شملہ پہاڑی پر بیٹھے ہوئے ....

waqasوقاص امین

ایسا تھوڑی ہوتا ہے جو کہا اسے کرنا بھی پڑتا ہے میں آپ سے پیار کرتا ہوں یہ کہہ دینے سے کچھ ثابت نہیں ہوتا پیار کرنا بھی تو پڑتا ہے۔شیریں تو پیار میں مٹکا لیکر دریا میں ڈوب گئی۔اسے کیا معلوم کہ مٹکا کچا تھا۔پھوٹ گیا مٹکا پانی میں۔پانی ہوگئی پھر دوبارہ جنم ہوا شیریں کا پھر وہ لیلیٰ بنی، ہیر بنی، جولیٹ بنی، مرتی گئی، مٹتی گئی مگر پیار نا ملا اسے کسی کو نہیں ملتا اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیار میں کوئی کھوٹ ہے یا شاید ہم میں کوئی کھوٹ ہے شاید ہمارے پیار میں ملاوٹ ہے؟ ملاوٹ تو ہر چیزمیں ہے آسمان سے سورج اگتااس کے لال رنگ میں پیلے رنگ کی ملاوٹ ہے، نیند میں سپنوں کی ملاوٹ ہے، اب آدمی ہے تو خواہشات ہیں، خواہشات تو اچھی ہیں۔ اب خواہشات ہیں تو سپنے ہیں۔ سیڑھی ایک ایک چڑھتا ہے آدمی اب زیادہ چڑھو گے تو گر جاﺅ گا ،پھر جانا کہاں ہے؟ جب جانا ہی نہیں تو کیوں بھاگ رہے ہو؟ ٹھہر جاو¿ ناں ۔
تھوڑی دیر لیکن جو ہے وہ جا رہا ہے۔ لیکن آپ کہیں نہیں جا رہے جیسا کہ ٹرین نکلی سٹیشن سے، ٹرین میں آپ اور باہر میں۔اور آپ سوچ رہے ہیں کہ میں پیچھے رہ گیا لیکن میں تو وہیں کھڑا تھا۔ گول گپے کھا رہا تھا پھر اگلے دن پیٹ خراب ہو گیا میرا۔ مگر کسی کو بتایا نہیں تھا میں نے۔ناں تو گھر سے ڈانٹ پڑتی اماں ناراض ہوتیں۔ کیوں کروں اسے ناراض؟َوہ تو پہلے ہی اتنی مشکل زندگی گزار رہی ہیں۔ انھوں نے دوسروں کو اپنے کان جو دیے ہوئے ہیں، کہتی ہیں کہ میری داڑھی میں سفید بال آنے لگ گئے ہیں اس لئے جلدی شاد ی کروا لو ۔ ارے یہ کیا بول رہی ہیں آپ؟ اس سے شادی کا کیا مطلب؟ سفید تو اچھا رنگ ہے سفید جیسے چنبیلی کا کھلا ہوا پھول جیسے دودھ میں نہایا ہو انسان لیکن اندر سے اتنا ہی سخت رنگ۔ پہلے میں اندر کا رنگ بدل لوں؟ پھر بات کیجیے گا۔ مجھے اسی طرح بے رنگ رہنا ہے۔ بالکل چنبیلی کی ٹہنی کی مانند بالکل تنہا جیسے کوئی چنبیلی کا پھول اتارکربنا دیکھے چلا گیا۔ بالکل اسی طرح اس موبائل فون کے کہ جس کی چارجنگ ختم ہو گئی ہو مگر اس کا مالک پریشان رہتا ہے مگر میں اپنے مالک کو پریشان نہیں رکھنا چاہتا۔ اس لیے پانچ پرمنٹ چارج رہنا چاہتا ہو ں جو مجھے اندر سے جگانے کے لیے کافی ہے۔
لیکن بات تو شیریں کی ہو رہی ہے۔ ارے پیار کی بات تو ایسی ہی ہے جیسے بال کی کھال اتاری جارہی ہے لیکن بال کی کھال کہاں ہوتی ہے؟ اگر ہوتی تو بھلا درد نا ہوتا ؟ لیکن درد تو دل میں بھی ہوتا ہے اب اس میں کھال کہاں ہے لیکن کوئی بیان نہیں کرسکتا اور کریں بھی تو کس کے ساتھ کریں۔ کوئی سمجھے بھی اب کسی کے سامنے ہاتھ تھو ڑی پھیلانا ہے بس خدا ہی بہتر جانے۔ خدا نے اپنے لیے تو سب کچھ ٹھیک کرلیا مگر ہمیں امتحان میں رکھا ہواہے۔ کون جانے کہ کب پاس ہو جائے اور کون جانے جو بنا امتحان کے پار ہو جا ئیں۔ آخری نمبر میرا ہو، کہتے ہیں کچھ حادثے ایسے بھی زندگی میں ہوتے ہیں کہ ان سے انسان تو بچ جاتاہے مگر زندہ نہیں رہتا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک بڑے بنگلے میں کلف لگا انسان کھانے کی میز پر اس چیز کے بارے میں سوچ رہا ہے کہ جو اسے دو سو کلو میٹر دور ایک جوان اس ٹوٹے ہوئے پیالے میں گرم چائے پیتے ہوئے بھی نہ سوچ رہا ہو کیوںکہ اس کی سوچ میں شکر گزاری شامل نہیں ۔ اب کون جانے....

شملہ پہاڑی پر بیٹھے ہوئے ....” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 20, 2015 at 3:56 PM
    Permalink

    نوجوان یہ بیچاری شیریں کو مٹکا کیوں تھما دیا؟

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *