بیانیے کی کہانی

(شاہد سدھو کے قلم سے )

shahid

ان دِنوں اِسلام کے جنوبی ایشیائی قلعے میں مختلف حلقوں کی طرف سے نئے بیانیے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے نئے بیانیے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایہ جارہا ہے کہ نیا بیانیہ ترتیب دینے یا اسکی ترویج کی صلاحیت وفاقی حکومت میں بالکل نہیں ہے۔ دوسری طرف ’’ نظریاتی سرحدوں‘‘ کے حساس محافظ بھی نیا بیانیہ ترتیب دینے کی کوششوں سے دور نظر آتے ہیں۔ اوائل سے ہی مملکت خدادا د کا نظریاتی بیانیہ مرتب کرنے کی نازک ذمہ داری آہنی ہاتھوں نے براہِ راست سنبھال لی تھی۔ اس اسلامی جمہوریہ میں بیانیہ کو بدلنا کوئی آسان کھیل نہیں ہے جسکی جغرافیائی سر حدیں بدل کر کیا سے کیا ہوگئیں اور نظریاتی سرحدوں نے ہر طرف لوہے کی چادریں تان دیں۔ سرکار اور محافظوں سے مایوسی کے بعد رہ جاتے ہیں دانشور اور رائے ساز صحافی۔ پاک لوگوں کی سر زمین پر انتہائی اعلیٰ اور ارفع ذہنی صلاحیتوں کے حامل عظیم دانشور صحافی اور تجزیہ نگار پائے جاتے ہیں۔ ان دانشوروں کے مضبوط ’’آہنی ‘‘ کندھوں پر نیا بیانیہ ترتیب دینے کی ذمہ داری آگئی ہے، تاکہ ایک متحد اور مضبوط قوم تشکیل دی جاسکے۔ یہ دانشوران، اخبارات کے علاوہ ٹی وی چینلز پر بھی اپنی دانشوری کے پھول بلا ناغہ نچھاور کر تے ہیں۔ ’’نظریاتی سرحدوں کے محافظوں‘‘ کے میڈیا میں موجود اِن مجاہدین اور فدائیں کے لشکر کا ترتیب شدہ نیا بیانیہ کیسا ہوگا اور قوم کو کِتنا متحد کرے گا اس کا اندازہ لگانے کے لئے اِن میں سے چند دانشوروں کے خیالات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
روحانی کالم نگار: اِن کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ اُن دِنوں بھی جب بہادر جوان دن رات سوات کے پہاڑوں میں ملا ریڈیو کے لشکروں کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے تھے ، سپہ سالار اِن صاحب کو دیسی مرغیاں اور مردان کا مغز والا گڑ کھلانے کے لئے چھ چھ گھنٹے کی محفلیں برپا کرتے تھے، تاکہ حضرت ان کو سگریٹ کے مرغولوں کے دوران غیب سے آئے خیالات سے نواز سکیں۔ روحانی کالم نگار کی ایک اسپیشلٹی، سوانح نگاری بھی ہے۔ آپ ’’حساس صاحبان ‘‘ کی ایسی سوانح لکھتے ہیں کہ اِن کے سامنے صلاح الدین ایوبی بھی بٹیر لڑاتا نظر آتا ہے۔ چونکہ آپ روحانیت کے سلسہٗ گوجر خانیاں سے تعلق رکھتے ہیں ، لِہٰذا کئی سوانح عمریاں تو واقعات کے ظہور سے پہلے ہی یعنی ایڈوانس میں ہی لکھ کر رکھ لیتے ہیں اور مناسب وقت پر حساس صاحب کی خدمت میں پیش کردیتے ہیں۔ اب آپ کو انکی اہمیت کا اندازہ تو ہو چکا ہے۔ آئیے اِن نازک حالات میں جب ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ اور نئے بیانئے کی تلاش میں گم ہے، مسائل میں الجھی اسلامی جمہوریہ کی حکومت کے بارے میں ان کے خیالات جانتے ہیں۔ بذریعہ اخبار اور ٹی وی آپ لاکھوں لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ اِسلامی جمہوریہ کی موجودہ حکومت کو وجود میں لانے والے برطانیہ ، امریکہ اور چند عرب ممالک ہیں، گویا اِسلامی جمہوریہ کے وزیر اعظم برطانیہ، امریکہ اور عرب ممالک کے ایجنٹ ہیں۔ یہی کافی نہیں تھا آپ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اِسلامی جمہوریہ کے وزیر اعظم کا کاروبار بھارت میں ہے اور بھارت سے کاروباری مفاد حاصل کرنے کے لئے وہ اسلامی جمہوریہ کے مفادات پر ضرب لگاتے ہوئے بھارتی حکمرانوں سے دوستی بڑھا رہے ہیں۔ آپ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ کے وزیر اعظم نے اپنے کاروباری مفاد کے لئے مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کی پیٹھ میں چھُرا گھونپ دِیا ہے۔ اب آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ جِس شخص کی ذہنی حالت ایسی ہو کہ وہ اپنی حکومت کو دنیا بھر کی ایجنٹ، غدار حکومت سمجھتا ہو ، وہ کِس قسم کا بیانیہ ترتیب دے گا۔
نفسیاتی کالم نگار: اِن صاحب کو بھی آپ بخوبی جانتے ہیں۔یہ بھی اخبار اور ٹی وی کے میدانوں میں جلوہ افروز ہوتے ہیں۔اِن جیسا سچا کالم نگار کم از کم ہند و سندھ میں تو پیدا نہیں ہُوا، باقی دنیا میں شاید کو ئی ایک آدھ مثال مِل جائے۔ اِن کے خیالات کے مطابق موجودہ حکمرانوں کے زیر حکومت ملک میں رہنے سے بہتر ہے کہ صومالیہ یا یوگنڈا کو اپنا مسکن بنالیا جائے۔موجودہ حکمرانوں سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے۔ تمام ایسی گالیاں جو صفحہٗ قرطاس پر منتقل کی جاسکتی ہیں اور پاکستانی ٹی وی پر سنائی جاسکتی ہیں، آپ شریف خاندان کو دے چُکے ہیں۔ جمہوریت سے تو آپکا ’’ اِٹ کُتے والا ویر ‘‘ ہے۔آپ کا بس نہیں چل رہا ورنہ آج ہی جمہوریت کو کِسی بُوٹ سے کچلوادیں۔ اب یہ بھی سوچنا آپ کا کام ہے کہ ایسا دانشور کیسا بیانیہ مرتب کر سکتا ہے۔
رومانی کالم نگار: یہ صاحب سیاست کا براہِ راست شوق بھی رکھتے ہیں۔ اِ ن صاحب کا المیہ اسلامی جمہوریہ میں مشروب مغرب اور رقصِ مشرق پر پابندی ہے۔ اِس پابندی نے آپ کا مخمصہ اتنا بڑھا دِیا ہے کہ ایک عرصہ تک خود بھی اندازہ نہ لگا پائے کہ جناب کی سیاست غلط ہے یا صحافت۔ مگر موصوف کی سیاسی جماعت اندازہ لگا چُکی تھی۔ ٹکٹ نہ مِلنے کے بعد سے آپ کی حالت ویسی ہی بیان کی جاتی ہے جو ساقی کی خالی پیمانہ دیکھ کر ہوتی ہے۔ آپ کے ارشادات موجودہ حکومت کے بارے میں تو یقیناً زریں ہیں مگر آپ کو چٹانی مسیحا بھی اپنی شرائط پر چاہئیے۔نیا بیانیہ جو آپ تشکیل دینا چاہتے ہیں اِس کے لئے اِس مر دم خیز خِطے میں کِسی کمال اتا ترک کا ظہور فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔ امید ہے آپ جان گئے ہونگے کہ نئے بیانئے کی تشکیل میں مصروف اِن حضرات کے خیالاتِ عالیہ سے کیا بر آمد ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *