ایک وزنی کالم

yasir pirzada

ایک شخص بار میں گیا اور بار ٹینڈر کو شراب کا آرڈر دے کر انتظار کرنے لگا، اچانک اس کی نظر سامنے پڑی جہاں ایک شخص اپنے سامنے خالی بوتل رکھ کر زار و قطار ہنس رہا تھا ،پہلے والا شخص اٹھ کر اس کے پاس گیا اور یوں ہنسنے کی وجہ پوچھی ، دوسرے نے بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا کہ ’’میری بیوی پچھلے چار دنوں سے ڈائٹنگ پر ہے اور اس نے پانچ پاؤنڈ وزن کم کر لیا ہے ۔ ‘ ‘ یہ سن کر پہلے آدمی نے حیرانی سے پوچھاکہ پھر اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے !ہنسنے والے نے جواب دیا کہ’’ میں نے حساب لگایا ہے کہ اگر اس کی یہی رفتار رہی توچار ماہ کے اندر اندر وہ غائب ہو جائے گی ! ‘ ‘
آج کل رونما ہونے والے ایکشن اور سسپنس سے بھرپور بین الاقوامی واقعات کے تناظر میں اس قسم کا لطیفہ سنانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص جسٹن بیبر کے گانوں کی سی ڈی میں ایک گانا مکیش کا بھی ڈال دے ۔ جس قسم کی ہڑبونگ دنیا میں مچی ہے وہ ہم ایسے دیسی دانشوروں کے لئے آئیڈیل ہے (یہاں مصنف نے دیسی کا لفظ اپنے لئے استعمال کیا ہے جبکہ دانشوری اوروں کے لئے چھوڑ دی ہے ) ، موضوعات کا ایسا بوفے لگا ہے کہ کیا کہنے ، کہیں ایران سے عالمی پابندیاں اٹھنے کے بعد کا منظر بیان کیا جا رہا ہے ، کہیں عرب میں ثالثی کے کردار کے حوالے سے بحث کی جا رہی ہے ، کہیں بھارت کے الزامات کی پڑتال کی جا رہی ہے ، کہیں کالعدم تنظیموں کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے ، کہیں افغانستان کے طالبان سے مذاکرات کی کوششوں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے اور کہیں شامی پناہ گزینوں کے آ نے سے یورپ کے بدلتے ہوئے منظر نامے پر دور اندیشی کے ڈونگڑے برسائے جا رہے ہیں ۔ایک مرتبہ تو میرا بھی دل للچایا کہ کہ ایک دو مضامین اکانومسٹ کے ڈاؤن لوڈ کروں ، تھوڑا سا مواد بی بی سی کی ویب سائٹ سے اٹھاؤں اور کچھ موٹی موٹی خبریں واشنگٹن پوسٹ اور گارڈین کی چاٹ کر اپنا تجزیہ دے ماروں جس میں یہ پیشن گوئیاں کروں کہ تہران سے عالمی پابندیاں اٹھنے کے بعد خطے میں ترازو لے کر طاقت کا توازن دوبارہ سے طےکرنا ہوگا ، ایران کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات بالکل ساس بہو جیسے ہو جائیں گے ، انجیلا مرکل ایک پوتے کو جنم دیں گی ، اشرف غنی صاحب اس برس دو عدد نئے چوغے سلوائیں گے، پاکستان میں کالعدم تنظیموں کو ایک مرتبہ پھر کالعدم قرار دے دیا جائے گا، مشرق وسطی میں ہماری عرب ثالثی کے ڈنکے اس زور سے بجیں گے کہ ان ڈنکوں کی آواز سے اسرائیلی وزیر اعظم کی نینداڑ جائےگی ، بھارت سے ہمارے تعلقات کی بہتری کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کب ٹویٹر پر شاہ رخ خان کے فالوور نریندر مودی سے بڑھتے ہیں،پاکستانی لیڈران کو ۲۰۱۶ میں بھی ٹائی کی ناٹ باندھنی نہیں آئے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس برس مجھے مشرق وسطی میں جنگ کے بادل چھٹتے دکھائی نہیں دیتے(یہ بات کل ایک دودھ پیتے بچے نے بھی کہی تھی ، نہ جانے لوگ بچوں کے سامنے ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں )!
لیکن میرے سامنے ان گھمبیر عالمی مسائل سے بھی بڑا ایک مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ ہے وزن کم کرنا ، اسرائیل اور ایران کی دشمنی ختم کرنا آسان کام ہے مگر وزن کم کرنا اس سے بھی مشکل ۔جن احباب کو اس بات میں مبالغہ آرائی محسوس ہو وہ اسی وقت کسی وزن کرنے والی مشین پر کھڑے ہو کر اپنے آپ کو تولیں اور عہد کریں کہ میں نے ایک ماہ میں پانچ کلو وزن کم کرنا ہے ، چوتھے دن ہی چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔شروع میں بیان کئے گئے لطیفے کی شان نزول بھی یہی تھی کہ آج کل لطیفے تو کیا مجھے خواب بھی ڈائٹنگ سے متعلق ہی آتے ہیں ۔ ڈائٹنگ دنیا کو وہ واحد کام ہے جسے اگلے دن پر چھوڑ کر ایک عجیب روحانی خوشی ملتی ہے۔ڈائٹنگ کے صرف پہلے تین دن مشکل ہوتے ہیں کیونکہ چوتھے دن تک آپ ڈائٹنگ چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔جس روز آپ تہیہ کرتے ہیں کہ بس بہت ہو چکا،اب وزن کم کرنا ہوگا کیونکہ یہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ سانس اندر کھینچ کر بھی فوٹو کھنچوائی جائے تو فقط فوٹو کا وزن چھ کلو بن جائے ، اس روز آپ یہ سوچ کر کلچوں کے ساتھ کھد اور پائے کا ناشتہ کرتے ہیں کہ کل سے چونکہ فاقہ کشی شروع کرنی ہے اس لئے آج ہی مہینے بھر کی cravingختم کر ڈالو۔رات بے حد میٹھی نیند آتی ہے اور یہی خواب دکھائی دیتے ہیں کہ مہینے بھر میں کمر چار انچ کم ہو جائے گی اور میں لگ بھگ فواد خان بن جاؤں گا، ماڈلنگ وغیرہ سے متعلق خواب بھی آتے ہیں ۔اگلے روز آپ کسی اتھلیٹ کی طرح چھلانگ مار کر بستر سے اٹھتے ہیں اور کڑک دار آواز میں خاتون خانہ کو حکم دیتے ہیں ’’بھئی میرے لئے آج ناشتے میں صرف ایک ابلا ہوا انڈا اور بغیر شکر کے قہوہ! ‘ ‘وہ پوچھتی ہے ’’سرتاج ، دوپہر کے کھانے میں کیا لیں گے ؟ ‘ ‘ اور آپ کا جواب ہوتا ہے ’’ بس سلاد کے پتے بغیر مایونیز اور کسی ٹاپنگ کے ! ‘ ‘ دوپہر کو یہ پتے کھانے کے دوران جو بھی شخص آپ کے دفتر میں داخل ہوتا ہے اسے نہایت خوش دلی کے ساتھ یہ کھانے کی پیشکش کی جاتی ہے اور پھر بے نیازی سے بتایا جاتا ہے کہ بس یار آج کل میری یہی ڈائٹ ہے ، ہم لوگ تو پتہ نہیں کیا الا بلا کھاتے رہتے ہیں ، گورے نے تو روٹی کھانی ہی چھوڑ دی ہے ، اس سے وزن بھی کم ہوتا ہے اور آدمی فٹ بھی رہتا ہے ۔آنے والا آپ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہوا رخصت ہو جاتا ہے ۔
تیسرے دن صورتحال کچھ مختلف ہوتی ہے۔صبح جب خاتون خانہ ایک ابلا ہوا انڈا اور بغیر شکر کے قہوہ پیش کرتی ہے تو آپ منمناتی آواز میں کہتے ہیں ’’بھئی میں نے نوٹ کیا ہے کہ اگر میں ناشتے میں پراٹھا نہ لوں تو سر در د شروع ہو جاتی ہے ، تم ایسا کرو بس ایک چمچ آئل میں پراٹھا اور آملیٹ بنا کر لے آؤ ! ‘ ‘ وہ بھاگیوان تعمیل کرتی ہے ۔ دوپہر کوسلاد کے پتوں کا ڈبہ کھولتے وقت اچانک خیال آتا ہے کہ آج تو بخاری صاحب نے اپنے دفتر میں لنچ پر بلایا تھا، بھاگم بھاگ وہاں پہنچتے ہیں ، سب یار دوست جمع ہیں ، تلی ہوئی مچھلی منگوائی گئی ہے ، ساتھ میں گرما گرم نان ہیں ، کولڈ ڈرنک، اور کھوئے اور پستے سے لبریزجر کا حلوہ۔آپ دوستوں کو بتاتے ہیں کہ میں ڈائٹنگ پر ہوں ، پہلا جواب آتا ہے ’’یار ایک دن سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ‘ ‘ دوسرا فقرہ کان میں پڑتا ہے ’ ’ اچھے بھلے تو ہو، تمہیں ڈائٹنگ کی کیا ضرورت ! ‘ ‘ آپ مچھلی کا ایک ٹکٹر ا منہ میں ڈالتے ہیں ۔ تیسری آواز سنائی دیتی ہے ’ ’ ویسے بھی مچھلی صحت کے لئے اچھی ہوتی ہے۔ ‘ ‘ اب آپ کا ہاتھ نان کی طرف بڑھتا ہے ۔ چوتھا جملہ یہ سننے کو ملتا ہے ’ ’ اس وقت کھا لو ، رات کو بے شک کھانا مت کھانا ۔ ‘ ‘ آ پ کرسی کھینچ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔
میں زندگی میں کم از کم دس مرتبہ ڈائٹنگ کر چکا ہوں اور میری ہر ڈائٹنگ کا انجام حکومت کے اس منصوبے کی طرح ہوتا ہے جس کا افتتاح تو طمطراق سے کیا جاتا ہے مگر تکمیل نہیں ہوپاتی۔لیکن الحمد اللہ گزشتہ دو ہفتے سے میں نہایت سختی سے ایک ڈائٹ پر کاربند ہوں اور یہ کالم اسی کیفیت میں لکھا گیا ہے ۔ مجھے اب کلچوں کا ڈیزائن ہی یاد نہیں ، چاکلیٹ کے ہجے بھول چکا ہوں اور پراٹھے کی خوش بو کیسی ہوتی ہے کچھ پتہ نہیں !
خدا آپ کو سفید چاولوں کے ساتھ پائے کھانے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *