پتھراو

خبر کی چوٹ شاید پتھر کی چوٹ سے بھی گہری ہوتی ہے اور انہیں سن کر انسان پتھر ا جا تا ہے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے ایک خبرہے کہ ورجینا کی ٹریساہر ہفتہ تین پاؤنڈ پتھر کھا تی ہے اور سنا ہے کہ وہ گھر کے قریب والی چٹان چٹ کر چکی ہے ۔ چنانچہ اس نے ایک بڑی وہیل کھانے کا ’’سنگ میل‘‘ بھی عبور کر لیا ہے۔ایک سو دس کلو کی یہ دھان پتھران دوشیزہ کے دوبچے اب بڑے ہوچکے ہیں اور ان کے وہ زخم بھی اب بھر چکے ہیں جو انہیں ایک دشت کی سیاحی میں ان اجسام پر لگے تھے۔ گھر کے چولہے کا محافظ یعنی شوہرجب اس کے طعام کے لئے پتھر اکٹھے کر رہا ہوتا ہے تو بچے باپ سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ پاپا’’ جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ حالانکہ پتھروں کا ایک اپنا خاندان ہوتا ہے لیکن اسے یہ باور کرا دیا گیاہے کہ اس کی بیوی صرف تازہ پتھر کھاتی ہے خاندانی نہیں۔ٹریسا ایک دن تو کیا ایک پہر پرانا پتھر بھی کھا لے تو وہ الٹا اپنے شوہرکا ہاضمہ خراب کر دیتی ہے اور اگر اس کا اپنا حاضمہ واقعی خراب ہو جائے توفیروزہ ، نیلم یا پکھراج سے کم آرام کہاں پڑتا ہو گا ۔اس کا خاونداسےstone کھاتے دیکھ کر astonishنہیں ہوتااور اسے’’ لو یو ‘‘ کی بجائے Lava youکہتا ہے۔اس بھاری کام کی وجہ سے تین بوائے فرینڈ بھاگ چکے ہیں لیکن اب کے والے پکے خاوند کا دل بھی پتھر کا ہو چکا ہے اور ان کی آپس میں انڈرسٹینڈنگ قدرے بہتر ہے ایک ایسی ہی آنجہانی موحومہ کی قبر کے کتبے پر لکھا تھا ’’بس مذاق ختم اب مجھے باہر نکالو‘‘اپنے خاص کھاجے سے پہلے یہ بڑا اہتمام کرتی ہے اور ساتھ روک اینڈ رول میوزک چلا تی ہے ۔راک اینڈ رول گانے کی وہ قسم ہے جس میں گلوکار پر اگر پتھر برسائے جائیں تو وہ مزید اچھا گانے کی کوشش کرتا ہے ۔یہ بڑی اصولی عورت ہے اگر اس کا خاوند کبھی بھولے سے کسی بوری یا تھیلے میں میں اس کا کھاجہ لائے تو وہ کبھی اسے منہ نہیں لگاتی اور وہ پتھر پڑے پڑے وہیں خراب ہو جاتے ہیں کیونکہ اس نے باہر سے پتھر لانے کے لئے ایک بڑا لنچ باکس رکھا ہوا ہے۔جو پتھر تناول کے بعد بچ رہیں تو انہیں protocholکے طور پر فرج میں رکھنا پڑتا ہے پتھروں کے اس معاملے میں نہ صرف اس کے دانت مضبوط ہوئے بلکہ انہیں تو ڑ ٹوڑ کر بازوبھی مضبوط ہو چکے ہیں۔ اب اسے پیار سے مسز آرم سٹرانگ بھی کہا جانے لگا ہے۔اگر یہ بھارت میں ہوتی تو شاید گائے کے گوشت کے ساتھ اسے گرینائٹ پر پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑتا۔ اگر خاوند غلطی سے کسی پھل وغیرو کی بابت اشارے سے پوچھ لے یعنی? bananaتو وہ دودفعہ’’ ب نانا‘‘ کہہ کر مذاق اڑاتی ہے صاف نا کر دیتی ہے۔ اس کا معدہ یوں سمجھ لیں کہ ایک امریکی مجنوں بنا پھرتا ہے جس کا ایک سِرا براہ راست پتھر وں کے رحم و کرم پر ہے۔ خاوندجم وائڈنر تو بیچارا نصیبوں کے پتھر چاٹ رپا ہے مگر اب وہ بھی ٹھوکریں کھا کر خاصا گول ہو چکا ہے۔سنگ مر مر کو سنگترے کی طرح چوس کر دیکھتے ہوئے اس کا خاوند سوچ رہا ہوتا ہے کہ اگراسے قبض کی شکایت ہو گئی تو انیما تارکول سے کروانا پڑے گا۔ یہ وہ فرہاد ہے جو دل پر پتھر رکھ کر جوئے شیرلاتا ہے۔ چڑیا گھر کے ایک ملازم نے ایک گوریلے کو ڈارون کی تھیوری پڑھتے دیکھ کر پوچھا۔ اوئے تم؟اس گوریلے نے جواب دیا میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ چڑیا گھر کا ملازم میں ہوں یا تم! اس کے خاوند کا کہنا ہے کہ پتھر وں کو کچا چباتے ہوئے اس کی بیوی کا گلا کبھی خراب نہیں ہوا مگر یہ میرے گلے ضرور پڑی ہوئی ہے اور تو اوراس کا پیٹ شازو ناظر ہی خراب نہیں ہوتا مگر پتھر لانے میں دیر ہو جائے تو اسے مروڑ ضرور اٹھنے لگتے ہیں اور ایک ماڈرن بدعا سننے کو ملتی ہے کہ ’’جا تجھے ٹیکس والے لے جائیں‘‘اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اچھے طریقے سے کی گئی تنقید ،بھونڈے طریقے سے تعریف کے مترادف ہے اورپتھر کے ساتھ بحث کرنے والا شیشہ حق پر نہیں ہوتا۔
شروع شروع میں شاید یہ پتھروں پر ماسک چڑھا کر گھر لاتی تھی اور انہیں لائف جیکٹ پہن کر کھاتی تھی مگر’’جب ناچنے لگی تو گھونگٹ کیسا ‘‘ اب تو ہمسائے والے اس کو پتھر لاتا دیکھ کرخود کسی پہاڑ کی اوٹ چھپنا پسند کرتے ہیں۔ ملاوٹ شدہ کی بجائے ایک خالص امریکی پتھر کو ہضم کرناایک امریکی تو کیا ایک امریکی عورت ہی کر سکتی ہے اوررج کر کھانے کے بعد اس کی چال سے بھونچال ضرور محسوس ہوتا ہے ۔جب پتھر معدے میں اتر رہے ہوں تو وہ منظر بھی بڑا دیدنی ہوتا ہو گا۔جراثیم ایک دوسرے کو کہنیاں مار رہے ہوتے ہوں گے کہ چلو اب دم دبا کربھاگو اور جاکے کہیں جگر گوشے میں پناہ ڈھونڈویہاں بڑے بڑے جراثیموں کا پتا پانی نظر آتا ہے اور وہ پتے کی اوٹ میں ہی اپنی جائے پناہ ڈھونڈتے پائے جاتے ہیں۔جگر میں جراثیموں کے آئی ڈی پیز کے لئے کوئی جگہ نظر نہیں آتی اور جگر معدے کا جگری دوست ہونے کے باوجودان جراثیموں کو یہاں برداشت نہیں کرتا۔جراثیموں کو نقل مکانی کر کے معدے سے دور پناہ لینے میں ذرا دیر تو لگتی ہے کیوں کہ پتھروں پر چل چل کر جراثیموں کے تلووں میں بھی ورم آ چکا ہوتا ہے اور آبلہ پائی کی وجہ سے جب وہ ایک دوسرے کا سہارا لے کر چل رہے ہوتے ہیں تو اینٹی باڈیز بھی دانت نکال رہے ہوتے ہیں۔ جو جراثیم اپنی سستی کی وجہ سے معدے میں ہی پڑے رہ جاتے ہیں وہ رولنگ سٹون بن جاتے ہیں اور پیٹ میں موجود باقی کیڑے انہیں کمہار کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔کئی جراثیم زخمی سروں کی وجہ سے مجنوں کا روپ دھارے غالب کے شعر کی مصداق نظر آ رہے ہوتے ہیں کہ ؂ سر اٹھایا تھا کہ سنگ یاد آیا :جو جراثیم دل میں پناہ لیتے پائے جائیں وہاں ان کی پتھر ول بھی ہو جاتی ہے۔ پتھر کھا کر چلتے ہوئے یہ ’’کنکراہٹ ‘‘محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ جراثیموں کی دنیا ہماری انسانی دنیا سے مشابہت رکھتی ہے یہ بھی مختلف طبقات میں بٹی ہوتی ہے ان میں دائیاں بائیاں بازو ،اشرافیہ ،حکومت اور دہشت گرد سب کچھ ہوتا ہے۔ان کی اپنی انتظامیہ پولیس وغیرہ سارا نظام موجود ہوتا ہے۔ ان میں بھی شیر شیر آیا آیا کہہ کر ڈرانے والے موجود ہوتے ہیں۔ان میں کچھ جراثیم اتنے مضبوط ہوتے ہیں جن پر کوئی گولی اثر کرتی ہے نہ لوکل باڈی سیل...ان میں کچھ ایڈ کے لئے اور کچھ ایڈز کے لئے ہوتے ہیں...کچھ وائرس اور کچھ وائریئر...کچھ ڈر جانے والے کچھ مر جانے والے...کچھ آپس میں جگری یار ہوتے اور کچھ دلی دشمن ۔ان میں کئی موشن لگاتے اور کئی خود لگوا بیٹھتے ہیں... کئی ہٹے کٹے اور کچھ لغڑی لاغر ،لیکن ان میں کئی سٹون واش مارکہ بھی ہوتے ہیں جن کے سروں پر برسنے والے پتھروں کی ضرب انہیں تقسیم کرنے کی بجائے جمع کیے رکھتی ہے جو ہمارے لئے ان کا ایک منفی قدم ہے اورانسان کا کمزور امیون سسٹم جراثیموں کاجِم بن جاتا ہے جہاں ان کے مسل پختہ ہو تے چلے جاتے ہیں مگر ہماراپورا سسٹم خراب کر دیتے ہیں۔مسز وائلڈنر نے جراثیموں سے نمٹنے کا ایک طریقہ ڈونڈھ لیا ہے وہ صبح اٹھتے ہی شراب کا ایک پیگ لگاتی جو خود اس پرتو اثر نہیں کرتامگر خودجراثیم مدہوش ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کے جسم کے اندر بیماری کا باعث نہیں بنتے۔ ان میں سے کچھ نشے میں دھت مسل دکھا کر اپنے سے چھوٹے وائرس کو کہہ رہے ہوتے ہیں’’دیکھ ل ل لی ہماری طاقت ت ت‘‘ ہر پتھر کے اندر ایک بت چھپا ہوتا ہے جسے آرٹسٹ ظاہر کرتا ہے مگر اس عورت کے بارے میں لگتا ہے کہ سورگ باش ہونے سے پہلے یہ اپنے اندر سے ایک مجسمہ جنے گی جوبعد ازاں ایک کتبے کے طور پر کام دے گا اور اس پر لکھا ہو گا ’’ میں پتھروں سے محبت کر کے انہیں ہضم کر لیا کرتی تھی مگر یہ کتبہ میری آخری محبت ہے‘‘کئی امور ایسے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے خود ہی پتھر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی سمت کا تعین بھی مشکل ہوتا ہے ۔ہمیں چاہئے کہ اپنے آئی ڈی پیز کو رولنگ سٹون قسم کے جراثیم نہ بننے دیں ورنہ افغان مہاجرین کی طرح پورے ملک میں پھیل جائیں گے اور کئی معاشرتی بیماریاں پھیلائیں گے چنانچہ
A stich in time saves nine" "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *