کتھے او بادشاہو!

gul

2000 ء میں اُس کا پہلا فون آیا تھا‘ ملنا چاہتا تھا‘ میں اُن دنوں ادبی اخبار’’مکمل‘‘ نکالا کرتاتھا۔ اُسے افسانے لکھنے کا شوق تھا۔ پہلی ملاقات میں ہی اس نے اپنا افسانہ تھما دیا۔پھر روز ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔اس کے اندر کوئی بے چین روح تھی‘افسانے کی باتیں اسے عجیب سا سکون دیتی تھیں‘ ہر وقت ایک نئی کہانی سنانے کو تیار رہتا۔شروع شروع میں مجھے لگا کہ وہ ایک نہایت بور انسان ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ کھلا کہ اسے گنگنانے کا بھی شوق ہے‘ ہنستا بھی دل کھول کے ہے لیکن کافی شرمیلا ہے ۔ اس کا شرمیلا پن اس کے افسانوں میں بھی در آیا۔میرا ہر دفعہ اس سے جھگڑا ہوتا تھا کہ افسانہ لکھتے وقت بھول جایا کرو کہ اسے کس نے پڑھنا ہے‘ کہانی کی روانی میں تبلیغ کا عنصر کم رکھا کرو۔ وہ ہر دفعہ وعدہ کرتا اور ہر دفعہ بھول جاتا۔ لیکن پھر پتا نہیں کیسے اس رمز کو پا لیا اور دِنوں میں ایسے افسانے لکھے کہ بے اختیار سب کو چونکا کے رکھ دیا۔ اس کی ایک خواہش یہ بھی تھی کہ کبھی اس کا افسانہ کسی ڈائجسٹ میں لگے اور ساتھ افسانے سے متعلقہ کوئی خاکہ بھی شائع ہو۔ میں اس کی یہ معصومانہ خواہش سن کر بہت ہنستا تھا‘ ایک دن میں نے اسے ساتھ لیا اور ’سیارہ ڈائجسٹ‘ کے دفتر پہنچ گیا۔ یہاں میں ایڈیٹر کے فرائض سر انجام دے چکا تھا اور چیف ایڈیٹر امجد رؤف صاحب سے میری بڑی اچھی سلام دعا تھی۔ میں نے اس کا افسانہ امجد رؤف صاحب کی خدمت میں پیش کیا اور درخواست کی کہ یہ آئندہ شمارے میں ضرور شائع فرمائیں۔
ایک ماہ بعد جب ڈائجسٹ کا تازہ شمارہ سامنے آیا تو محمداعظم خان کا افسانہ اس میں شامل تھا۔ میں نے پہلی بار اسے اتنا خوش دیکھا کہ بے اختیار مجھے اس پر بہت پیار آیا۔اس کی خواہشیں بڑی چھوٹی چھوٹی تھیں لیکن اُس کے نزدیک بہت بڑی تھیں۔مثلاً اس کی خواہش تھی کہ کبھی ٹی وی پر اس کا ڈرامہ چلے۔ اس مقصد کے لیے میں نے بہت دفعہ اسے پروڈیوسرز سے ملوایا لیکن شائد کمرشل ڈرامہ اس کے مزاج سے مطابقت نہیں کھاتا تھا لہذا اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوسکی۔ اسے مزاح لکھنے کا بھی شوق تھا‘ کچھ عرصہ اس نے کالم بھی لکھے لیکن پھر واپس افسانے کی طرف لوٹ گیا۔ میری زندگی میں جن دوستوں نے رنگ بھرے ہیں ان میں اعظم خان کا نام سرفہرست ہے‘ ہم نے بہت سے سفر اکٹھے کیے‘ بہت سی ادبی محفلوں میں شرکت کی اور بہت سی شامیں گانے گاتے ہوئے گذاریں۔اعظم خان کو ہنسنا بہت آسان تھا‘ میں کوئی چھوٹا سا چٹکلہ چھوڑتا اور وہ ہنس ہنس کے بے حال ہوجاتا۔اس دوران کوئی بولڈ لطیفہ آجاتا تو اعظم خان کے چہرے کی رنگت دیکھنے والی ہوتی‘ ایک دم سے وہ لال سرخ ہوجاتا اور یوں لگتا جیسے اس کے اندر کسی شرمیلی سی لڑکی کی روح حلول کر گئی ہے۔مجھے اس کا یہ روپ بہت دلچسپ لگتا تھا لہذا جان بوجھ کر ایسے لطیفے سناتا اور وہ بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنستا چلا جاتا۔اسے اپنی فیملی سے بہت پیار تھا‘ بیوی بچوں کے ساتھ اتنا منسلک تھا کہ’’گھریلو شوہر‘‘ کی تعریف پر سو فیصد پورا اترتا تھا‘ میں نے کبھی اسے کسی خاتون سے متاثر ہوتے نہیں دیکھا‘ ہمیشہ ریزرو سا رہتا اور خواتین کی موجودگی میں حتی الامکان بولنے سے پرہیز کرتا۔
میں اور دیگر دوست گواہ ہیں کہ نہ اعظم خان نے ساری زندگی سگریٹ کو ہاتھ لگایا‘ نہ بہکنے والا کوئی مشروب استعمال کیا‘ نہ صنف نازک سے میل جول رکھا‘ نہ بازاری کھانے کھائے‘ حتیٰ کہ سر درد وغیرہ کی صورت میں کبھی کوئی گولی بھی نہیں کھائی۔۔۔اس کے باوجود پتا نہیں کہاں سے’ ہیپا ٹائٹس سی ‘اس کے اندر اتر گیا۔۔۔وہ تو دفتر میں بھی گھر سے کھانا لے کے جایا کرتا تھا‘ نفاست کا یہ عالم تھا کہ ساری زندگی میں نے اسے صاف ستھرے ‘ دھلے ہوئے‘ بہترین استری کیے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا۔اس کے پاس موٹر سائیکل تھی لیکن اس کے باوجود اس کے کپڑوں پر کبھی گرد کا نشان تک نظر نہیں آیا۔میں نے اس کے اندر ہمیشہ اپنے بیوی بچوں کے لیے پیار ہی پیار بھرا دیکھا۔ اپنی اہلیہ کا ذکر کرتا تھا تو لہجے میں عجیب سی عقیدت بھر جاتی تھی‘ اپنی ساری کامیابیوں کا کریڈٹ اپنی اہلیہ کو دیتا تھا۔ ہم ایک دوسرے کی فیملی سے واقف تھے اور میں کبھی کبھی اعظم خان کو کہا کرتا تھا کہ جیسی طبیعت بھابی کی ہے کاش ایسی بیویاں ہر ادیب کو ملیں۔ بھابی نے ہمیشہ اس کے بطور ادیب آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کی۔ جب وہ کچھ لکھ رہا ہوتا تھا تو یہ بھابی ہی تھیں جو خوش ہوتی تھیں اور بچوں کو سختی سے منع کرتی تھیں کہ پاپا کے کمرے میں مت جائیں‘ انہوں نے ہمیشہ اپنے شوہرسے ‘ اس کی کتابوں سے اور اس کی تحریر سے والہانہ محبت کی۔یہ محنتی انسان ساری زندگی نوکری کرتا رہا‘ پارٹ ٹائم بھی مزدوری کرتا رہا‘ لکھ لکھ کررزق حلال کمانے کی جستجو کرتا رہا‘ایک ایک پیسہ جوڑتا رہا اور پھر اس نے جوہر ٹاؤن میں اپنا پانچ مرلے کا گھر بنایا۔ وہ بھی اس کی زندگی کا بہت قیمتی دن تھا‘ گھر کے درو دیوار سے اس کی محبت چھلکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی‘ اس کی ساری فیملی اور اس کی ماں جی بہت خوش تھیں۔اس کی والدہ انتہائی شفیق خاتون ہیں‘ میری جب بھی ان سے ملاقات ہوئی میں نے انہیں اپنے اور سب کے بیٹوں کے لیے دعا گو ہی پایا۔
ایک ماہ پہلے اعظم خان میرے دفتر آیا‘ اس کی حالت دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا‘ انتہائی نقاہت سے چل رہا تھا اور بڑی آہستہ آواز میں باتیں کر رہا تھا۔ بیماری اس کی ہڈیوں تک میں اتر گئی تھی اور اب جگر کھا رہی تھی۔میں نے اس روز بڑی کوشش کی کہ یہ گانا گائے‘ ہنسے‘ قہقہے لگائے لیکن اس کے چہرے سے عجیب سی تھکن چھلکتی رہی۔جاتے ہوئے اس نے مجھے گلے سے لگایا اور آہستہ سے کہنے لگا’’میں سب دوستوں سے آخری ملاقات کررہا ہوں‘‘۔ اس کا کہا سچ ثابت ہوا اور مجھ سے یہ اس کی آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ دو ہفتے پہلے مجھے بھابی کا فون آیا کہ اعظم کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔میں اس وقت ملتا ن میں تھا کیونکہ والدہ شدید علیل تھیں۔ میں نے فوراً اس کے لیے دعا کی اور بھابی سے کہا کہ میں ایک دو دن میں لاہور پہنچ رہا ہوں۔۔۔لیکن میں لیٹ ہوگیا۔۔۔محمد اعظم خان بہت جلدی میں تھا ‘ اس سے انتظار نہیں ہوسکا لہذا سب سے ناطہ توڑ گیا۔
آج اس کے بچے یتیم اور اہلیہ بیوہ ہوچکی ہے‘ وہ گھر جسے اعظم خان نے انتہائی محبت اور چاہت سے بنوایا تھا اس کی دیواروں پہ اداسی بال کھولے سورہی ہے۔۔۔ایک افسانہ نگار منوں مٹی تلے دفن ہوچکا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا اتنا پیارا دوست بھی قبر میں جاسوئے گا‘ لیکن موت سے کس کو انکار ہے۔۔۔محمد اعظم خان خالق حقیقی سے جا ملا ہے لیکن اس کا فیس بک اکاؤنٹ اب بھی ایکٹو ہے اور شائد ہمیشہ رہے گا کیونکہ اس کا پاس ورڈ بھی محمد اعظم خان اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ مجھ سے اپنے بچھڑنے والے دوست ان فرینڈ نہیں کیے جاتے‘ نہ میں ان کے نمبر اپنے موبائل سے Delete کرتاہوں‘ اعظم خان کا نمبر بھی میرے موبائل میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔۔۔ہوسکتا ہے کسی دن موبائل کی گھنٹی بجے‘ اوپر اعظم خان لکھا ہوا آئے اور جب میں کال اٹینڈ کروں تو آگے سے میرے یار کی کھلکھلاتی ہوئی آواز آئے’’کتھے او بادشاہو۔۔۔!!!‘‘

کتھے او بادشاہو!” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *