پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم موڑ

mirza mujhaid24 دسمبر کو وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں مختلف الفاظ کے ساتھ کہا گیا،" پاکستان اس حق میں نہیں ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے عہدے سے زبردستی سبک دوش کیا جائے۔ پاکستان شام میں غیر ملکی مسلح مداخلت کا مخالفت ہے۔ شام کے مسئلے کا سیاسی حل شام کے عوام کو ہی کرنا چاہیے۔" ملکی اور غیر ملکی مبصرین کو پاکستان کے اس رویے پر اچنبھا ہوا کیونکہ یہ روش امریکہ اور مغرب کے دیگر ملکوں کے موقف سے یکسر مختلف ہے۔
اگرچہ 19 دسمبر کو شام کے معاملے میں دلچسپی رکھنے والے ملکوں بشمول روس اور امریکہ کے اجلاس میں شام کے معاملے کے سیاسی حل سے متعلق جو قرار داد منظور کی گئی تھی اور جس کی بعد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کر دی تھی، اس میں بھی شام کے معاملے کے حل کے ضمن میں بشارالاسد کے فوری طور پر مستعفی ہونے کی بات نہیں کی گئی تھی تاہم امریکہ کی سرکردگی میں مغرب نے اس ضمن میں اپنا رویہ ہرگز تبدیل نہیں کیا ۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے بھی اس قرار داد سے کچھ زیادہ امیدیں نہیں باندھی تھیں البتہ یہ ضرور کہا تھا کہ ایسا کرنا شام کے تصادم کو تمام کیے جانے کی جانب ایک قدم ضرور ہے۔ اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر اندر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری شام میں جنگ بندی کا میکانزم تیار کریں۔ چھ ماہ میں شام کا نیا آئین مرتب کر لیا جائے اور اٹھارہ ماہ بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں شام میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کرا دیے جائیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مذکورہ موڑ میں ایک تو اس قرار داد نے کردار ادا کیا کیونکہ کم از کم اٹھارہ ماہ تک تو شام کے موجودہ صدر بشارالاسد کے مستعفی ہونے کی بات نہیں کی گئی اور اٹھارہ ماہ بعد مجوزہ طور پر کرائے جانے والے انتخابات میں بھی ان کے امیدوار ہونے کو نشانہ قدغن نہیں بنایا گیا لیکن دلچسپ بات ہے کہ سعودی عرب نے 34 ملکوں پر مشتمل جو مبہم اتحاد بنایا ہے پاکستان اس میں شامل ہوتے ہوئے تفصیلات کا منتظر بھی ہے اور ساتھ ہی سعودی عرب کا ساتھی ہوتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے بشارالاسد کی بین مخالفت کے برعکس روش کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی دو آتشہ ہو گئی یعنی امریکی پالیسی سے گریز اور سعودی رویے کی نفی۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے بین الاقوامی معاملات سے متعلق بیانات میں پہلی بار عاقلانہ منطق کا اطہار یقینا اتفاقی نہیں ہے۔ پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر مبصرین نے اس پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کا اظہار ضرور کیا ہے لیکن کسی نے اس بیان کے پس پشت اہم اور بڑے عامل پر غور نہیں کیا۔
یاد رہے چند ماہ پیشتر جب مغرب نے شام میں ممکنہ عسکری کارروائی سے متعلق ایک قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی تھی تو روس کے ساتھ ساتھ چین نے بھی اس قرارداد کو ویٹو کیا تھا۔ حال ہی میں چند روز پیشتر چین کے وزیر خارجہ وان ای کی دعوت پر شام کے وزیر خارجہ ولید معلم بیجنگ گئے تھے جہاں انہوں نے وزیرخارجہ کے علاوہ چین کے وزیر اعظم لی کے سیان اور چین کے رہنما شی جن پنگ سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ ساتھ ہی چین نے شام کی حزب اختلاف کے مسلح دھڑوں کے نمائندوں کو شام کی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ شام کے تصادم کے خاتمے کے ضمن میں مذاکرات کیے جانے کی غرض سے اپنی سرزمین پر مدعو کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 2011 سے پہلے شام کے تیل کی نکاسی پر چین کی اجارہ داری تھی۔ تصادم کے عہد کے دوران اسے 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ مزید نقصان سے بچنے، ہو چکے نقصان کا کچھ حصہ واپس لینے کی کوشش کرنے اور مستقبل کے شام میں اپنا اثرو رسوخ بنائے رکھنے کی خاطر چین براہ راست مشرق وسطٰی کی سیاست کے اس کھیل میں کود پڑا ہے۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی "سمندر سے گہری، ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے شیریں تر" ہے بلکہ پاکستان کو شنگھائی تنظیم تعاون میں مکمل رکن لیے جانے کے عمل کو شروع ہوئے چند ماہ گذر چکے ہیں اور ایک سال کا یہ عبوری وقفہ پورے ہونے میں کئی ماہ باقی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری تھا کہ وہ شام سے متعلق ایسی پالیسی اپنائے جو شنگھائی تنظیم تعاون کے رکن ملکوں بشمول چین و روس کی پالیسی جیسی ہو۔ روس کے دورے سے واپسی پر کسی پیشگی منصوبے کے بغیر ہندوستان کے وزیراعظم کا خیر سگالی کے ضمن میں لاہور کے ہوائی اڈے پر اتر کر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی ذاتی رہائش پر شام کی چائے میں شریک ہونا بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اس مثبت تبدیلی کے باعث ہی ممکن ہوا۔
شام کا مسئلہ محض مشرق وسطٰی کا مسئلہ ہی نہیں ہے اس کے مناسب یا غیر مناسب دونوں طرح کے حل کے پورے خطے بلکہ پورے دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات ہونگے۔ شام کا معاملہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ٹیسٹ کیس تھا جو "شنگھائی تنظیم تعاون" کے درسی ماڈل ٹیسٹ پیپر کی مدد سے پاکستان نے پاس کر لیا ہے کیونکہ پاکستان کو شنگھائی تنظیم تعاون میں لیے جانے کی حمایت چین نے کی تھی اور اس ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو چین نے ہی ڈالا۔
مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکی اثر سے بالکل آزاد ہو چکی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستان نے پہلی بار امریکہ کے مدمقابل چین اور مجموعی طور پرخطے کے قریبی ملکوں کا اس موقف میں ساتھ ضرور دیا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ شنگھائی تنظیم تعاون میں مکمل طور پر شامل ہو جانے سے افغانستان کی پیچیدگیوں اور بھارت کے ساتھ معاندت پر قابو پانا بھی سہل ہو جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *