یہ ہماری صف بندی کا سوال ہے ....

wajahatمحترم بھائی روشن لعل صاحب نے لکھا ہے کہ ”دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا کہنے والے نغمے پر کسی کو کیا اعتراض ہوگا لیکن اس نغمے کے پیشکار ادارے کے کردارپر شکوک و شبہات ضرور ہیں جو پہلے سے بھی زیادہ گہر ے ہوتے جارہے ہیں۔اس ادارے کی طرف سے نغموں ، تصویروں اور تقریروں کے ذریعے جو کچھ بھی کیا جارہا اس سے تو یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ پشاور میں بہنے والے خون سے دامن پر موجود ڈھاکہ کے داغ دھوئے جارہے ہیں۔ شاید نئے 16 دسمبر سے پرانے 16 دسمبر کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔“
بھائی روشن لال، ہمیں فوج کے ادارے پر کوئی قائم بالذات اعتراض نہیں ہے۔ اور نہ ہماری فوج سے کوئی دشمنی ہے۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ریاست میں فوج کا ادارہ ضروری ہے۔ ہم اپنی فوج کو مضبوط اور اہل دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری یہ خواہش کیسے ہو سکتی ہے کہ ہماری فوج کمزور ہو ۔ ہمیں دو نکات پر گہرے تحفظات ہیں۔ ایک یہ کہ فوج کے چار طالع آزما جرنیلوں نے ماضی میں حکومت پر قبضہ کیا۔ یہ اقدام ہر دفعہ غلط تھا۔ غیر آئینی تھا اور بلا جواز تھا۔ ہم نے ماضی میں بھی اس کی مزاحمت کی۔ چاہتے ہیں کہ آئندہ یہ غلطی نہ دہرائی جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ہم پھر مزاحمت کریں گے۔ اس کا فوج کے ادارے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ کسی فوجی جوان سے تعلق ہے۔ ہم پاکستان کے عوام کے حق حکمرانی پر سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
مسئلے کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ہماری فوج کے کچھ عناصر نے ماضی میں ہماری سیاست کے ایک فریق یعنی مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو اپنا اتحادی بنایا۔ اس سے ہمارے سیاسی اور معاشرتی منظر نامے میں بہت پیچیدگی پیدا ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ریاست کے تمام ادارے سیاسی اور معاشرتی مکالمے میں غیر جانبدار رہیں۔ ہم کسی مذہب کی مخالفت نہیں کرتے اور نہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ہر انسان کے اس حق کا احترام کرتے ہیں کہ وہ جو چاہے عقیدہ اپنا لے۔ تاہم اگر کوئی شخص ہم پر اپنا عقیدہ مسلط کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ مذہب کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی لڑائی بن جائے گی۔ پھر اس کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا۔ اس کی مزاحمت کی جائے گی۔ عقیدے کے نام پر زبردستی کرنے والوں اور مذہب کی بنیاد پر تفرقہ پھیلانے والوں کی مخالفت مذہب کی مخالفت نہیں ہے ۔ مذہب ایک انفرادی حق ہے ۔ کسی عقیدے کے پیرو کار کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے حق عقیدہ کی نمائندگی کا دعوی کرے۔ مذہب کو انفرادی آزادی کا حصہ تسلیم کئے بغیر معاشرے میں امن اور رواداری کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اس کشمکش میں اگر فوج، یونیورسٹی یا ملک کا کوئی دوسرا ریاستی ادارہ فریق بننا چاہے گا تو اس کی اسی طرح مخالفت کی جائے گی جس طرح مذہب کے نام پر تفرقہ پھیلانے والوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔ جس طرح مذہبی سیاست کی مخالفت مذہب کی مخالفت نہیں ، اسی طرح ریاستی ادارے کے منصب سے تجاوز کرنے والو ں کی مخالفت متعلقہ ادارے کی مخالفت نہیں ہے۔ ہم فوج کے مخالف نہیں ہیں، فوج سمیت کسی بھی ریاستی ادارے کی سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں۔ ہمارے ملک میں کچھ لوگ قدامت پسند ہیں اور کچھ لوگ جدت پسند ہیں۔ یہ سب اس ملک کے شہری ہیں اور مساوی درجہ رکھتے ہیں۔ ان میں ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا حق ہے ۔ اگر ریاستی ادارے ان میں کسی ایک فریق کی حمایت کرتے ہیں تو دوسرے فریق کی حق تلفی ہوتی ہے۔ سیاسی عمل میں حصہ لینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ تقریر اور تحریر بھی اجتماعی مکالمے کے جائز ذرائع ہیں۔ اس عمل میں ریاست کسی ایک فریق کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیتی ہے تو دوسرا فریق نا انصافی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ پسند نہیں کہ ریاست کسی بھی فریق کا ساتھ دے کیونکہ اجتماعی مکالمے کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے نہ کہ ریاستی منصب داروں کو۔
ہماری فوج نے ایک طویل انتظار کے بعد 2014ءمیں اعلان کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے گی۔ ہم نے عرض کیا کہ بہت اچھا۔ یہ کارروائی کی جائے۔ ہم ، پاکستان کے شہری، اس اچھے کام میں فوج کا ساتھ دیں گے۔ ہم اس پرانے گلے شکوے سے آگے بڑھنے پر تیار ہیں کہ ماضی میں ہم میں سے کس نے کیا کیا تھا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہری تو دہشت گرد کے خلاف خود سے بندوق نہیں اٹھا سکتے۔ انہیں بہرصورت ریاست کے اداروں ہی سے اپنے تحفظ کا مطالبہ کرنا ہے۔ اگر ریاست کا وہ ادارہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا اعلان کر رہا ہے جو اس عفریت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ہم سے کچھ لوگوں کو اس کارروائی کے طریقہ کار پر اختلاف ہے اور کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عسکری ادارے کے سب ارکان اس لڑائی میں یک سو نہیں ہیں۔ نیز یہ کہ دہشت گردوں کے کچھ ساتھیوں کو ابھی تک اس کارروائی کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ اگر اس موقف کے حق میں شواہد موجود ہیں تو انہیں منظر عام پر لانا چاہیے۔ تاہم اس موقف کی آڑ میں اگر ہم دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ریاستی اداروں سے بلا امتیاز اختلاف کرتے رہیں گے تو اس سے اس فریق کو فائدہ ہو گا جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں، جو ریاست کو کمزور کر کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور اس ملک کے لوگوں پر اپنا من مانا طرز حیات مسلط کرنا چاہتا ہے۔ فوج یا کسی بھی دوسرے ریاستی ادارے کی ایسی مخالفت عقل مندی نہیں کہلائے گی۔ اگر 16 دسمبر کے موقع پر پشاور کے شہید بچوں کو یاد کرنے سے قوم میں دہشت گردی کے خلاف یک جہتی پیدا ہوتی ہے تو اس پر اعتراض کرنا بے معنی ہی نہیں، بلکہ نقصان دہ ہے۔ ہمیں آئی ایس پی آر کے ترانے پر اعتراض کرنے کی بجائے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ اس ترانے کے سیاسی، قانونی اور اخلاقی تقاضے پورے کئے جائیں۔ دہشت گرد چاہتا ہے اس کی مخالفت کرنے والوں میں باہم اختلافات پیدا ہوں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم میں زیادہ سے زیادہ اتفاق کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ ہماری صف بندی کا سوال ہے ....” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 20, 2015 at 11:00 PM
    Permalink

    بہت عمدہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بھی اس پر بہت یکسو ہیں‌کہ کہیں‌دہشت گردوں‌کے خلاف یہ صف بندی معمولی ایشوز پر بے ترتیب نہ ہو جائے، یکسوئی میں‌فرق نہ پڑ جائے۔ دہشت گرد یہی چاہتے ہیں ، وہ اپنے بدترین لمحات سے گزر رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ کسی طرح پاک فوج اور آپریشن ضرب عضب کو متنازع بنا دیا جائے۔ یہ لکھاریوں، خواہ وہ رائیٹ کے ہوں‌یا لبرل، ان کی ذمہ داری ہے کہ اس قومی یکسوئی اور یک جہتی میں‌فرق نہ آنے دیں۔ بحثیں چلتی رہتی ہیں، سوال اٹھائے جاتے رہیں گے، کوئی مقدس گائے نہیں، ہر ایک پر بات ہوسکتی ہے، لیکن اس وقت حالت جنگ ہے، یہ معرکہ تو جیت لیا جائے، پھر دوسری بحثیں چھیڑی جائیں۔ ہم بھی قلم رکھتے،منہ میں زباں رکھتے ہیں، کچھ آپ ۔۔۔۔۔ مقصود وہ لوگ ہیں،جن کے بے وقت جوش سے صف بندی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، تو کچھ آپ کہیں، کچھ ہم سے سنیں، بات چیت مکالمہ چلتا رہے گا انشااللہ۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *