بیانئے کی تبدیلی سے دہشت گردی کا خاتمہ

fida hussainبرادر محترم جمشید اقبال صاحب کا معلومات سے بھر پور کالم ’بیانئے کی تلاش‘علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ حیرت میں اضافے کابھی موجب بنا۔ انہوں نے گیارہ ستمبرکے واقعے سے پہلے اور بعد میںاسلام ،امن اور جنگ کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد کا موازنہ جس انداز میں کیا ہے وہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے انہوں نے اپنے مضموں میں سب سے زیادہ اعترض اس وقت عمومی طور پر بولا جانے والا جملہ "کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا " پرکیا ہے۔ انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے اس جملے کو قرون وسطیٰ کی کلیسائی طرز فکر سے مماثل ثابت کرنے کوشش کی ہے۔ اس کالم کا تنقیدی جائزہ لینے سے پہلے صرف اتنا عرض ہے کہ ’مسلمان ایسا نہیں کر سکتا‘ کا مطلب اگر تمام مسلمانوں کومعصوم تصور کیا جائے تو یقینا غلط ہوگا۔ اس لئے ناچیز کی رائے یہ ہے کہ اس کا مطلب دہشت گردی جیسی مذموم حرکت کا اسلامی تعلیمات سے لاتعلقی اور دہشت گردوں سے بیزاری کا اظہار ہے۔ کیونکہ اسلام نے عام حالات کی علاوہ جنگی میدان میں بھی کچھ اصول متعین کر رکھے ہیں جس کی پیروی لازمی ہے۔اس لیے ہمیں مسلمانوں کے طرز عمل اور اسلامی تعلیمات کو الگ الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر کربلا کی تپتی ریت پر اپنے پورئے خانوادے کو قربان کرنے والے نواسہ رسول ؓ جن کےلئے ان کے نانا ﷺ نے اپنے سجدے کو طویل کیا تھا وہ بھی مسلمان تھے اور اسی خاندان کے چھ ماہ کے بچے تک کی جان لینے سے باز نہ آنے والا بھی مسلمان۔ مگر فرق صاف ظاہر ہے۔
اگر ان کے اعتراض کا محور صرف یہاں تک ہوتا تو میں اس پر جواب لکھنے کی گستاخی ہرگز نہ کرتا کیونکہ مجھے جس طرح اپنی کم مائیگی کا احساس ہے اوراسی طرح فاضل کالم نگار کے وسیع المطالعہ ہونے اور قلم پر گرفت کا بھی اعتراف ہے اس کے باوجود محترم کی جانب سے موجودہ دہشت گردی کو اسلام کی توسیع پسندانہ عسکری و سیاسی تشریح کو قرار دینے پر حیرت زدہ کر دیا ۔ انہوں نے اپنے کالم میں مسلمان ایسا نہیں کر سکتا والے جملے کو صدائے فرار قرار دیتے ہوئے دہشت گردی سے مسلمانوں کے مکمل تعلق سمجھنے کوفسادبھی قرار دیا۔ راقم کو اس جملے میں فساد والے حصہ سے مکمل اتفاق ہے۔ صدائے فرار والی بات سے کچھ اختلاف ہے۔ راقم کے خیال میں ‘مسلمان ایسا نہیں کر سکتا‘ کا مطلب سارے مسلمانوں کو بے گناہ ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ دہشت گردی سے بیزاری اور اظہاربرات ہے اورمذکورہ جملے سے دیگر مذاہب کے ماننے والوںکو شرکا منبع قرار دینے کا مطلب نکالنا بھی منطق کے اصول کی رو سے درست نہیں ہے۔ زید کو سچا قرار دینے کی صورت میںبکر کاجھوٹا ہونا لازم نہیں آتا۔اسلام کی توسیع پسندی میں کسی قسم کی جنگ کے کردار کو تسلیم کرنا ناچیز کے لئے انتہائی مشکل امر ہے ہمارا ماننا ہے کہ اسلام کے فروغ میں کسی جنگجو کا کوئی کردار نہیں ہے۔جن علاقوں میں اسلام پہنچنے کے بعد اسی دین کے ساتھ ابھی تک وابستہ لوگوں کے خطوں میں برصغیر بھی ایک ہے جہاںپر صوفیاءکرام کا کردار کس سے مخفی ہے ؟اگر حضرت عبداللہ شاہ غازی، حضرت بہاوالدین ذکریا، حضرت شاہ شمش تبریز، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر، حضرت شاہ رکن عالم ،حضرت سچل سرمست، حضرت سا ئیں سہیلی سرکار، حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی، حضرت شاہ عبد الطف بھٹائی ،حضرت بری امام،حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت خواجہ بختیار کاکی اور درجنوں اولیاءاللہ میں سے کسی نے اسلام کی توسیع پسندانہ خیالات کے مطابق کہیں پر جنگ کی ہے تو ضرور علم میں اضافہ کیجیے۔ اگر اسلامی تاریخ میں ایک طرف طارق بن زیاد کے کشتی جلانے کا واقعہ موجود ہے تو دوسری طرف چراغ بجھا کر اپنے ساتھیوں کو جانے کی مکمل اجازت دینا بھی اسی اسلامی تاریخ کا ہی حصہ ہے۔
اس بیانئے سے جنگ ہی جنم لینے کا خدشہ دہشت گردی سے اظہار برات کے بجائے مسلمانوں کو کلی طورپرذمہ دار قرار دینے کی غیر ارادی اور نادانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے کیونکہ فاضل کالم نگار کی اپنی زبان میں طاقتوار بنانیہ کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہوتا۔ ا سی بیانئے کے زور پر نیٹو نے امریکی قیادت میں افغانستان اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ بظاہر امن کی خواہش لے کر افغانستان اور عراق میں وارد ہونے کے مقصد میں کامیابی تو دور بلکہ ان خطوں میں پہلے سے زیادہ خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اور اسلام کی توسیع پسندانہ عسکری و سیاسی تشریح کودہشت گردی کے وجہ قرار دیناآپ کو ہمیشہ مجرم سمجھنے کا مترادف ہے۔ اپنے دین کی توسیع کی خواہش تو ایک فطری امر ہے تاہم اس دین فطرت میںتلوار کے زور پر کسی کو دین میں شامل کرنے کااسلام روادار نہیں ہے۔ ورنہ آج مغرب خاص کر امریکہ میں اسلام تیزی سے پھیلانے والا دین ہرگز نہ ہوتا اوراسلام کا عسکری مقصد بنیادی طور دفاعی نوعیت کی ہے۔
فاضل کالم نگار دہشت گردوں کو مسلمان تسلیم کرنا مسئلے کی حل کےلئے لازمی قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا کرنا تنازعے اور مسئلے کے وجود کو تسلیم کرنا ہے۔اسلام نے کبھی تمام مسلمانوں کوبے گنا ہ قرار نہیں دیا ہے ورنہ حضرت علی کسی معاشرے کے وجود کےلئے کفر کی نسبت ظلم کوزیادہ خطرہ ہرگز قرار نہ دیتے ۔ اور نہ خود کسی یہودی کے دعوے پر عدالت میں حاضر ہوتے ۔اسلام نے اچھی بات کی تائید کرنے اور بری بات سے اجتناب کرنے تلقین کی ہے اسی طرح اسلام نے گواہی کے بارے میںاصول متعین کرتے ہوئے حکم دیا ہے گواہی دو، چاہے اپنے یا اپنے عزیز و اقارب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
فاضل کالم نگار کی زخم کو زخم سمجھنے کی خواہش یقینا لائق تحسین ہے تاہم دہشت گردی جیسے گمبھیر اور پیچیدہ مسئلے کے حل کےلئے صرف بیانیہ تبدیل کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے بنیادی وجوہات پر غور ضروری ہے حال ہی میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والی اسلامی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے سلسلے میں راقم کو پاکستان کے سابق سیکریڑی خارجہ شمشاد احمد سے گفتگو کاموقع ملا تو انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے کے حل کےلئے دیگر تجاویز کے علاوہ معاشرے میں موجود معاشی ناہمواری دور کرنے کو بھی لازمی قرار دیا ۔ ان معاشی ناہمواریوں کا شکار لوگوں میں صحافی سر فہرست آتے ہیں تو آخری سوال یہی ہے کہ کیا ہمارے دانشور اور پالیسی سازوں کے پاس اس طرف توجہ دینے کے لئے کچھ وقت ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *