اب ہیڈ ٹرانسپلانٹ بھی ممکن ہوگا

4_025

بیجنگ: طبی سائنس اگرچہ اس وقت تاریخ کے جدید ترین دور سے گزر رہی ہے اور ہر گزرتا لمحہ اس میں حیرت انگیز تبدیلیاں اور ایجادات لیکر آرہا ہے لیکن ابھی تک انسانی سر کے ٹرانسپلانٹ کا کوئی آپریشن سامنے نہیں آسکا تھا تاہم اب ایک چینی سائنس دان نے دعوی کیا ہے کہ اس نے بندر کے سر کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا ہے اور  وہ جلد انسان کے سر بھی ٹرانسپلانت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

چینی سائنس دان سرگیو کینا ویرو نے ایک  سال قبل ہی اعلان کردیا تھا کہ ریڈھ کی ہڈی کے خرابی سے معذور ہوجانے والے افراد کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے وہ انسانی سر کا آپریشن کریں گے اور اس کے بعد سے انہوں نے شب وروز اس پر جنوبی کوریا اور چین میں کام شروع کردیا اور اس کے لیے انہوں نے سب سے پہلے چوہے کا انتخاب کیا اور اس کے سر کا کامیاب آپریشن کیا اور چوہا ٹرانسپلانٹ کے 20 گھنٹے کے بعد ہی حرکت کرنے لگا۔ سرگئی نے اب ایک بندر کا کامیاب ہیڈ ٹرانسپلاتٹ کیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران ڈونر اور مریض دونوں کے جسموں کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے اور پھر انتہائی تیز چاقو سے چیر کرکاٹ لیا جاتا ہے اور اسے مریض کے سر پر لگا دیا جاتا ہے۔

سرگئی کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران مریض کو 4 ماہ کے کوما میں رکھا جائے گا تاہم بندر کے سر کے ٹرانسپلانٹ میں انہیں بہت مختصر وقت کے لیے بے ہوش کیا گیا اور وہ بندر اب مکمل طور پر صحت مند ہے۔ سرگئی کی ٹیم کا کہنا ہے کہ سرجری کے دوران بندر کی ریڈھ کی ہڈی نہیں بلکہ صرف خون کی فراہمی کے نظام کو جوڑا گیا ہے جبکہ بندر کو 20 گھنٹوں کے لیے بے ہوش کیا گیا۔

کچھ سائنس دانوں نے سرگئی کی اس پیشرفت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اور کہا ہے کہ انہوں نے اس آپریشن کی تفصیلات نہیں پیش کیں تاہم اگر وہ اسے کسی سائنس میگزین میں شائع کردیں تو پھر اس میں دلچسپی لی جا سکتی ہے۔ ان سب تحفظات کے باوجود سرگئی نے انسان کے سر کے پہلے ٹرانسپلانٹ کے لیے دسمبر 2017 کی تاریخ مقرر کردی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس میں کس حد تک کامیابی حاصل کرپاتے ہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *