"سارے مظلوموں کے بچے ہیں ہمارے بچے"

امداد ظفر

تھر میں ہر سال قحط سالی اور غربت کی وجہ سے سینکڑوں بچے لقمہ اجل بنتے ہیں لیکن آفرین ہے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پر جن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. اس سال بھی اب تک تھر میں 32    بچے غذا کی کمی اور گندے پانی پینےکی وجہ سے مختلف امراض کا شکار ہو کر  ہلاک ہو چکے ہیں. یہ بچے غذائی کمی اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر مرتے ہیں.  یہ معصوم  بچے خط غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے والوں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں اور  اس ناکردہ جرم کی پاداش میں غذا کی کمی یا پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث ہر سال اس صحرا میں  لقمہ اجل بنتے  ہیں.غریب اور پسماندہ ترین علاقے کے بچوں کے مرنے سے سندھ حکومت یا وفاقی حکومت کو بھی  کوئی خاص فرق نہیں پڑتا.البتہ  میڈیا پر خبر آنے کی وجہ سے اکثر ارباب اختیار اور ارباب اقتدار ان علاقوں کا فوری دورہ  کر کے اپنے اپنے فرائض کی زمہ داری  سے سبکدوش ہو جاتے ہیں. انسان کی بنیادی جبلتوں میں سے سب سے پہلی جبلت بھوک ہے. باقی تمام جبلتیں اس کے بعد ہوتی ہیں. اس جبلت کے ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے   اپنے اپنے شہریوں کو خوراک کی فراہمی کسی بھی حکومت یا ریاست کا اولین فرض ہوتا ہے. لیکن بدقسمتی سے  شاید سیاسی رہنما اور حکومتیں محض چند بڑے شہروں کو ہی پاکستان سمجھتی ہیں.  ایک طرف تھر میں پیٹ کی بھوک سے مرتے بچے اور دوسری جانب اقتدار کی بھوک میں ایک دوسرے سے لڑتے سیاسی گدھجو اقتصادی راہداری کے منصوبے کو لے کر تو آل پارٹیز کانفرنس بلا سکتے ہیں لیکن انسانوں کی جان بچانے کیلئے ایک پریس کانفرنس سے بڑھ کر کچھ نہیں کرتے.  اور جب کبھی ایسے سانحات  رونما ہوں تو انہیں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں.تھر میں سندھ انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ جب میڈیا پر ان بچوں کی اموات کی خبریں نشر ہونا شروع ہوئیں تو بیمار بچوں کے والدین پر ہسپتال انتظامیہ نے سندھ حکومت کے کہنے پر دباو ڈالنا شروع کر دیا کہ ان بچوں کو گھر لے جائیں تا کہ ہمارا تماشہ نہ بنے. یعنی سندھ حکومت کے حساب  سے بھلے ہی بچے مرتے ہیں تو مریں بس سیاسی طور پر کسی مخالف کو بات کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے.  بجائے تھر میں غربت دور کرنے کے منصوبوں کے پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس مسئلے کا ویسے یہ خوب حل نکالا ہے کہ باقی بچے کھچے بچوں کو بھی ہسپتال سے واپس گھر زبردستی بھیج کر انہیں وہاں مرنے دیا جائے تا کہ سرکاری ہسپتالوں میں اموات کم سے کم ظاہر ہوں. اس سے گری ہوئی سیاسی سوچ اور گھٹیا ترین  انتظامی منصوبہ بندی یقینا پاکستان کی تاریخ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی.  سندھ کے صحرائی علاقے تھر  میں مرنے والے بچے سیاسی جماعتوں کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے تو کام آتے ہیں لیکن ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے کوئی سیاسی جماعت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی .پیپلز پارٹی تو خیر جاگیرداروں اور وڈیروں کے زیر تسلط اندرون سندھ میں آنکھیں اور کان بند کر کے بھٹو کو زندہ رکھنے میں ہی مصروف نظر آتی ہے لیکن وفاقی حکومت بھی اس معاملے میں بے حسی کا شکار نظر آتی ہے.کیونکہ تھر مسلم لیگ نون کے ووٹ بینک میں کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتا اس لییے وزیر اعظم پاکستان بھی محض افسوس اور بیانات سے کام چلانے پر اکتفا کرتے ہیں. اب میاں نواز شریف کو کیسے سمجھایا جائے کہ وہ پورے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں نا کہ محض پنجاب کے. اور جہاں انسانی جان کی حفاظت کی بات آتی ہے وہاں یہ بحث کرنا کہ ان بچوں کی جان بچانا صوبائی معاملہ ہے انتہائی نازیبا اور بے معنی لگتی ہے.  نہ ہی ایک  دوسرے پر الزامات لگا کر یا زمہ داری ڈال کر موت کے منہ میں جانے والے ان بچوں کو واپس لایا جا سکتا ہے. پیپلز پارٹی کے چئیرمین  بلاول بھٹو اس موقع پر بھی ہمیشہ کی طرح سندھ سے غائب ہیں اور قلعہ لاہور کو فتح کرنے کیلئے لاہور میں موجود ہیں . نہ جانے روزانہ جی بھر کے پنجاب اور وفاقی حکومت پر طنز و تنقید کے نشتر برساتے انہیں شرم کیسے محسوس نہیں ہوتی، کہ ایک طرف ان کے صوبے میں بچے قحط سے بیماریوں کا شکار ہو کر مر رہے ہیں جبکہ  دوسری جانب وہ اپنے محل نما بنگلوں سے سیاسی  بیانات داغنے میں  مصروف ہیں. ایک ایسی سیاسی جماعت کا چیئرمین جس کا سیاسی وجود انہی غریب لوگوں کے ووٹوں کی مرہون منت ہے اس نازک مسئلے کو حل کرنے کے بجائے، اور خود تھر میں موجود ہونے کے بجائے محض  سیاسی  لڑائی لڑنے پنجاب میں موجود ہے. غالبا ابھی تک پیپلز پارٹی کو یہ ادراک نہیں ہونے پا رہا کہ تھر جیسے المیے کم سے کم پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ان کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے. کیونکہ ان دونوں صوبوں میں اب عوام نہ تو قبروں کو ووٹ دیتے ہیں اور نہ ہی جزباتی نعروں پر . اب  دونوں صوبوں  میں ووٹ پرفارمنس کی بنا پر دیا جاتا ہے.  خیر سیاسی پہلو سے بیشتر ایک انسانی پہلو بھی ہوتا  ہے جس کے تحت آپ دوسروں کا درد محسوس کرتے ہیں. دوسرے کی تکلیف کی شدت سمجھتے ہیں. کم سے کم پیپلز پارٹی کی موجودہ روش کو دیکھتے ہوئے تو یہ انسانی پہلو بھی اس جماعت میں ناپید لگتا ہے. بچے  طالبان کے ہاتھوں مریں یا بھوک کے ہاتھوں دونوں ہی صورتوں میں دہشت گردی کا شکار قرار دیئے جا سکتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ طالبان گولیوں سے بھونتے ہیں  جبکہ بھوک کی صورت میں یہ بچے استحصالی نظام کے جبر کی  بنا پر اموات کا شکار ہوتے ہیں.اور یہ اموات  ہمارے موجودہ نظام کے غیر منصفانہ اور ناکام ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہیں. جہاں ایک طرف تو اربوں روپے سیاسی تشہیراتی مہمات میں خرچ کر دیئے جاتے ہیں اور دوسری جانب غرباء  کے بچے پینے کے صاف پانی سے لے کر روٹی کے لقموں کو ترستے دکھائی دیتے ہیں.جس نظام میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا  جائے اس کو جمہوریت کہنا حقیقی معنوں میں جمہوریت کی توہین ہے. مملکت خداداد میں اس وقت بچوں کی تعداد آبادی کا قریب 37  فیصد ہے یعنی  ساڑھے چھ  کڑوڑ کے قریب بچے اس ملک میں  سانس لیتے ہیں جن میں سے ہر تیسرا بچہ کسی نہ کسی غـزائی  کمی کا شکار ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ترقی کے بلندوبانگ دعووں کے باوجود ابھی تک غربت کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہیں، کیونکہ کوئی بھی والدین اپنے بچوں کو کم سے کم  جانتے  بوجھتے یا استطاعت رکھتے ہوئے بھوکا تو رکھنے سے رہے. اعداد و شمار کے دعوے شاید بڑے شہروں اور ہمارے بچوں پر تو صادق آتے ہوں گے لیکن چھوٹے شہروں قصبوں اور دیہاتوں میں یہ بوگس ثابت ہوتے ہیں. اور یہ غماز ہیں ہماری غلط ترجیحات کا.  تعلیم  کے فروغ یا پولیو کے خاتمے کی مہم سے پہلے حکومت کو ملک سے غربت ختم کرنے کے منصوبوں اور مہم کی ضرورت ہے. تعلیم یا بیماریوں سے بچاو زندہ بچوں پر ہی ممکن ہو سکتا ہے نا کہ مردہ بچوں پر. ان سانحات اور اعداد و شمار کو  دیکھ کر تو حکومت کو اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینے کی بے حد ضرورت دکھائی دیتی ہے.تھر کے مسئلے پر نہ جانے این جی اوز بھی کیوں چپ سادھ کر بیٹھ جاتی ہیں.بچوں کی تعلیم اور ان کے حقوق کی حفاظت پر کام کرنے والی تنظیموں کو تھر کے بچوں کے حوالے سے چند طویل مدتی منصوبے بنانے کی اشد ضرورت ہے. ایک زمہ داری بطور اس معاشرے میں رہنے والے فرد کے ہم سب کی بھی ہے. ہم ریستورانوں اور ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہوئے بے پناہ کھانے کا آرڈر کرتے ہیں اور اکثر کھانا ضائع کر دیتے ہیں.اگر ہم فوڈ بینک نامی امریکن این جی او سے ہی اس ضمن میں کچھ سیکھ لیں تو معاشرے میں کئی بچوں کو بھوک سے یا خوراک کی کمی سے مرنے سے بچا  سکتے ہیں.یہ فوڈ بنک نامی  این جی او  امریکہ میں چند نوجوانوں نے شروع کی تھی اور ان کا مقصد ہوٹلوں میں بچ جانے والے کھانے کو ضائع ہونے کے بجائے اوون میں دوبارہ سے گرم کر کے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ان افراد تک پہنچانا تھا جن کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں تھی.اس این جی او نے لاکھوں افراد کو کھانا پہنچایا اور آج یہ دنیا کے کئی ممالک میں کام کر رہی ہے. محض باتیں بنانے کے ہم سب عملی طور پر اس این جی او کی طرح تنظیمیں بنا کر اپنی اپنی سطح پر نہ صرف تھر بلکہ پورے پاکستان کے غریب بچوں اور غریب افراد کی مدد کر سکتے ہیں. حکومتی سطح پر  تھر میں اب صوبائی اور مرکزی حکومتوں  کو ایسے منصوبے نافذالعمل کرنے چائیں جن سے وہاں کے لوگوں کو روزگار میسر آ سکے کیونکہ محض وقتی امداد سے یہ مسئلہ کبھی بھی مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو گا.ویسے بھی مشہور چائنی کہاوت ہے کہ اگر آپ کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اسے مچھلی مت دیجئے بلکہ مچھلی پکڑنے کیلئے ڈور اور کانٹا  دیجئے تا کہ وہ مستقل بنیادوں پر رزق حاصل کر سکے. اب ارباب اختیار کو بھی تھر کے حوالے سے پریس کانفرنسوں اور لفاظی سے نکل کر ایک مربوط حکمت عملی بنانے کی بے حد ضرورت ہے . کوئلے اور نایاب و قیمتی.پتھروں کت زخائر سے.مالا مال اس  علاقے کو باآسانی خوشحال بنایا جا سکتا ہے.اور باآسانی بچوں اور آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکتا ہے. کیونکہ بچے ہمارا آنے والا کل بھی ہیں اور آج بھی. اپنے حال پر انویسٹمینٹ کر کے ہمیں اپنا آنے والا کل محفوظ بنانے کی بے حد ضرورت ہے. آخر کو تھر میں بسنے والے مظوم بچے بھی تو ہمارے ہی بچے ہیں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *