خون کی گردش کیسی جا رہی ہے؟ اب بتائے گا کیمرہ

 کیلیفورنیا : یونیورسٹی آف واٹرلو کے ماہرین کی جانب سے ایک کیمرہ سسٹم بنایا گیا ہے جسے ہیموڈائنامک امیجنگ سسٹم کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس کے ذریعے خون، رگوں اور دل کے امراض کی پیشگوئی بھی ممکن ہوسکے گی۔ یونیورسٹی کے سائنسداںوں کا کہنا ہے کہ پرانے نظاموں کے ذریعے صرف ایک جگہ (نبض) سے ہی خون کو نوٹ کیا جاسکتا ہے جب کہ یہ سسٹم ورچول (مجازی) سسٹم کی طرح کام کرتا ہے اور جسم کے پورے نظام میں خون کی گردش پر نظر رکھتا ہے اور اس کے ذریعے بدن کے قریباً ہر نقطے پر خون کا دباؤ بھی نوٹ کیا جاسکتا ہے جو کمپیوٹر پروگرام میں جاکر جسم کے خونی نظام کی مکمل تصویر فراہم کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس نظام کے ذریعے بوڑھے افراد میں خون کے دباؤ سے وابستہ امراض کی بروقت اور وقت سے قبل پیش گوئی کی جاسکتی ہے، اسی طرح چھوٹے بچوں کی نگہداشت اور جلنے والے امراض کے زخم ٹھیک کرنے میں بھی مدد ملے گی، یہ سسٹم حقیقی وقت میں لگاتار خون کے بہاؤ اور پریشر کو نوٹ کرتا ہے، اگرکہیں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ہوگی تو اس کی فوری نشاندہی ممکن ہوسکتی ہے۔ ہیموڈائنامک امیجنگ سسٹم کی تیاری میں کئی ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں جن میں امیجنگ، کمپیوٹرٹیکنالوجی اور دیگر علوم شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ نظام ایکس رے اور الٹراساؤنڈ سے بھی محفوظ ہے جس میں جلد پر آنے والی روشنی میں تبدیلی سے خون کے بہاؤ کو نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ اب اگر خون کی کسی نالی میں دباؤ ہے یا کوئی رکاوٹ ہے تو اس کی شناخت بھی آسانی سے ہوجاتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس نظام کو مزید بہتر بناکر بدن میں خون کے دباؤ اور امراضِ قلب کا پتا بھی لگایا جاسکتا ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *