جنیاتی ردوبدل کی اجازت، ڈیزائنربچوں کا دورقریب

Genes

برطانیہ کے سائنسدانوں کو انسانی ایمبریو (رحم مادر میں نامکمل بچے) میں جینیاتی رد و بدل کی تحقیق کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ تحقیق لندن کے فرانسس کرک انسٹیٹیوٹ میں کی جائے گی، جس کا مقصد انسانی زندگی کے ابتدائی مرحلے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا ہے۔ یہ تجربات حمل ٹھہرنے کے بعد پہلے سات دنوں میں کیے جائیں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ حمل ضائع ہونے میں کیا وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ تاہم ان رد و بدل کیے گئے ایمبریوز کو دوبارہ خواتین میں ڈالنے پر ممانعت ہوگی۔ جینیات میں رد و بدل ہمارے ڈی این اے میں چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہے۔ ڈی این اے ایک انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔
گذشتہ سال چین کے سائنسدانوں نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے انسانی ایمبریو میں کچھ جینیاتی تبدیلیاں کی ہیں تاکہ اس جین کو درست کیا جا سکے جس کی وجہ سے خون کے خلیات میں بے ترتیبی پیدا ہوجاتی ہے۔ سائنس کا یہ میدان ابھی تنازعات کا شکار ہے، جس میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک ایمبریو کے ڈی این اے میں رد و بدل ابھی بہت آگے کی بات ہے اور یہ کہ اس تجربے سے ڈیزائنر بچے پیدا کرنے کا رواج پڑ جائے گا۔ ہم دراصل یہ سمجھنا چاہتے ہی کہ وہ کیا جین ہیں جن سے ایک انسانی ایمبریو کامیابی سے ایک جیتے جاگتے انسان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔یہ تجربہ کرنا اس لیے ضروری ہے کہ آج کل حمل ضائع ہونے اور بانجھ پن کے واقعات بہت عام ہوتے جارہے ہیں لیکن ان کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔
ڈاکٹر کیتھی نائی کان انسانی ایمبریو میں رد و بدل کی ضرورت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ہم دراصل یہ سمجھنا چاہتے ہی کہ وہ کیا جین ہے جن سے ایک انسانی ایمبریو کامیابی سے ایک جیتے جاگتے انسان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔‘
’یہ تجربہ کرنا اس لیے ضروری ہے کہ آج کل حمل ضائع ہونے اور بانجھ پن کے واقعات بہت عام ہوتے جا رہے ہیں لیکن ان کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔‘ ایک عورت کی بیضہ دانی کے ہر 100 انڈوں میں سے 50 سے کچھ ہی زیادہ تولیدی عمل کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہوتے ہیں، 25 بچہ دانی میں چلے جاتے ہیں اور صرف 13 ہی تین ماہ سے آگے پروان چڑھتے ہیں۔
ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی (ایچ ایف ای اے) نے اس تجربےکی اجازت دے دی ہے جس کا آغاز کچھ ہی ماہ میں کر دیا جائے گا۔ کرک کے ڈائرکٹر پال نرس کہتے ہیں کہ ’مجھے خوشی ہے کہ ایچ ایف ای اے نے ڈاکٹر نائی کان کی درخواست منظور کر لی ہے۔‘ ’ڈاکٹر نائی کان کی تحقیق سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ایک صحت مند ایمبریو کس طرح پروان چڑھتا ہے اور انسانی زندگی کے ابتدائی مراحل پر غور کرنے سے ہمیں آئی وی ایف ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اسے کامیاب کرنے میں مدد ملے گی۔‘ ڈاکٹر نائی گذشتہ ایک دہائی سے انسانی زندگی کی نشونما پر تحقیق کر رہی ہیں اور اب وہ اس کے ابتدائی سات دنوں کو سمجھنا چاہتی ہیں۔ ’اس دوران ہم زرخیز تولیدی مادے سے ایک ابتدائی شکل بلاسٹو سسٹ پر تجربہ کریں گے۔ ایک بلاسٹو سٹ میں 200 سے 300 خلیات ہوتے ہیں۔‘ لیکن بلاسٹوسسٹ کے اس ابتدائی مرحلےمیں بھی کچھ خلیات مخصوص کردار ادا کررہے ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ خلیات بچے کے گرد موجود جھلی بنانے کا کام کرتے ہیں، کچھ مرکزی جھلی جبکہ کچھ خلیات سے بالآخر انسانی جسم وجود میں آتا ہے۔ اس تمام وقفے کے دوران عورت کے ڈی این کے کچھ حصے انتہائی متحرک رہتے ہیں۔ اور یہی جین ہماری زندگی کی ابتدائی نشونما میں اہم کردا ادا کرتے ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کیا کر رہے ہوتے ہیں اور ایک حمل ضائع ہونے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں۔
یہ تحقیق عطیہ کیے جانے والے ایمبریو پر کی جائے گی۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی ڈاکٹر سارہ چن کا کہنا ہے کہ ’ایمبریو کے جینوم میں رد و بدل کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تحقیق سے کئی حساس معاملات نے جنم لیا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ایچ ایف ای اے اس تحقیق اور اس کے مضمرات پر غور کرنے کے بعد ہی اس کو شروع کر نے کی اجازت دے۔ ’ہمیں بھروسہ رکھنا چاہیے کہ ہمارا انضباطی نظام سائنس کو سماجی فائدے کے لیے استعمال کرنے میں پر عزم ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *