ہوا میں اڑتے ہوئے پتے (6)

mujahid Mirza 02تھوڑا سا آرام کرنے کے بعد طغرل اور حسام شہر دیکھنے نکل گئے تھے۔ شہر تھا تو چھوٹا مگر بھلا لگتا تھا۔ پرانے زمانے کی عمارات خاصی زیادہ تھیں اور ہریالی بھی بہت تھی۔ لوگ ملنسار تھے۔ وہ دونوں واپسی پر سڑک کے کنارے بنی بار کے باہر کھڑے ہو کر بڑے بڑے مگوں میں ڈرم سے "انڈیلی ہوئی بیئر" پینے لگ گئے تھے۔ ڈیڑھ ڈیڑھ لٹر پینے کے بعد آپس میں بحثنے لگے تھے۔ نانی کے گھر تک پہنچتے پہنچتے حسام طیش میں آ چکا تھا جس کی چبھتی ہوئی باتوں کا جواب طغرل اس سے بھی زیادہ چبھتی ہوئی باتوں کے ساتھ دے رہا تھا۔ اس نے طغرل سے کہا تھا،"مجھے مارو" مزید اونچے لہجے میں پھر کہا تھا،"مجھے مارو"۔ یہ انگیخت تھی کہ طغرل اسے مارے تو وہ اس سے الجھ پڑے۔ پھر یہی ہوا تھا، وہ دونوں ایک بار پھر دست و گریبان ہو گئے تھے۔ مدہوشی میں ہونے والی یہ باہمی لڑائیاں ایک تو ان کے دبے ہوئے کمپلکسز کا اظہار تھیں دوسرے طغرل کی ثقافتی عدم ہم آہنگی کا پرتو بھی جس سے حسام کو چڑ ہونے لگی تھی کیونکہ وہ یہاں کے ماحول میں رچ بس چکا تھا۔ نتاشا نے بالکونی سے انہیں لڑتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور وہیں سے " خسام ، خسام" ( یہ لوگ ہ کو خ بولتے ہیں) چیخنے لگی تھی۔ اس کی چیخ و پکار سنتے ہی وہ دونوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے شیر و شکر گھر لوٹ آئے تھے۔
شام کو انہیں نتاشا کی ماں کے ہمراہ دیہات جانا تھا۔ تب تک ان کا نشہ اتر چکا تھا اور وہ اس خاتون کے ہمراہ مضافاتی ریل گاڑی میں بیٹھ کر ایک دور کے دیہاتی سٹیشن پر اتر کر خاصی دیرتک پگڈنڈیوں پر پیدل چلنے کے بعد ایک گھر میں پہنچے تھے۔ یہ گھر قدیم طرز کا ، لکڑی سے بنا ہوا گھر تھا، جس میں ایک ہال اور دو کمرے تھے۔ نتاشا کی ماں کا نام رایا یعنی رئیسہ تھا۔ عام شکل و صورت کی اڑتیس چالیس برس کی خاتون تھیں۔ رات کو کھانے پینے کا سلسلہ خاصی دیر تک چلتا رہا تھا پھر طغرل کو سونے کے لیے ایک کمرے میں بھیج دیا گیا تھا۔ وہ اس لیے بھی جلدی اٹھ کر چلا گیا تھا کہ باقی لوگ آپس میں رشتے دار تھے انہوں نے علیحدگی میں بھی اپنی باتیں کرنی تھیں۔
سونے سے پہلے طغرل کو رفع حاجت کی خاطر ارد گرد بکھرے گھنے جنگل میں جانا پڑا تھا۔ زمین پر اکڑوں بیٹھنے کے دوران کوئی چیز اس کے ننگے سرین سے مس ہوئی تھی۔ اسے یک لخت شدید چبھن کا احساس ہوا تھا پھر اندر کے گوشت میں خاصی جلن ہونے لگی تھی۔ اندھیرا تو نہیں تھا لیکن ملگجا پن خاصا گہرا تھا۔ چبھن سے وہ ڈر گیا تھا کہ کہیں سانپ نے ہی نہ ڈس لیا ہو مگر جب جلن ہوئی تو اسے لگا تھا کہ شاید کوئی کیڑا تھا جس کے کاٹنے یا مس ہونے سے الرجی کی وجہ سے جلن ہو رہی تھی۔ جب گھر آ کر اس نے اس خدشے کا ذکر کیا تھا تو وہ سب ہنس دیے تھے تھے۔ نتاشا کی والدہ نے کہا تھا جس کا حسب معمول حسام نے ترجمہ کیا تھا کہ اسے "کرا پیوا" کے پتے لگ گئے تھے۔ چوڑے پتوں والا یہ خود رو پودا ہر جگہ ہوتا ہے جس سے بدن کے کسی کھلے حصے کے مس ہوتے ہی شدید جلن کا احساس ہوتا ہے جو چند منٹوں میں خود بخود رفع ہو جاتی ہے۔
رات کو کسی وقت طغرل کی آنکھ کھلی تھی تو دیکھا تھا کہ اس کمرے میں ایک دوسرے بستر پر نتاشا کی ماں سوئی ہوئی تھیں۔ ایک تو رات کی شراب کا خمار، دوسرے سوویت یونین کی خواتین کے بارے میں ابتدائی اور غلط تصور کہ ان میں سے کوئی بھی دست درازی کا جواب اثبات میں ہی دے گی، طغرل نے بھی اس نوع کی حرکت کرنے کی غلطی کی تھی جس پر اس خاتون نے بڑے رساو¿ سے اس کے بستر کی جانب اشارہ کرتےے ہوئے اسے وہاں واپس جا کر سو رہنے کو کہا تھا اور طغرل بھی کسی خجالت میں مبتلا ہوئے بغیر جا کر سو گیا تھا۔
صبح کو ناشتے کے بعد جب سب اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے تو غالباً نتاشا نے یا شاید حسام نے کہا تھا کہ رات آپ نے رایا کے ساتھ دست درازی تو نہیں کی؟ جس سے ظاہر ہے طغرل نے انکار کیا تھا جبکہ نتالیا کی ماں کے کانوں کی لویں تھوڑی سی سرخ ہو گئی تھیں۔ سامنے رکھے ہوئے کسے گئے ترش کھیروں کے مرتبان کا ڈھکن ، اندر پیدا ہونے والی گیس کے زور پر ٹھک کی آواز کے ساتھ کھلا تھا جس پر کسی نے کہا تھا کہ دیکھا ہماری بات درست تھی، تم نے دست درازی ضرور کی ہوگی تبھی تو قدرت نے تائید کر دی ہے۔ اس پر سب قہقہہ مار کر ہنس دیے تھے۔
شام کو وہ نانی کے ہاں شہر لوٹ آئے تھے۔ ایک بار پھر نانی کی تیار کردہ ہریلکا آگ لگانے کے لیے استعمال ہوئی تھی۔ نانی پہلے تو اپنی زندگی کی داستانیں سناتی رہی تھیں جن میں یہ کہانی بھی شامل تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنوں نے کس طرح ان کے گاو¿ں میں قتل عام کیا تھا اور اسے بھی مرے ہوئے لوگوں کے ڈھیر میں مردہ جان کر چھوڑ گئے تھے، پھر کس طرح وہ لاشوں کے نیچے سے نکل کر بھاگی تھیں۔ یک دم ہریلکا کی آگ نے نانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ انہوں نے دوسرے کمرے میں جا کر کپڑے اتار پھینکے تھے اور یوکرینی زبان میں بلند آواز میں مرد کی خواہش کے بین ڈالنے لگی تھیں۔ نتاشا انہیں زبردستی کپڑے پہنانے کی کوشش کر رہی تھی ساتھ ہی قہقہے بھی لگا رہی تھی جن میں بعض اوقات جھلا کر چلانے کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔
اگلے روز انہیں نتالیا کی نانی کے بھائی کی دعوت پر نزدیک کے ایک گاو¿ں جانا تھا۔ میہائیل گاو¿ں کا معتبر شخص تھا اور گاو¿ں میں اس کا بھرا پرا گھر تھا۔ جب وہ وہاں جا رہے تھے تو حسام نے طغرل سے کئی بار کہا تھا کہ جناب میری عزت کا پاس رکھنا۔ میں نے ان لوگوں سے، جن کے ہاں ہم جا رہے ہیں آپ کا تعارف اپنے بڑے بھائی کے طور پر کرایا ہوا ہے۔ بار بار پوچھنے پر بھی حسام نے اس فقرے کے اسرار سے پردہ نہیں اٹھایا تھا بس اتنا کہا تھا کہ آپ وہاں جا کر خود جان لیں گے کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں۔
جب وہ میزبان کے گھر پہنچے تو پہلے ہی ایک بڑی سی میز پر سامان خورد و نوش بمع طرح طرح کی شراب کی بوتلیں سجائی جا چکی تھیں۔ ابتدائی تعارف کے بعد طغرل اور حسام ان کے چند نوجوانوں کے ہمراہ ان کی "لادا" کار میں تھوڑی دور ایک کھیت میں گئے تھے جہاں وہ لوگ کچھ تعمیر کر رہے تھے۔ طغرل نے سوشلزم کا حامی ہونے کے جذبے کے تحت تعمیر کے کم میں ان کا ہاتھ بٹانا چاہا تھا۔ اس نے علامتی طور پر پہلے سے لگائے گئے اینٹوں کے ایک ردے پر بچھائے گئے گیلے سیمنٹ پر اپنے ہاتھ سے کچھ اینٹیں چن دی تھیں جس پر وہ لوگ بہت شاد ہوئے تھے۔ اس خوشی کو منانے کی خاطر انہوں نے جھٹ سے وادکا کی بوتل کھول لی تھی اور ایک اخبار بچھا کر اس پر کھیرے ٹماٹر کاٹ کر رکھ دیے تھے جن کے ساتھ برفی نما شے کے کچھ ٹکڑے بھی تھے۔ سو گرام یعنی ایک سو ملی لٹر وادکا چڑھانے کے بعد، منہ کی کڑواہٹ دور کرنے کی خاطر طغرل نے "یوکرینی برفی" منہ میں رکھنا چاہی تھی۔ حسام آنکھوں سے اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا مگر طغرل اس کی آنکھوں کی زبان سمجھنے سے قاصر رہا تھا اور ہاتھ میں اٹھایا ٹکڑا منہ میں ڈال لیا تھا۔ ٹکڑے کو دانتوں سے دباتے ہی اسے سمجھ آ گئی تھی کہ یہ برفی نہیں بلکہ سور کی چربی ہے، جسے "سالا" کہا جاتا ہے۔یوکرینیوں میں وادکا کے ساتھ اس شے کا استعمال بے حد مرغوب ہے۔ اس نے اسے فوراًتھوک دیا تھا اور پھر تھوکتا ہی رہا تھا۔ وہاں موجود نوجوان اس کی بنی ہوئی شکل دیکھ کر ہنس ہنس کر دہرے ہو رہے تھے۔ اس نے سوچا تھا کہ ہم جیسے نام نہاد مسلمان شراب تو بڑے آرام سے پی لیتے ہیں کیونکہ وہ جلدی سے حلق سے نیچے اتر جاتی ہے لیکن سور کا گوشت اور چربی چبانے اور نگلنے کا کام ہم سے اکثر نام نہاد مسلمان بھی نہیں کر سکتے۔
بعد میں وہ میہائیل کے گھر میں کھانے کی میز کے گرد جمع ہوئے تھے۔ اس کے بیٹے بیٹیوں، دامادوں، بہووں کو ملا کر میز کے گرد کوئی تیرہ افراد تھے۔ باری باری سب نے طغرل کے نام کا ٹوسٹ بولنا شروع کیا تھا۔ پانچ چھ جام چڑھانے کے بعد طغرل کو حسام کا کہا ’عزت کا پاس رکھنا‘والا فقرہ سمجھ آ گیا تھا۔ وہ طغرل کی بے تحاشا تعظیم کر رہے تھے چانچہ اسے شراب پینے میں ’مردانگی‘ کا مظاہرہ کرنا تھا۔ ہر بار بولے گئے ٹوسٹ کے بعد کھڑے ہو کر ایک ہی گھونٹ میں جام چڑھانا پڑ رہا تھا۔ نویں جام کے بعد ہی طغرل نے حسام سے منت کرنا شروع کر دی تھی کہ یار بچاو¿ لیکن وہ اس کا ہاتھ دبا کر چپکے سے اسے برداشت کرنے کی تلقین کر دیتا تھا۔ چودھواں ٹوسٹ طغرل کو ان لوگوں کی تعظیم و تشکر کے ضمن میں خود بولنا تھا۔ اسے نہیں معلوم کہ اس نے وہ ٹوسٹ کس طرح بولا تھا اور پھر کس طرح اپنے پاو¿ں پر چلتا ہوا کار تک پہنچا تھا اور اس میں ڈھیر ہو گیا تھا۔
شراب ان لوگوں کی زندگی کے ہر انگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ کوئی پیدا ہوا ہے، شراب پی جائے گی۔ کوئی مر گیا ہے، شراب پی جائے گی۔ کوئی خوشی ہے تو شراب، کوئی دکھ ہے تو شراب۔ آپ بیمار ہیں تو صحت یاب ہونے کی خاطر شراب پییں اور اگر صحت یاب ہو گئے ہیں تو اس کی خوشی منانے کے لیے شراب پییں۔ نزلہ زکام ہو گیا ہے تو علاج کے لیے شراب، تھک گئے ہیں تو تھکاوٹ دور کرنے کے لیے شراب، غرض ہر عمل وادکا سے مربوط ہے۔ اس بارے مین ایک لطیفہ بھی ہے کہ ایک جگہ ایک امریکی، ایک برطانوی اور ایک روسی بیٹھے کام کے دنوں کی تعداد بارے بات کر رہے تھے۔ امریکی نے کہا ہم ہفتے میں پانچ روز کام کرتے ہیں ، برطانوی بولا بھئی ہم تو چھ روز بھی کام کر لیتے ہیں، روسی نے انکشاف کیا کہ ان کے ہاں صرف بدھ کے روز کام ہوتا ہے۔ امریکی اور برطانوی حیران ہو کر اس سے پوچھتے ہیں، ’وہ کیسے؟‘۔ روسی کہتا ہے: جمعرات کو ہم اس احساس سے پی لیتے ہیں کہ کل سے ویک اینڈ شروع ہوگا۔ جمعہ کو چونکہ ہفتہ اتوار کو پینے کی خاطر شراب خریدتے ہیں اس لیے پی بھی لیتے ہیں۔ ہفتہ اتوار تو چھٹی ہوتی ہے چنانچہ ہم پیتے رہتے ہیں۔ بہت پی لینے کی وجہ سے چونکہ سوموار کے روز طبیعت خراب ہوئی ہوتی ہے اس لیے چڑھی شراب اتارنے کے لیے پی لیتے ہیں۔ منگل کو اس غم میں پی لیتے ہیں کہ کل کام کرنا پڑے گا البتہ بدھ کو کام بہر طور کرنا پڑتا ہے۔
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *