بھارت میں ہم جنس پرستی قانونی قراردینے کی پٹیشن عدالت میں

Same Sex

بھارت میں ہم جنس پرستی کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں، اس سوال پر اب سپریم کورٹ کا پانچ رکنی آئینی بینچ غور کرے گا۔ سپریم کورٹ نے جنوری سنہ 2014 میں اس قانون کو آئین سے ہم آہنگ قرار دیا تھا جس کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق اور ہم جنس پرستوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا تھا جس پر منگل کو غور کیا گیا۔ بھارت میں جس قانون کے تحت ہم جنس پرستی جرم کے زمرے میں آتی ہے وہ 19 صدی میں بنایا گیا تھا۔ اس وقت بھارت میں برطانیہ کی حکومت تھی۔ اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا موقف ہے کہ 21 صدی میں ایسے قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایک لمبی قانونی لڑائی کے بعد سنہ 2009 میں دہلی ہائی کورٹ نے قانون کی اس شق کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم جنس پرستوں کے سر سے سزا کی تلوار ہٹ گئی تھی۔ لیکن پھر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد ہم جنسی پرستی ایک مرتبہ پھر جرم کے زمرے میں شامل ہوگئی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف صرف کیوریٹو پٹیشن کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے جو اکثر بند کمرے میں سنی جاتی ہے اور شاذ و نادر ہی عدالت اپنا فیصلہ بدلتی ہے۔ لیکن اس مرتبہ سپریم کورٹ نے کھلی عدالت میں کیوریٹو پٹیشن کی سماعت کی اور چند ہی منٹوں میں یہ فیصلہ سنایاگیا کہ معاملے کی سماعت پانچ رکنی آئینی بینچ کرے گا۔ یہ فیصلہ آتے ہی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہندو، مسلم اور عیسائی مذہبی تنظیمیں اس پابندی کے حق میں ہیں کیونکہ وہ ہم جنس پرستی کو غیر فطری عمل مانتی ہیں، جس سے ان کے خیال میں معاشرے پر غلط اثر پڑتا ہے لیکن شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا موقف ہے کہ ہم جنس پرست چاہے کتنی بھی چھوٹی اقلیت کیوں نہ ہوں، ان کے انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا :-

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *