مردان کا سانحہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا دنگل

mujahid aliآج صبح مردان میں نادرا کے دفتر کے باہر ایک خود کش حملے میں 26 افراد جاں بحق اور 50 کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔ دفتر کے باہر ڈیوٹی پر موجود ایک گارڈ پرویز خان نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی۔ اس لئے اس نے گیٹ پر ہی دھماکہ کر دیا۔ اگر یہ حملہ آور عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا جہاں سینکڑوں لوگ شناختی کارڈ کے حصول کے لئے جمع تھے، تو بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ اس المناک حملہ کے بعد ایک بار پھر ملک بھر میں یہ سوال سامنے آیا ہے کہ ڈیڑھ برس سے جاری آپریشن ضرب عضب کے باوجود اس قسم کا سانحہ کیوں کر رونما ہو سکتا ہے۔ سرکاری طور پر بتایا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑی جا چکی ہے اور قبائلی علاقوں میں ان کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس دعویٰ کے باوجود انتہا پسند گروہ جب چاہیں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ اس اہم سوال کا جزوی جواب آج ہی اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کے دوران سامنے آ گیا ہے۔ اس اجلاس کے دوران کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور کونسل کے رکن اور پاکستان علما کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوئے اور بعد میں پریس کانفرنس کرکے ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کا الزام عائد کرتے رہے۔
ان دونوں میں سے جو بھی سوچ بول رہا ہو لیکن اس ہاتھا پائی اور بدکلامی سے یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ جس ملک کے عالمان دین دلیل کی بجائے جسمانی قوت کا مظاہرہ ضروری سمجھتے ہوں، وہاں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مزاج سازی کا کام کیوں کر سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے۔ حکومت ملک کے مختلف طبقہ ہائے فکر کے چیدہ چیدہ علما کو اس کونسل میں نامزد کرتی ہے تا کہ وہ ملک و قوم کو درپیش مسائل کے بارے میں رہنمائی کا رول ادا کر سکیں۔ اس طرح یہ امید قائم کی گئی تھی کہ دینی اور فقہی معاملات پر اختلافات کو ہوا دینے اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کی بجائے مختلف الخیال علما مل جل کر ایسے حل تجویز کریں گے جن کی روشنی میں قوم متحد ہو سکے گی اور قومی اسمبلی ان رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے مناسب قانون سازی کر سکے گی۔
اگرچہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کبھی بھی یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے مثبت کردار ادا نہیں کیا لیکن اس کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں تسلسل سے اس قسم کے موضوعات پر گفتگو کی جا رہی ہے جو اختلاف ، افتراق اور انتشار کا سبب بن رہے ہیں۔ تاہم آج کے اجلاس میں چیئرمین اور کونسل کے ایک معزز رکن کے درمیان جو واقعہ پیش آیا ہے اس سے ان لوگوں کی ذہنی سطح اور فکری استعداد کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ عین اس وقت جب قوم مردان میں خود کش حملہ کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر غمزدہ تھی اور امدادی ورکر مرنے والوں کی لاشیں اٹھانے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف تھے، ملک کے نام نہاد عالم گالم گلوچ ، الزام تراشی اور ہاتھا پائی کے ذریعے یہ پیغام دے رہے تھے کہ انہیں اپنے گرد و نواح میں رونما ہونے والے واقعات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ وہ اس بات سے بھی لاپرواہ اور بے خبر ہیں کہ یہ ملک اور اس میں آباد لوگ گزشتہ ایک دہائی سے جن عناصر کی چیرہ دستیوں اور ہلاکت خیزی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، وہ اسی قسم کے عالموں اور مذہبی پیشواو¿ں کی درس گاہوں سے تعلیم اور تربیت حاصل کر کے نکلتے ہیں اور جب کوئی اس طرف اشارہ کرنے کا حوصلہ کرتا ہے تو یہ سارے دین فروش خونخوار انداز میں ان آوازوں کو دبانے کے لئے برسر جنگ ہوتے ہیں۔
آج مردان میں مرنے والوں کا لہو حکومت اور اہل پاکستان سے یکساں طور سے تقاضہ کر رہا ہے کہ دین کے نام پر گمرہی کا پیغام اس وقت تک مسترد نہیں ہو سکتا جب تک ہم نیم پختہ ، متعصب ، گمراہ اور مفاد پرست مولویوں سے بہتری اور رہنمائی کی توقع لگائے رہیں گے۔ آج کے اجلاس میں شروع ہونے والا تنازعہ مبینہ طور پر ملک میں آباد احمدی فرقہ کی حیثیت کو دوبارہ زیر بحث لانے کے سوال پر شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلہ پر ملک کے مذہبی ٹھیکیداروں کو مطمئن اور خوش کرنے کے لئے ستمبر 1974 میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو اقلیت قرار دیا تھا۔ اس طرح یہ معاملہ آئین کی حد تک طے ہو چکا ہے۔ تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین جو جمعیت علمائے اسلام (ف) کی طرف سے قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں، اس معاملہ کو دوبارہ موضوع بحث بنانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینا کافی نہیں ہے بلکہ اس سوال پر بھی غور ہونا چاہئے کہ کیا احمدی مرتد ہیں یا نہیں۔ مرتد کے حوالے سے جو تفہیم اس وقت پاکستان میں عام ہے، اس کے تحت ایسا شخص واجب القتل ہے۔ توہین مذہب کے قوانین کے تحت پاکستانی سماج میں انتہا پسند ملاو¿ں اور مفاد پرست شہریوں نے اپنے طور پر ’ انصاف ‘ کرنے کا جو چلن اپنایا ہو¿ا ہے، اس کی بنا پر یہ اندیشہ موجود ہے کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل جیسا ادارہ اس بارے میں کوئی رائے دے گا تو اس پر قانون اور آئین میں ترمیم سے پہلے ہی اسلام کے محافظ اپنے طور پر ہمسایوں اور محلے داروں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے۔
مولانا محمد خان شیرانی اس بحث کو صرف احمدیوں تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ وہ تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملک کے مختلف مذہبی فرقوں کے نظریات کی چھان پھٹک کرنے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل یہ فیصلہ بھی کرے کہ ان میں سے کون کون دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ انتشار اور بدامنی پیدا کرنے کا ایک ایسا رویہ ہے جو اس معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی اور اس کے نتیجہ میں دہشت گردی کو جنم دے رہا ہے۔ ایک ایسا آئینی ادارہ جسے وسیع المشربی ، تفہیم اور امن عام کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے، اب اسے فتوے جاری کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج جو دھینگا مشتی کونسل کے اجلاس میں ہوئی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا شیرانی جیسے لوگ یہ فساد گھر گھر اور محلے محلے میں برپا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود نہ حکومت کے کان پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی ملک کے علما و زعما اور مذہب کے نام پر پرتعیش زندگی گزارنے والے مشائخ اس افسوسناک رویہ کو ختم کرنے کے لئے آواز بلند کرتے ہیں۔
یہ آواز بلند ہوتی ہے تو ممتاز قادری جیسے قاتل کی حفاظت کے لئے یا دہشت گردوں کو بے گناہ بتانے کے لئے یا حکومت کو یہ دھمکی دینے کے لئے کہ اگر مدرسوں میں اصلاح کرنے کی بات کی گئی تو وہ ان مدرسوں میں پرورش پانے والے ’ شیرانیوں‘ اور ’ اشرفیوں‘ کو سڑکوں پر لا کر حکومت کا ناطقہ بند کر دیں گے۔ آج مردان میں خود کش دھماکے اور ملک کے مسلمہ ملاو¿ں کی بدکلامی سے صرف یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپریشن ضرب عضب صرف دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر سکتا ہے یا نشانہ پر آئے ہوئے مجرموں کو ہلاک کر سکتا ہے لیکن اس کے مقاصد حاصل کرنے اور ملک میں مکمل امن بحال کرنے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے ، وہ صرف قومی ایکشن پلان کے تحت کئے گئے وعدوں پر عمل کر کے ہی پورے ہو سکتے ہیں۔ ان اصولوں ہی کا تقاضہ ہے کہ ان تربیت گاہوں کا سدباب کیا جائے جو دین کے نام پر فرقہ پرستی ، نفرت اور تعصب عام کر رہی ہیں۔ دینی مدرسوں کے جو جو علمبردار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مدرسوں کی تطہیر سے اسلام خطرے میں پڑ جائے گا، انہیں آج اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کی بحث اور بعد میں سر پھٹول کے مناظر کو دیکھ کر اپنی رائے تبدیل کرنی چاہئے۔ انہیں جان لینا چاہئے کہ مدرسے جو مزاج اور عالم پیدا کر رہے ہیں، وہ فی الوقت نفرت اور انتشار عام کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ لیکن دہشت گردی ، فتویٰ بازی اور قانون شکنی کے ذریعے وہ اس مقدس پیغام کے لئے تہمت بن جائیں گے جسے سلامتی اور امن کا مذہب کہا جاتا ہے۔
اکثر یہ سوال سننے میں آتا ہے کہ جب یہ بات واضح ہے کہ اسلام قتل و غار ت گری کو مسترد کرتا ہے اور مسلمان امن اور محبت کے داعی ہیں تو دنیا اس پر یقین کیوں نہیں کرتی۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ دنیا باتوں پر نہیں، عمل پر یقین کرے گی۔ جب مسلمانوں کے ہاتھ میں تلواریں اور زبان میں زہر کے نشتر ہوں گے تو دیکھنے والے بیان کئے گئے احکامات اور پیغام پر غور کریں گے یا اپنے مشاہدے پر یقین کریں گے۔ ہمارے امن پسند دین کے نمائندے خونخوار اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، وہ امن کی ترویج کیوںکر کر سکتے ہیں۔ اگر اس میں بارے میں کوئی شک تھا تو اسے آج پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس نے رفع کر دیا ہے۔
پاکستان کی حکومت اگر قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہے اور ملک سے نفرت کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے تو آج کے مظاہر کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی ہیئت اور رول تبدیل کرنے کے لئے آئینی ترمیم لائی جائے۔ اور فوری طور سے مولانا شیرانی کو اس کی سربراہی سے علیحدہ کر کے اس ادارے کو مناسب قانونی و آئینی کارروائی تک کام سے روکا جائے۔ بصورت دیگر قیام امن اور دہشت گردی ختم کرنے کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکیں گے۔ قومی ایکشن پلان نیم خواندہ ملاو¿ں اور مفاد پرست سیاستدانوں کے دل بہلانے کا کھلونا بن کر رہ جائے گا۔ اس دوران مردان کے پرویز خان کی طرح لوگ اپنے ہم نفسوں کو بچانے کے لئے جان قربان کرتے رہیں گے۔ شہیدوں کا لہو انصاف کے لئے پکارتا رہے گا مگر مصلحتیں اور مفاد اس کا راستہ روکنے میں سرگرم رہیں گے۔

مردان کا سانحہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا دنگل” پر بصرے

  • دسمبر 30, 2015 at 3:16 AM
    Permalink

    مجاہد صاحب آپ نے ہمارے دل کی بات کہہ دی. . آپ کی سلامتی کے لیے دعا گو ہوں

    Reply
  • دسمبر 30, 2015 at 4:04 AM
    Permalink

    یہ کونسل وقت ، پیسے کا زیاں اور ملکی امن کے لیے خطرہ ہے اسکو ختم کیا جائے

    Reply
  • جنوری 5, 2016 at 3:30 PM
    Permalink

    Students groups like ATI, PSF, MSF and Political Groups like PMLN, PMLQ, PTI, PPP also quarreling. May we ban these in the light of your column. You are the person who seen the protests for Khatam e Nabowat in 1974 in which all the nation including (sunni & shia) along with ulama were present, then how you can say that Battho Marhom declared qadiyani’s as minority for the satisfaction of ulama. Where as you also know that Battho Marhom was not molvi.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *