزا کو مشتاق صوفی صاحب نے کیا یاد کیا، جائیں آپ بھی یاد کریں کہ آپ نے اگر ان کو نہیں سنا۔ بزرگو! کمال کر دتا جے! اور کئی دوسرے ادیبوں کو یاد کیا گیا۔ اب ایسے میں اگر کوئی گلہ کرے کہ تخلیقی تنہائی بڑھ گئی ہے تو بھئی یہ معاملہ تو محسوسات کا ہے اور ہم تو ان سب مرحومین کو مقررین کی آنکھوں سے دیکھ آئے، تو بیٹھی ڈھول بجا!
audience1پچھلے دنوں ایک تحریر میں ادب کے مصنوعی ستارے کا لفظ دیکھا۔ مدعا یہ تھا کہ ان تمام ادبی کانفرنسوں میں شامل ہونے والے لوگ مصنوعی ستارے ہیں اور ادب کے تاجروں (کانفرنس کے منتظمین) کے لیے ان کا دم غنیمت ہے۔ اچھا بھئی، حیراں ہوں دل کو پیٹوں کہ رووں جگر کو میں، اب انتظار حسین، منو بھائی، انیس اشفاق، کیول دھیر، نورالہدی شاہ، آصف فرخی، مستنصر حسین تارڑ، حمید شاہد، اصغر ندیم سید، کمال احمد رضوی، (تقدیم و تاخیر کی معذرت)، سلیمہ ہاشمی، انور مسعود، اجمل کمال، عبداللہ حسین، مسعود اشعر اور دیگر تمام لوگ جو ہمارے اثاثے ہیں، جنہیں ان کانفرنسوں کے طفیل بار بار دیکھ کر اور سن کر بھی ہمارا جی نہیں بھرتا، یہ سب مصنوعی ستارے ہیں تو پیارے بھائی، اصلی ستارے تو گنوا دیجیے۔ کہاں ہیں وہ ستارے جن کی ضو ہم تک نہیں پہنچی اور ہم اپنے تئیں ’تخلیقی تنہائی‘ کا شکار ہوئے جاتے ہیں۔
تارڑ صاحب والی نشست بھی کمال تھی۔ آصف فرخی صاحب بوجوہ نہ آ سکے تو محمد حمید شاہد صاحب نے نظامت سنبھالی۔ تارڑ صاحب سے دوبدو گفت گو مشکل کام ہے یارو، اس دن اندازہ ہوا۔ بھائی، وہ پٹخنیاں دیں گے کہ آپ جانیں! کچھ ان کا گلہ یہ تھا کہ سنجیدہ ادب کے نقاد ان کے کام پر توجہ نہیں دیتے، تو وہ بالکل جائز تھا۔ سفرناموں کو ادب میں شمار ہی نہیں کیا جاتا، تو یہ بات بھی جائز تھی۔ دو تین دفعہ تارڑ صاحب نے گھمایا لیکن آفرین ہے حمید شاہد صاحب پر کہ انہوں نے بہ کمال دانش مندی نظامت کے فرائض بہ طریق احسن نبھائے۔ یہ کامیاب ترین نشستوں میں سے ایک اس لحاظ سے رہی کہ تارڑ صاحب کھل کے بولے اور شاہد صاحب نے انہیں بلوایا۔ اور موت کا جو تجربہ تارڑ صاحب نے بیان کیا وہ بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا، اگر آپ وہاں نہیں تھے تو اب ان سے پوچھیے۔ ہم تو چلے آگے....
ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ ایسے ادبی میلوں میں مخصوص ناشرین کی کتب پر تقریب رونمائی بپا ہوتی ہے، چاہے کتاب برسوں پہلے شائع ہوئی ہو۔ تو بھئی، مقام شکر جانیے کہ کتاب اور مصنف کو پوچھا تو جا رہا ہے۔ اگر کوئی اہم کتاب جس کا مصنف چھپنے کے زمانے میں بوجوہ پاکستان میں نہیں تھا، اب آگیا، تقریب ہو گئی تو بھئی کیا قیامت ہوئی۔ اور جہاں تک مخصوص ناشرین کا سوال ہے تو صاحب دنیا کے ہر ادبی میلے میں انہی کتابوں کا ذکر ہوتا ہے جو ایک مخصوص معیار پر اترتی ہیں۔ اگر وہ معیار ہی انہی ناشرین نے برقرار رکھا ہو (مستثنیات ہمیشہ ہوں گی) تو آپ کیا کہیے گا۔ تنقید برائے تنقید بہت آسان ہے، کام کرنا مشکل ہے قبلہ گاہی۔ اور عموماً اعتراض کنندگان کی کتب بھی رونمائی کا حصہ رہی ہوتی ہیں، بات یاد رکھنے کی ہے۔
اجی چھوڑئیے کہاں پھنس گئے ہم بھی، آئیں اپنی کانفرنس پر آئیں۔ تو جناب یہاں عرفان کھوسٹ، اورنگزیب لغاری اور کمال احمد رضوی صاحب کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔ کیسی مزے کی باتیں کیں کمال احمد رضوی صاحب نے۔ عمر زیادہ ہو گئی لیکن صاحب، خدا سلامت رکھے، بھرپور حس مزاح و طنز ویسی ہی آب دار ہے۔
آج تیسرے دن آپ کے اس وقائع نگار کو کھڑے کھڑے کمر میں چک پڑ گئی۔ اسی مچکوک حالت میں عارف وقار صاحب سے ملاقات ہوئی۔ کیا عمدہ نشست رہی، وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ جو کچھ انہوں نے فرمایا اس میں فاروقی صاحب اور اطہر بیگ صاحب کے ناولوں کا جائزہ اور ان پر رائے ہماری یادداشت کا ابدی حصہ ہے، ایسے آسان الفاظ میں ایسی بڑی باتیں، ایک آدمی - ایک ادارہ جانیے دوستو!
اصغر ندیم سید صاحب سے ایک طفلانہ سوال کیا، انہوں نے بہ کمال شفقت بہت تفصیل سے معاملہ سمجھایا اور یقین جانیے کوئی پہلو تشنہ رہنے نہیں دیا۔ معاملہ کیا تھا، جانے دیجیے، ہر بات ہی نہیں پوچھ لیتے۔ مقصود صرف یہ تھا کہ بھئی ایسے ادبی میلے نہ ہوں تو فقیر کہاں مل پائے ایسے یادگار لوگوں کو؟ اب سید صاحب احقر کو کچھ خاص نہیں جانتے تھے۔ دنیا پاکستان کا حوالہ دیا تو ایسی محبت سے ملے کہ یقین جانیے اپنے لکھنے پر اور وجاہت صاحب کے چھاپنے(تحقیق: ایسی ایڈیٹنگ قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے) پر ہم خود واری صدقے ہو گئے۔
Nighat Chaudryاب آخر میں تمام داد وہاب شاہ اور نگہت چوہدری کے لیے۔ پہلے دن کاآخری سیشن کتھک رقص اور صوفی رقص کا تھا۔ وہاب شاہ سڈنی سکول آف ڈانس کے تربیت یافتہ ہیں۔ اپنا ڈانس گروپ ہے، تعریف کیا کرنی، صرف ایک بات، ان کے رقص میں ان کا دل، دماغ، چہرہ، بال، کپڑے سب کچھ شامل ہوتا ہے بھئی، کمال فراموشی کا عالم! ایسے آپ کو سمجھا نہیں پائیں گے، ایک بار دیکھیے ضرور۔ اور نگہت چوہدری کے لیے تو الفاظ کم پڑنے والی بات پہلی بار سمجھ آ رہی ہے۔ عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا! جس طریقے سے انہوں نے بھاو بتائے، کر کے دکھائے، طبلے والے سجاد بھائی کو گت سمجھائی، چہرے کے تاثرات اور اس سب پر سوا پرفارمنس کے لیے میرا بائی کا بھجن منتخب کیا گیا۔ آپ جانیں صاحب کرشن مراری کا ذکر ہو اور ہم تڑپ تڑپ نہ جائیں تو بس یہ ہوا۔ بھائی، اگر ذوق رکھتے ہیں تو یقین جانیے یہ عہد برا نہیں، نگہت چوہدری کا عہد ہے، اس پر بھی شاکر ہوں۔
قاسمی صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ روایتی جملہ نہیں، ادب و ثقافت کی ترویج کے لیے جو بھی کچھ ہو گا، ہم تو مبارک باد بھی دیں گے اور شکریہ بھی کریں گے۔
اچھا بھئی، جسے یہ میلے نہیں پسند نہ جائے، لیکن یار یہ دل شکنی والی باتیں نہ کیا کریں، سکون کے چند سانس اس کشمکش روزگار میں میسر آ جاتے ہیں، برا کیا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *