ہوا میں اڑتے ہوئے پتے (4)

mujahid Mirza 02نتاشا اپنی نانی سے ملنے ہارکوو (خارکوف) چلی گئی تھی۔ تاحال ملکوں کی یونین موجود تھی اس لیے سرحدوں کا کوئی بکھیڑا نہیں تھا۔ نتاشا کے جانے کے بعد حسام خود کو آزاد محسوس کر رہا تھا کیونکہ اب بلانوشی پر قدغن لگانے والا کوئی نہیں تھا۔ ایک رات پینے کے بعد ساتھ والے ہوسٹل میں جانا تھا جہاں حسام کو نیا کمرہ الاٹ ہوا تھا جسے دیکھنا مقصود تھا۔ رات کا اندھیرا چھا چکا تھا اس لیے طغرل نے شلوار قمیص پہن کر اس کے ساتھ جانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی تھی۔ ہوسٹل کے اندر چونکہ حسام کو ہی جانا تھا اس لیے طغرل ہوسٹل سے کچھ پہلے پودوں سے بنی باڑوں کے بیچ رک گیا تھا تاکہ رات کی کوکھ میں گھلی باس کا لطف لے سکے۔ حسام کو گئے خاصی دیر ہو چکی تھی۔ طغرل کو تھوڑی تشویش ہونے لگی تھی۔ جب وہ حسام کو دیکھنے ہوسٹل کے نزدیک پہنچا تو اس نے دیکھا تھا کہ حسام نے ہوسٹل کے دروازے میں ایک ہٹے کٹے افریقی طالبعلم کو کندھے سے دھکیلتے ہوئے نکلتے کی کوشش کی تھی۔ افریقی بپھر گیا تھا اور اس نے ’کم آن.... کم آن‘ کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کے اشاروں سے حسام کو دعوت مبارزت دینا شروع کر دی تھی اور اس نے لڑنے کی خاطر ہٹتے ہوئے کھلے حصے کی جانب نکلنا شروع کر دیا تھا۔ حسام ایک تو لڑاکا قوم سے تھا اوپر سے پیے ہوئے تھا یعنی ایک کریلا اوپر سے نیم چڑھا والا معاملہ تھا۔ طغرل ابھی دور تھا کہ افریقی نے باکسر کے سے انداز میں حسام کے چہرے پر ایک مکا جڑ دیا تھا اور حسام لڑکھڑاتا ہوا دور جا گرا تھا۔ وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا تھا اتنے میں افریقی نے ایک اور وار کر دیا تھا۔ حسام نے قمیص اتار دی تھی اور خم ٹھونک کر کھڑا ہو گیا تھا پر نہ تو وہ افریقی جوان کی طرح پیشہ ور مکے باز تھا اور نہ ہی اس کی طرح الکحل کے اثر سے پاک۔ طغرل دوڑتا ہوا ان دونوںکے بیچ میں آ گیا تھا، افریقی کا اگلا مکہ اس کے شانے پر پڑا تھا چونکہ وہ حسام کے چہرے کا نشانہ باندھ کر مکہ مارنے کی کوشش کر رہا تھا اور حسام قد میں طغرل سے چھوٹا تھا۔ اس کے مکے میں رکاوٹ آ جانے کی وجہ سے حسام کو بھی افریقی پر ایک کاری وار کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ طغرل کے بیچ میں پڑنے سے ایک دو افریقی لڑکے بھی بیچ بچاو¿ کرانے لگے تھے اور سب مل کر انہیں شانت کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔moscow
حسام طغرل سے ناراض ہو گیا تھا۔ اسے شکوہ تھا کہ طغرل نے اس کے شانہ بہ شانہ لڑائی میں حصہ کیوں نہیں لیا تھا۔ طغرل کی صلح جوئی اور امن پسندی اس کے نزدیک دوستی اور بھائی چارے کی نفی تھی جبکہ طغرل ایک تو ویسے ہی امن و آشتی کا قائل تھا دوسرے اسے لڑنا بھی نہیں آتا تھا تیسرے اگر وہ کسی نہ کسی طرح اس کے ہمراہ لڑائی میں شریک ہو بھی جاتا تو باقی افریقی لڑکے اپنے افریقی دوست کے ساتھ بھائی چارہ کرتے ہوئے ان دونوں کا بھرکس نکال دیتے۔ مگر حسام کا دل طغرل کی دلیل مان کر دینے کو تیار نہیں تھا چنانچہ اس کا دو ایک روز طغرل سے دل کھٹا رہا تھا۔ دیار غیر میں مہمان ہونا بھی کتنی بے بسی ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کا سا معاملہ ہوتا ہے۔
حسام کو اپنا سامان دوسرے ہوسٹل کے کمرے میں منتقل کرنا تھا۔ حسام کوتاہ قد اور گٹھے ہوئے بدن والا جوان تھا جو تب مضبوط ارادے والا شخص لگتا تھا۔ اس نے بھاری بھر سامان اکٹھا کرکے اٹھانا شروع کیا تھا۔ پھر طغرل اور وہ مل کر اس سامان کو لفٹ میں رکھتے اور نکالتے تھے۔ اس عمل میں طغرل کے ذمے صرف اتنا کام تھا کہ لفٹ میں سامان رکھے جانے اور لفٹ سے نکالے جانے کے دوران لفٹ کا ’توقف‘ کا بٹن دبائے کھڑا رہے تاکہ لفٹ کا دروازہ کھلا رکھا جا سکے۔ جب حسام سامان نکال لیتا تھا تو طغرل سامان کو اس کے سر پر لادنے میں مدد کرتا تھا پھر اس کے پیچھے پیچھے چلتا تھا تاکہ پھسل کر گر جانے والی ایک دو چھوٹی چھوٹی چیزوں کو سمیٹ لے۔ دوسرے ہوسٹل میں پہنچ کر حسام سیڑھیوں کے راستے سامان کو شاید پانچویں یا ساتویں منزل تک لے جاتا تھا جہاں اس کا نیا کمرہ تھا۔ جب حسام تیسری بار یہ پر مشقت کام کر رہا تھا تو طغرل کو ندامت ہونے لگی تھی اور اس نے بھی حسب توفیق سامان ڈھونے میں اس کی مدد کرنا شروع کر دی تھی۔ اس نے حسام کے ساتھ مل کر جب دوبار سامان ڈھویا تو حسام نے خوش ہو کر آشکار کیا تھا کہ نتاشا نے وادکا کی چند بوتلیں ذخیرہ کی ہوئی تھیں جنہیں وہ خاص موقع پر استعمال کرنا چاہتی تھی۔ اس زمانے میں شراب راشن پر ملنے لگی تھی اور چند بوتلیں نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تھیں۔ چونکہ طغرل نے باربرداری میں اس کا ہاتھ بٹایا تھا پھر حسام خود بھی تھک چکا تھا چنانچہ اس نے تجویز کیا تھا کہ تازہ دم ہونے کی خاطر ایک بوتل کھول لینے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ انہوں نے بوتل کھول لی تھی۔ سامان ڈھوتے ڈھوتے ، انہوں نے یکے بعد دیگرے تین بوتلیں کھول کر کچھ کھائے پیے بغیر زیب معدہ کر لی تھیں۔ سامان ڈھونے کا کام تمام ہو گیا تھا مگر وہ الکحل کے زیر اثر کچھ زیادہ ہی تازہ دم تھے۔ طغرل نے حسام سے کہا تھا کہ باقی یعنی چوتھی اور آخری بوتل جنگل میں جا کر پیتے ہیں۔ یہ جنگل ہوسٹلوں کے عقب میں واقع تھا۔ طغرل نے شلوار قمیص پہن لی تھی اور نعمت غیر مترقبہ کی آخری بوتل نیفے میں اڑس لی تھی۔ وہ دونوں بازووں میں بازو ڈالے، قہقہے لگاتے، نعرہ زن ہوتے جنگل میں چلتے جا رہے تھے۔ ساتھ ساتھ بوتل کے دہانے سے منہ لگا کر جرعہ شراب بھی باری باری حلق سے اتارتے جا رہے تھے۔ وہ دونوں ایک جگہ زمین پر بیٹھ گئے تھے۔ ان پر یک لخت بے تحاشا تکان اور نیند کا غلبہ طاری ہو چکا تھا۔ طغرل جنگل کی دوب پر ہی دراز ہو گیا تھا اور اس کو نیند نے آ لیا تھا۔ اندھیرا اتر رہا تھا۔ حسام نے طغرل کو چلنے کا کہا تھا مگر اس نے جواب میں کہا تھا،"مجھے سونے دو یار، تنگ نہ کرو"۔ حسام نے دوچار بار اسے جھنجھوڑا تھا مگر طغرل ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ moscow girlsرات گئے اس نے کروٹ بدلی تو کوئی تنکا اس کے پہلو میں چبھا تھا۔ اس نے آنکھ کھولی تو ہو کا عالم تھا۔ اونچے اونچے درخت ، دیووں کا روپ دھارے اس کے اوپر سایہ فگن تھے۔ کبھی کبھار کسی پرندے کے پھڑپھڑانے کی اواز سنائی دے جاتی تھی۔ باوجود اس قدر نشے کے طغرل مارے خوف کے بیدار ہوا تھا اور پاو¿ں پر کھڑا ہو گیا تھا۔ ٹانگیں بری طرح لڑکھڑا رہی تھیں۔ سمت کا تعین کرنا طغرل کے لیے ویسے بھی مشکل ہوتا تھا اوپر سے رات کا سمے، انجانا مقام اور جنگل۔ وہ بغیر اندازے کے ٹامک ٹوئیاں مارتا، لڑکھڑاتا، درختوں کے تنوں کے سہارے لیتا خاصی دیر کے بعد سڑک پر آ گیا تھا۔ پھر اور بھی دیر کے بعد اسے کچھ ذی نفس دکھائی دیے تھے۔ ہوسٹل کا نمبر اسے یاد تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا تھا کہ وہ اس عمارت سے پانچ چھ عمارتیں ادھر آ نکلا تھا۔ ہر دو ہوسٹلوں کے درمیان بڑی سی خالی جگہ تھی۔ بالآخر کوئی چار بجے صبح وہ حسام کے ہوسٹل پہنچا تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر برآمدے میں قدم رکھتے ہی اس نے حسام کا نام لے لے کر اونچی آواز میں صلوٰتیں سنانا شروع کر دی اور ساتھ ہی گلہ کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ جان بوجھ کر اسے جنگل میں تن تنہا چھوڑ آیا تھا۔ دو چار دروازے کھلے تھے۔ اقامت گاہ کے مقیموں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر "شش" کی آواز کے ساتھ اسے باور کرانے کی سعی کی تھی کہ وہ بے وقت لوگوں کی نیند میں مخل ہو رہا ہے۔ پھر ایک کمرے سے حسام برآمد ہوا تھا جس نے طغرل کو بازو سے کھینچتے ہوئے کمرے میں جا کر چٹخنی چڑھا دی تھی۔ طغرل اول فول بکتا رہا تھا مگر حسام کان دھرے بنا بستر پر دراز ہو کر ساکت ہو گیا تھا۔ آخر کار طغرل بھی ڈھیر ہو گیا تھا۔
سہ پہر کے وقت حسام کے منہ سے لرزتے لہجے میں نقاہت آمیز "طغرل صاحب، طغرل صاحب " کی صدا سن کر طغرل بیدار ہوا تھا۔ اس نے لیٹے لیٹے پوچھا تھا،" کیا بات ہے حسام؟" حسام نے جواب میں کہا تھا کہ وہ مر رہا ہے۔ اگرچہ طغرل میں بھی اٹھنے کی سکت نہیں تھی لیہکن حسام نے جس طرح یہ بات کہی تھی وہ اسے سچ جان کر ہڑبڑا کر اٹھا تھا اور اس کے پاس پہنچا تھا۔ حسام کا چہرہ اترا ہوا تھا، رنگ زرد تھا، آنکھوں میں از حد نقاہت کا جن رقصاں تھا۔ طغرل نے پوچھا تھا،"حسام میں تمہارے لیے کیا کروں؟"۔ اس نے کہا تھا کہ شکر دان میں پڑی شکر میں پانی گھول کر اسے دے۔ وہ تیزی سے باتھ روم میں جا کر شکر دان میں پانی ڈال کر لایا تھا جس میں پہلے سے چند چمچ شکر موجود تھی پھر چمچے سے حل کرکے اسے پینے کے لیے دیا تھا جسے پی کر اس کے چہرے پر طمانیت کا ایک سایہ سا جھلملایا تھا۔ طغرل مطمئن ہو کر اپنے بستر پر دراز ہو گیا تھا۔ اب حسام بہتر آواز میں اسے پکار رہا تھا لیکن اس سے جیسے قوت گویائی روٹھ گئی تھی تاحتٰی وہ جسم کو حرکت دینے سے بھی خود کو قاصر محسوس کر رہا تھا۔ حسام کی امداد کرنے کا جتن کرتے ہوئے اس کی قوت سلب ہو چکی تھی۔ حسام نے اپنی گردن قدرے بلند کر کے اس کی جانب دیکھا تھا مگر طغرل نے اشارے سے بتایا تھا کہ اس میں بولنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس بار حسام کو اس کی مدد کرنے کی خاطر کمر بستہ ہونا پڑا تھا۔ اس نے اٹھ کر کمرے میں پڑے دو ایک کچے پکے چھوٹے چھوٹے سیب اسے چبانے کو دیے تھے۔ پھر ان دونوں نے تقریباً پاو¿ں گھسیٹتے ہوئے منہ ہاتھ دھوا تھا اور زندہ لاشوں کی مانند آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر کر، سرسراتے ہوئے یونیورسٹی کے مطعم پہنچے تھے جہاں انہوں نے سوپ لیا تھا اور کریم یعنی کھٹی بالائی نوش جان کی تھی۔ اس طرح ان دونوں میں تھوڑی سی جان آئی تھی۔ پھر انہوں نے دو روز مسلسل دودھ دہی کا استعمال کیا تھا تب کہیں جا کر ان کی قوت بحال ہوئی تھی۔ بعد میں انہوں نے سوچا تھا کہ چار بوتلیں دو لٹر بنتی ہیں۔ چالیس فیصد کے حساب سے ان میں ایک لٹر کے قریب خالص الکحل تھی مگر جب انہوں نے خالی بوتلیں گنی تھیں تو وہ چار کی بجائے چھ بنتی تھیں یعنی وہ دونوں سوا لٹر خالص الکحل سڑپ گئے تھے۔ ان کا جاں بر ہونا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔
نتاشا دو چار روز بعد لوٹ آئی تھی۔ جب اس نے اپنی محفوظ کردہ بوتلیں غائب پائی تھیں تو بہت سیخ پا ہوئی تھی مگر جب اس نے ان کی بلانوشی اور اس کے اثرات بارے داستان سنی تھی تو شکر ادا کیا تھا کہ دونوں زندہ تھے۔ نتاشا کی ایک سہیلی تھی جو اس کے ساتھ مچھلیوں کی پراسیسنگ کرنے والے کارخانے میں کام کرتی تھی۔ اس کا طولیا نام کا خاوند تھا۔ وہ نسل سے ازبک تھا مگر اس ملک میں رہنے والے وسط ایشیا کے لوگ اپنی سہولت کی خاطر اپنے ناموں کے اختصار کو مقامی رنگ دے لیتے ہیں۔ میاں بیوی نے انہیں دعوت پر بلایا تھا جو اصل میں طغرل کے اعزاز میں تھی۔
ان دنوں اس شہر میں ٹیکسی کے کرائے بہت کم تھے بلکہ ٹیکسی کا کرایہ کیا سب ہی کچھ بہت سستا تھا اگرچہ کوئی چیز مشکل سے ہی ملتی تھی۔ طغرل حسام کی ہدایت پر اپنے ساتھ چمڑے کی چند جیکٹیں لے کر آیا تھا۔ ان میں سے ایک دو بک چکی تھیں، اس لیے وہ "امیر" تھے اور اکثر ٹیکسیوں میں سفر کیا کرتے تھے۔ ٹیکسی کے ذریعے ہی وہ طولیا کے ہاں پہنچے تھے۔وہاں شراب پی اور دعوت اڑائی تھی۔
قارئین کو اب تک یہ معلوم ہو چکا ہوگا کہ اس ملک میں زندگی کے لیے شراب اتنی ہی اہم ہے جتنی روٹی۔ مہمان کو شراب پیش نہ کرنا انتہائی بد اخلاقی شمار ہوتی ہے اور مہمان کا شراب پینے سے انکار کرنا اس سے بھی زیادہ معیوب۔ یہ اور بات ہے کہ مہمان شروع میں ہی مذہب یا خرابی صحت کا جواز پیش کر دے۔ اس کے باوجود ایک دو بار اصرار کیا جاتا ہے اور مزاحیہ انداز میں شراب کی جانب راغب کرنے کی سعی کی جاتی ہے مثلاً یہ کہہ کر کہ ’رات کو اللہ نہیں دیکھتا‘ یا یہ کہہ کر کہ تھوڑی سی کونیاک پی لینے سے صحت بحال رہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ طغرل مست ہو گیا تو طولیا اور اسی کی بیوی نے غالباً مذاق میں کہا تھا کہ وہاں موجود ایک اور خاتون طغرل کی رفاقت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایک تو طغرل نشے میں تھا دوسرے وہ ابھی اس ملک کے لوگوں کے ذوق لطافت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں ہوا تھا چنانچہ ایک بستر پر پسر گیا تھا۔ پھر عقدہ کھلا تھا کہ یہ تو ایک مذاق تھا البتہ دونوں میزبان اصرار کرنے لگے تھے ، اگر وہ بہتر محسوس نہیں کر رہا تو شب بسری کی خاطر ان کے ہاں ہی رہ جائے۔ مگر طغرل کا تو مقصد ہی کچھ اور تھا بلا وجہ انجان لوگوں کے ہاں شب بسری کی تک نہیں تھی چنانچہ تینوں ان سے اجازت لے کر ایک ٹیکسی میں بیٹھ گئے تھے۔ حسام طغرل کے ہوس کار وطیرے پر اسے سخت سست کہہ رہا تھا۔ اس پر طغرل طیش میں آ گیا تھا اور گاڑی کے اندر ہی اس کے ساتھ الجھنے لگا تھا۔ ڈرائیور نے گھبرا کر گاڑی روک دی تھی اور وہ دونوں باہر نکل گئے تھے۔ حسام نے طغرل کو زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تھی جس کے باعث ان دونوں کے درمیان دھینگا مشتی شروع ہو گئی تھی۔ نتاشا نے بڑی مشکل سے بیچ بچاو کرایا تھا۔ طغرل کی ایک انگشت میں شادی میں ملی تولہ بھر کی سونے کی انگشتری تھی جو ان کے داو پیچ couple-visiting-Moscowکے دوران اتر کر گر گئی تھی اور باوجود کوشش کے نہ مل پائی تھی۔ وہ ہوسٹل کے کمرے میں لوٹ آئے تھے۔ وہ دونوں ہی چونکہ الکحل کے زیر اثر تھے اور حسام ابھی تک اپنی زبان پر قابو پانے میں ناکام رہا تھا جس پر طغرل نے جھنجھلا کر کہا تھا کہ وہ جا رہا ہے۔ پھر اپنا سب کچھ سمیٹ سمٹا کر اپنے بھاری بھر کم سوٹ کیس میں ڈال کر سوٹ کیس کھینچتا ہوا لفٹ تک جا پہنچا تھا۔ مگر لفٹ تو اتفاق سے کام کر ہی نہیں رہی تھی اور وہ اتنا بھاری سوٹ کیس اٹھا کر سیڑھیوں کے راستے اترنے کے قابل نہیں تھا۔ پھر جاتا بھی تو کہاں جاتا۔ حسام کے علاوہ اس شہر میں کوئی اور واقف کار بھی تو نہیں تھا۔ زبان سے نابلد تھا اور اتنے پیسے بھی جیب میں نہیں تھے کہ کسی ایسے ہوٹل میں چلا جاتا جہاں انگریزی بولی جاتی ہو۔ آخر شرمندہ ہو کر سوٹ کیس گھسیٹا ہوا واپس کمرے میں آ گیا تھا۔ حسام کو بھی معلوم تھا کہ طغرل لوٹ آئے گا اس لیے اس نے کمرے کی چٹخنی نہیں چڑھائی تھی، دروازہ کھلا رکھا تھا۔ طغرل کا بستر خالی تھا، وہ اس پر لیٹ کر سو گیا تھا۔
صبح اٹھے تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہے تھے۔ نتاشا ان کی نشے میں ہوئی مخاصمت پر مخصوص انداز میں مسکرائے جا رہی تھی۔ اس دھینگا مشتی کے بعد حسام اور طغرل آپس میں جسمانی لڑائی کے سلسلے میں شاید کچھ کھل گئے تھے۔
لڑکیاں پھانس کر لانے اور شراب نوشی سے اب دونوں کچھ گریز کرنے لگے تھے۔ یہ ایک عارضی حفاظتی لائحہ عمل تھا۔ نتاشا جب نانی کے ہاں سے لوٹی تھی تو اس نے اتے ہی کہا تھا کہ ہم سب اکٹھے ہارکوو چلیں گے۔ ان دنوں وہ وہاں جانے کا پروگرام بنانے لگے تھے۔
اس ملک کے بارے میں بہت مشہور تھا کہ یہاں جنسی رفاقت نہ صرف آسانی سے دستیاب ہے بلکہ بہت فراواں بھی۔ بعض اوقات تو وہاں سے لوٹنے والے اپنی "سیاحتی رومان پروری" کے قصے سناتے ہوئے بہت مبالغہ آرائی سے کام لیا کرتے تھے۔ بہت پہلے ، غالباً 1988 کے موسم خزاں میں ایک انگریزی زبان کے جریدے کے دفتر کے باہر صحن میں شغل مے نوشی کرتے ہوئے، آج کے ایک معروف کالم نگار نے جو اپنے کالم میں بھی مے نوشی کا کچھ زیادہ ہی تذکرہ کرتے ہیں، طغرل کے سامنے کہا تھا کہ اس نے وہاں کے دارالحکومت میں ڈن ہل کی ایک سگریٹ کے عوض ایک لڑکی کے ساتھ اختلاط کیا تھا۔ اس غیر منطقی بات پر طغرل کو تھوڑا سا غصہ بھی آیا تھا اور اس نے ان سے کہا تھا،"جناب اس سگریٹ کے ساتھ آپ بھی تھے جس نے وہ سگریٹ اس لڑکی کو پیش کی تھی۔ ممکن ہے آپ اسے پسند آ گئے ہوں"۔ ڈن ہل اور وہاں کی لڑکیوں کا قصہ کہیں دماغ میں چپکا رہ گیا تھا اسی لیے طغرل آتے ہوئے ڈن ہل کے دو بلاک لیتا آیا تھا اور بیسوں ڈبیاں یونیورسٹی کی لڑکیوں میں بانٹ دی تھیں۔ بدلے میں ماسوائے "شکریہ" سننے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔
اس ملک میں کچھ عرصہ گذارنے کے بعد طغرل کو معلوم ہوا تھا کہ اس کے ملک کے لوگوں کی طرح "جنسی عمل" ان لوگوں کے ایجنڈے پر نہیں تھا جس کے بارے میں سوچتے ہوئے، خواب بنتے ہوئے، تخئیل باندھتے ہوئے اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے وہ وقت ضائع کریں۔ سیکس ان کے لیے باقی ضروریات زندگی کی طرح سے ہے، جس سے ملتفت ہونے کی خاطر تگ و دو اور تلاش بسیار کرنا لازمی نہیں۔ بس ایک فریق اگر دوسرے فریق کو پسند کرتا ہے اور دوسرا فریق بھی اس کے لیے مثبت جذبات کا حامل ہے تو جسمانی تعلقات قائم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہ بات نہیں کہ لڑکیاں سب کے آگے بچھی جاتی ہوں اور لڑکے سب لڑکیوں پر ریجھ رہے ہوں۔ وہاں بھی ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی جاتی ہے لیکن محبت کے بارے میں رویہ کسی حد تک عملیت پسندانہ ہوتا ہے جس کا اظہار وہاں کے ایک محاورے سے ہوتا ہے کہ "محبت آتی جاتی رہتی ہے لیکن کھانے کی احتیاج ہمیشہ ہوتی ہے"۔
ان چند ایام میں وہاں کی نوجوان لڑکیوں کے بارے میں طغرل کا جو فوری یا عارضی تاثر بنا تھا وہ یہ کہ نوجوان لڑکیاں زندگی کا لطف اٹھانے سے گریزاں نہیں ہوتی تھیں۔ ان کو اگر شیمپین پینے یا اچھی موسیقی سننے کی دعوت دے دی جاتی تھی وہ اسے بخوشی قبول کر لیتی تھیں۔ پھر دخت رز کے زیر اثر، موسیقی کے شور میں مجبوری کو رضامندی میں بدلنے میں وہ کچھ زیادہ دیر نہیں لگاتی تھیں۔ مگر ایسی لڑکیاں بھی کچھ کم نہیں تھیں جو مردوں کے ہر طرح کے داو¿ پیچ کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو جاتی تھیں۔ اختلاط اور تلذذ کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے دیکھے جانے کا رجحان شاید منافقانہ سماج میں زیادہ ہوتا ہے۔
ایک روز بالآخر طغرل، حسام اور نتاشا کے ہمراہ ہارکوو کے لیے روانہ ہوا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *