ہندوستان میں چڑیلوں کے شکاری

witch

ہندوستان میں خواتین کیخلاف مذہبی بنیادوں پرسن80 کی دہائی میں شروع ہونے والی باضابطہ وچ ہنٹگ Witch hunting آج اس سنسنی خیزموڑ پر آپہنچی ہے کہ تقریبا 40 خواتین کو ڈائن ہونے کے الزام میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کیلئے ’وچ‘ نیا لفظ ہو جبکہ انگریزی کی ہر ڈکشنری میں اس کا مطلب جادوگرنی، جادو ٹونا کرنے والی، ساحرہ، بدعقیدہ عورت، چڑیل ہوتا ہے ۔ایسی عورتوں کی تلاش کو ’وچ ہنٹ‘ کہا جاتا ہے۔یوں تو جادو ٹونے یا بدعقیدگی میں ملوث افراد کو اذیتیں یا سزائے موت دینے کا رجحان3 ہزار برس قبل حمورابی کے مجموعہ قوانین میں بھی ملتا ہے جبکہ فلسطین کے یہودی رباعی بھی بدعقیدہ اور جادو ٹونا کرنے والی عورتوں کو سزائے موت دیتے تھے۔ لیکن ’وچ ہنٹنگ‘ کی وبائی صورت میں 1480سے1700عیسوی کے عرصہ کے یوروپ میں ملتی ہے جب وہاں جاگیردارانہ اور مذہبی جنگیں زوروں پر تھیں۔جنگجو سردار اور پروٹسٹنٹ اور کیتھولک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔اس2سو سالہ دور میں یوروپ بھر میں پادریوں نے 40 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان عورتوں اور مردوں کو بدعقیدگی اور جادو ٹونے کے الزام میں زندہ جلاکر یا اعضا کاٹ کر یا ڈبو کر ہلاک کرنے کے احکامات جاری کئے۔ بھرے گاو ¿ں کے سامنے پادری عدالت لگاتا تھا، سزا سناتا تھا اور پھر ملزم یا ملزمہ پر پورا گاو ¿ں تھوکتا ہوا، ناچتا کودتا، نعرے لگاتا مرکزی چوک میں لے جاکر صلیب سے باندھ کر جلا دیتا یا سنگسار کردیتا یا ڈبو دیتا۔وچ ہنٹنگ نے اس وقت سیاسی معنی اختیار کئے جب 50کی دہائی میں امریکہ میں سینیٹر جوزف مکھارتھی کی قیادت میں بائیں بازو کے خیالات کی بیخ کنی شروع ہوئی۔ اور سیاست سے فلم تک ہر شعبہ میں امریکہ دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کی تلاش کا کام شروع ہوا۔پھر 18ویں صدی میں یوروپی حکومتوں نے روشن خیالی کی لہر کے زیر اثر ’وچ ہنٹنگ‘ کو قانوناً جرم قرار دینا شروع کیاجبکہ 19ویں صدی کے وسط کے بعد سے یوروپ میں کسی عورت یا مرد کو جادو ٹونے یا بدعقیدگی کے الزام میں ہلاک نہیں کیا گیا۔یہ الگ بات ہے کہ 50 کی دہائی میں امریکہ میں سینیٹر جوزف مکھارتھی کی قیادت میں بائیں بازو کے خیالات کی بیخ کنی شروع ہوئی۔ اور سیاست سے فلم تک ہر شعبے میں امریکہ دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کی تلاش کا کام شروع ہواجس میں ہزاروں دانشوروں، ٹریڈ یونین کارکنوں اور سوشلسٹ خیالات رکھنے والوں کیخلاف مہم چلا کرسرخا، کیمونسٹ اور امریکہ دشمن قرار دے کرنہ صرف ان کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا بلکہ ایف بی آئی کوبھی پیچھے لگا دیا گیا۔
ہندوستان میںجس طرح مذہبی جذبات کا دوردورہ ہے‘کوئی ٹی وی سیریل ہویا بالی ووڈ کی فلم ‘ بغیر’ وچ ہنٹنگ‘ کے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتی ‘کسی بھی عورت پر بدچلنی کا الزام اس کا ذہنی و جسمانی مستقبل تاریک کردینے کیلئے کافی ہے۔ آج پولیس رپورٹ شہادت دے رہی ہے کہ خواتین کو ڈائن ہونے کے الزام میں کس طرح موت کی نیند سلایا جارہا ہے۔ جھارکھنڈ کے قبائلی اکثریتی علاقے لوہردگا ضلع کے کوڑو تھانہ کے تحت ٹاٹی ڈومرٹولی گاو ¿ںمیںڈائن قرار دے کر برہنہ گھمانے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا نیا واقعہ سامنے آیا ہے جبکہ ملک میں گذشتہ آٹھ ماہ میں ڈائن کے نام پر متعدد خواتین کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔ جھارکھنڈ کی کدنی دیوی اس رسم کی نئی شکار بنی ۔پہلے ایک پنچایت میں کدنی دیوی کو ڈائن قرار دے کر ان کے بال کاٹ دئے گئے، بری طرح پٹائی کی گئی، کپڑے اتار دئے گئے اور اہل خانہ کے سامنے سرعام برہنہ کر کے گائوں میں گھمایا گیا۔پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے اور چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔کوڑو تھانہ انچارج پترس ناگ کے بقول ’متاثرہ کے بیٹے امیش منڈا کے بیان پر رپورٹ درج کی گئی ہے۔ اس معاملہ میں گاو ¿ں کے 17 افراد کیخلاف الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ متعلقہ گاو ¿ں کے چار افراد بلیندر اوراو ¿ں، بھوگلو اوراو ¿ں، بھولا منڈا اور ساوتری دیوی کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘پولیس نے بتایا کہ اس متاثرہ خاتون کے شوہر، بیٹے اور بیٹی نے کسی طرح بھاگ کر تھانے میں اطلاع دی تھی۔اس کے بعد پولیس وہاں پہنچی۔اس سے قبل بھی لوہردگا سے متصل گملا ضلع میں اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا جب لیمہا گاو ¿ں میں ایک بیوہ کو ڈائن قرار دے کر ان کا قتل کر دیا گیا ۔کہا جاتا ہے کہ سودھوا منڈا کے ایک بچے کی موت ہو گئی تھی اور انہیں شک تھا کہ اس بیوہ نے کسی قسم کا جادو ٹونا کیا تھا جس سے بچے کی موت ہو گئی۔
اس طرح جھارکھنڈ میں گذشتہ آٹھ ماہ میں 40 خواتین کو ڈائن قرار دے کر قتل کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ جنوری سے اگست تک کی ہے۔ یہ اعداد و شمار جھارکھنڈ پولیس کے جرائم کی ماہانہ رپورٹ میں درج ہیں جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی زیادہ تر ہلاکتیں قبائلی اکثریتی علاقوں میں ہوتی ہیں۔رانچی انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائی کیٹری اینڈ الائیڈ سائنسز کے ڈائریکٹر اور نفسیات کے ڈاکٹر امول رجن سنگھ کے بقول ’کسی کی بیماری یا موت میں بھوت، آسیب یا جھاڑ پھونک کرنے والوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا لیکن گاو ¿ں میں اب بھی مختلف قسم کے توہمات ہیں جنہیں آگہی کے ذریعہ ہی دور کیا جا سکتا ہے۔‘خاتون رضاکار لکھی داس ڈائن کے مبینہ رواج کیخلاف کولہان علاقے میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتی ہیںکہ ’ان معاملات میں زیادہ تر بیواو ¿ں کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں اب بھی توہمات کے گہرے اثرات ہیںجبکہ اس بابت ایک مطالعہ میں یہ پایا گیا ہے کہ ڈائن قرار دی جانے والی خواتین کو عوامی طور پر پاخانہ کھلایا جاتا ہے، ان کے بال کاٹ دئے جاتے ہیں اور انہیں برہنہ کر کے سر عام گھمایا جاتا ہے، لیکن دور دراز کے علاقوں میں ہونےوالے زیادہ تر واقعات سامنے نہیں آ پاتے۔عجیب بات یہ ہے کہ جھارکھنڈ کی ریاستی حکومت نے ڈائن رواج کے خاتمہ کی منصوبہ بندی کی ہے جس پر ہر سال 20 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیںجبکہ اس کچھ اثر نظر نہیں آتا!
اپنے ماحول کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ بے شمار بے بنیاد عقائد نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے جن میںمنگل اور بدھ کے روز شمال کی طرف سفر کو اچھا نہیں سمجھا جاتا‘ پیر اور جمعہ کے دن ، شمال کی طرف سفر کو اچھا سمجھا جاتا‘ جمعرات کے دن جنوب کی جانب نکلنا درست نہیں سمجھا جاتا‘ بدھ کے روز جو بھی کام کیا جائے وہ درست اور مفید ہوتا ہے‘ کاشتکاروں کے ہاں منگل کو فصل کاٹنا اور بدھ کو بوائی کرنابرکت تصور کیا جاتا ہے‘ پرندوں میں الو کو ویرانی کی علامت سمجھا جاتا ہے‘ کوا منڈیر پر کائیں کائیں کرے تو کسی مہمان کی آمد متوقع ہوتی ہے‘ کالی کھانسی والے بچوں کو علاج کیلئے ریچھ پر سوار کروایا جاتا ہے‘ چڑیاں دیواروں کیساتھ لگ کر چہچہائیں تو بارش کی نوید ہوتی ہے‘ کسی کے ہاں 3 بچوں کے بعد چوتھا بچہ پیدا ہو تو اسے ترکھل کہا جاتا ہے اور اسے نحوست سے تعبیر کیا جاتا ہے لہذا اسے چھلنی کو پھاڑ کے اس میں سے گزارتے ہیں‘ بچے کی پیدائش کے موقعے پر کانٹے دار جھاڑیوں کو چھت پر رکھتے ہیں تاکہ کوئی بیمار بلی یا کتا نہ گزرے جس سے بچے کی پیدائش پر اثر پڑتا ہے‘ حاملہ عورت کے کمرے میں چارپائی کے نیچے لوہے کا چاقو رکھتے ہیں اور گھر کے قفل کھول دئے جاتے ہیں‘ اگر کوئی بچہ مرگی کا مریض ہو تو اس کو جوتی سنگھائی جاتی ہے‘ کوئی کتا رات کے وقت روئے تو اسے موت کا شگون سمجھا جاتا ہے‘ کسی مرغ کا دن کے وقت بانگ دینا نحوست تصور کیا جاتا ہے‘ اگر بلی راستہ کاٹ جائے تو مقصد فوت ہو جاتا ہے‘ اگر آٹا گوندھتے ہوئے اس کا کچھ حصہ باہر گر جائے تو یہ شگون ہے کہ مہمان آنے والے ہیں‘عام طور پر شیر خوار بچوں کے سرہانے بڑھی بوڑھیاں لوے کی قینچی یا چاقو رکھتی ہیں کہ باہر والی چیزیں یعنی ، جنات وغیرہ بچے کو چمٹ نہ جائیں‘سمجھا جاتا ہے کہ جنات لوہے کی اشیاسے بھاگتے ہیں‘اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اگر اونٹ کے گوشت کی ہڈی گھر میں رکھی جائے تو جادو اثر نہیں کرتا‘بلیوں کا رونا نحوست ہوتا ہے‘شام کے بعد جھاڑو دینے سے رزق کم ہو جاتا ہے‘شام کے بعد ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں‘معروف بیماری خسرہ کومعمر عورتیں کالی ماتا کہتی ہیں اور اس کا نام بھی نہیں لینے دیتیں بلکہ جن بچوں کو خسرہ نکلتا ہے کہا جاتا ہے کہ ماتا نکل آئی ہے!
اسی سلسلہ میںگزشتہ چند برسوں کے دوران ہارمون اوکسی ٹوسین کے بارے میں متعدد ریسرچ کی گئی ہے، نتائج کی روشنی میں ماہرین طب نے کہا کہ یہ ہارمون جسمانی نشوونما کیساتھ ساتھ انسانوں کے سماجی رویہ پر بھی غیر معمولی طور پر اثر انداز ہو تا ہے۔یہاں تک کہ اسے لو ہارمون Love Hormone کہا جانے لگا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ لگائے جانے کے باوجود ہارمون اوکسی ٹوسین کا طبی استعمال اب بھی محدود ہے۔ اب تک اسے بچے کی پیدائش کے عمل کو سہل بنانے اور نومولود بچوں کی ماو ¿ں کے دودھ کے بہاو میں مدد کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ تاہم اب محققین ہارمون اوکسی ٹوسین کو نفسیاتی بیماریوں کے علاج کیلئے بھی بروئے کار لانا چاہتے ہیں اور اس بارے میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ ان کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس اہم ہارمون سے Schizophrenia جیسی نفسیاتی بیماری کے علاج میں کامیابی ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق PTSD یعنی Post Traumatic Stress Disorder اور خوف، اضطراب، بے چینی یا اعصابی خلل کی کیفیت میں ہارمون اوکسی ٹوسین کی مدد سے کیا جانے والا علاج مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ Schizophrenia کیا ہے اور اس کی علامات کیسی ہوتی ہیں۔ یہ در اصل ایک دماغی عارضہ ہے جس میں جذباتی و دماغی طرز عمل کا خلل پیدا ہو جاتا ہے، جیسے کہ حقیقت سے فرار، توہمات اور تدریجی ابتری۔
ان عوارض کے علاج کیلئے ہارمون اوکسی ٹوسین پر کلینکل سطح پر تحقیق کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد محققین نے نفسیاتی بیماریوں کے علاج کیلئے اسے مو ¿ثر قرار دیا ہے۔ اس بارے میں یونیورسٹی آف سان فرانسسکو، سان ڈیئیگو کے نفسیاتی علاج کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر کائی میک ڈونلڈ نے کہا ہے کہ اگرچہ اوکسی ٹوسین ہارمون پر کی جانے والی ریسرچ کے نتائج حوصلہ افزا ہیں تاہم ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کائی مک ڈونلڈ نے ہارمون اوکسی ٹوسین Oxytocinکے ذریعے مختلف دماغی اور نفسیاتی بیماریوں، خاص طور سے شیزوفرینیا کے علاج کے سلسلہ میں ایک اہم نکتے کی نشاندہی کی ہے۔ وہ یہ کہ اوکسی ٹوسین کا مالیکیول بہت بڑا ہوتا ہے، اس لئے یہ خون کے ذریعے دماغ تک آسانی سے نہیں پہنچ پاتا۔ دوسرے یہ کہ یہ ہارمون معدے اور خون میں بہت جلدی اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ محققین ابھی اس بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں کہ اس ہارمون کو خون کے ذریعے دماغ تک پہنچانے کیلئے اس کا سائز کتنا ہونا چاہئے اور یہ کہ اسے کتنی دیر تک استعمال کیا جائے کہ اس کے واضح اثرات سامنے آ سکیں۔ ڈاکٹر کائی مک ڈونلڈ کا کہنا ہے کہ سب سے مشکل امر اس ہارمون کے ڈوز یا اس کی مقدار کا تعین ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اس کا حتمی تعین ہونے کے بعد بہت سے دماغی مریضوں کے علاج میں یہ بہت مدد گار ثابت ہوگا۔
یہ ایک ایسا ہار مون یا بغیر نالی کے غدود سے خارج ہونے اور خون میں شامل ہو کر دوسری بافتوں کو حرکت دینے والی رطوبت کی وہ قسم ہے، جو دماغ میں موجود Pituitary gland سے نکلتی ہے۔ اوکسی ٹوسین ہارمون جسم اور دماغ دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پیچوٹری گلینڈ دراصل بیضوی شکل کا ہارمون زا غدہ ہے، جو دماغ کی اساس میں واقع ہوتا ہے اور اس کا کام ایسے ہارمون خارج کرنا ہوتا ہے، جو نشوونما، بلوغت، تولید اور دیگر جسمانی وظائف پر وسیع اثر رکھتا ہے۔ یہ بچے کی پیدائش کے وقت رحم مادر کی حفاظت اور زچہ خواتین کے اندر دودھ کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔یہ ہارمون دودھ پلانے والے جانوروں یا چوہے، کتے، اور بندر جیسے میملز کے سماجی رویے میں اور دیگر جانوروں کیساتھ تعامل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کے سماجی رویے پر بھی اس ہارمون کے اثرات اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں کے اندر اوکسی ٹوسین ہارمون کے تجربے کیلئے اس ہارمون کا ان کے نتھنوں میں اسپرے کیا گیا۔ ڈاکٹر میک ڈونلڈ کے مطابق اس کا اثر یہ دیکھا گیا کہ وہ لوگ جو دوسروں سے بات چیت کرنے سے گریز کرتے تھے اور دیگر انسانوں کے جذباتی رویے کو سمجھنے اور ان کی نفسیات کو پہچاننے سے گریز کرتے تھے، وہ دوسرے انسانوں کی نگاہوں کا غور سے جائزہ لینے لگے تاکہ ان کے جذبات و احساسات پڑھ سکیں۔اس کے علاوہ شیزوفرینیا جیسی نفسیاتی بیماری یا خوف، اضطراب، بے چینی اور اعصابی خلل کی کیفیت سے دوچار مریضوں، خاص طور سے توہم پرستی کے شکار افراد کو دیگر ادویات کیساتھ ساتھ تین ہفتوں تک اوکسی ٹوسینOxytocin ہارمون بھی دیا گیا۔ اس کے بہت مثبت اثرات سامنے آئے۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ تمام تر دماغی اور نسیاتی عارضوں کے علاج کیلئے محض اوکسی ٹوسین ہارمون کا استعمال کافی ہونے کے بارے میں ہنوز یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ضرور ہے کہ اس پر کی جانے والی اب تک کی تحقیق کے نتائج نہایت مثبت نظر آ رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *