فیملی پلاننگ پر اعتراضات کا جائزہ

Collage of a family spending time together at homeفیملی پلاننگ پر مختلف حلقو ں کی طرف سے بعض اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ایک عام انسان کے ذہن میں بھی اس سے متعلق بہت سے شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ ان اعتراضات کا جائزہ لیا جائے:پہلا اعتراض یہ ہے کہ فیملی پلاننگ پروردگار کی صفت رزاقیت پر عدم اعتماد ہے ۔ہر فرد کو پروردگا ر ہی رزق دیتا ہے ۔اس لیے ضبط ولادت نہیں کرنی چا ہیے۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہماری پچھلی پوری بحث میں کہیں بھی رزق کا سوال زیر بحث نہیں آیا ۔اس کے برعکس ہماری ساری بحث ماں ،بچے اور باپ کی تعلیم ،صحت اور پرسکون زندگی سے متعلق تھی۔اصل ایشو یہ ہے کہ بچوں کی صحیح تربیت ،ان کی تعلیم،ان کی صحت اور ان کو ایک ذمہ دار انسان بنانے کے لیے بچوں کی ولادت میں وقفہ ضروری ہے۔ ماں کی صحت اور باپ کی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ بچو ں میں مناسب وقفہ ہو۔ ظاہر ہے کہ اس سے رزق کے سوال کا کوئی تعلق ہی نہیں ۔کسی ایسی جگہ میں جہاں قدرت غیب سے رزق نازل فرماتا ہو اور دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہوں،وہاں بھی بچو ں کی پیدا یش میں مناسب وقفہ بہت ضروری ہے ۔اس لیے حقیقت تو یہ ہے کہ اس اعتراض کا فیملی پلاننگ سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔
تاہم چونکہ عامتہ الناس میں پروردگار کی صفت رزاقیت کے متعلق بڑی غلط فہمیاں ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ اس امر کو واضح کیا جائے کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔بحیثیت مسلمان یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اول و آخر سب کام اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔سلطنت اور ہر عزت و دولت اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔وہی غالب اورزبردست ہے۔تاہم اس دنیا میں پروردگار جو بھی فیصلہ صادر فرماتا ہے اور جو کام بھی کرتا ہے،وہ لازماً کچھ شرائط سے مشروط ہوتا ہے ۔مثلاً قرآن مجید نے ہمیں بتا یا ہے کہ کسی شخص کو ہدایت بھی پروردگار ہی دیتا ہے اور کسی کو گمراہ ٹھہرانے والا بھی وہی ہے۔اور یہ بھی کہ اللہ جس کے قلب و ذہن پر چاہے،مہر لگا دیتا ہے۔پھر اس سے خیر کو قبول کرنے کی صلاحیت چھن جاتی ہے۔اب ظاہر بین نظروں سے ان آیات کو پڑھ کر یہ سوچا جا سکتا ہے کہ جب ایسا ہے تو پھر کیوں کسی کو ہدایت کی تبلیغ کی جائے اور کسی انسان کی نیکی و بدی کا وبال اس پر کیوں ہو۔چنانچہ قرآن مجید نے وہ قانون بھی بیان کر دیا ہے جس کے تحت وہ انسانوں کو ہدایت دینے یا گمراہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔وہ یہ کہ پروردگار نے ہر ایک کو اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے اور اگر وہ صحیح راستہ ڈھونڈنا چاہے گا تو پروردگار اسے لازماً سیدھا راستہ دکھائے گا ۔لیکن اگر وہ خود ہی نافرمانی کے راستے پر چلے گا ،بار بار وہ اپنے ارادہ و اختیار کو غلط استعمال کرے گا اور گمراہی اختیار کرے گا تو پروردگار بھی ا س کے لیے گمراہی کا فیصلہ کرلے گا، جیسا کہ سورۃ صف میں ہے :پس جب وہ خود ہی کج ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل کج کر دئے۔ یہی معاملہ رزق کا ہے ۔بے شک رزق کی کنجیاں پروردگار کے ہاتھ میں ہیں۔وہ جس کے لیے چاہتا ہے،رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے ۔ہر جا ن دار کو وہی رزق دیتا ہے اور نہ دینے کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ شرط لگی ہوئی ہے کہ انسان اس کے لئے کوشش کرے گا تو رزق اس کو ملے گا اور اگر کوشش نہیں کرے گا تو اس کے حصے کا رزق اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
ارشاد ہے: انسان کے لیے صرف وہی کچھ ہے جس کی کوشش اس نے خود کی ۔(النجم۔) یہ بھی فرما یا کہ :حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے طور طریقوں کو بدل نہیں دیتی۔ (الرعد)
قرآن مجید نے کئی دوسرے مواقع پر بھی یہ بات بہت واضح طریقہ سے بیان کی ہے کہ پروردگار کسی کا عمل ضائع نہیں ہونے دے گا ۔اور بغیر عمل کے پروردگار عموماً کسی کو کچھ بھی نہیں دیتا ۔چنانچہ پروردگار کی صفت رزاقیت کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار نے رزق کے خزانے اس زمین میں انسان کے لیے رکھے ہیں اور اسے عقل وعلم دیا ہے کہ وہ ان سے صحیح طور پر ا ستفادہ کرے گا ۔وہ اپنی عقل استعمال کرے گا تو پروردگار یہ ا س کے حوالے کر دے گا ۔چنانچہ انسان کو اس معاملے میں بھی پوری پلاننگ کر نی ہے۔بغیر کوشش کیے اس کے حصے کا رزق بھی اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک جہاں سائنسی طریقوں پر کاشت کاری کی جاتی ہے،جہاں کھاد اور پانی کا صحیح استعمال کیا جاتا ہے،ان کی زمین غیر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کئی گنا زیادہ فصل لاتی ہے۔غیر ترقی یافتہ ممالک میں زرعی ملک کہلاتے ہوئے بھی ،زمین سے اگنے والی چیزوں کے لیے بھی ،ترقی یافتہ ممالک کے محتاج ہوتے ہیں۔موت جیسی اٹل چیزمیں بھی پروردگار انسان کی کوشش کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ سورۃآل عمران میں ہے :میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔
یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں دوران زچگی میں ایک لاکھ خواتین میں سے صرف پانچ خواتین موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔اس کے برعکس پاکستان میں ساڑھے تین ہزار ( اعدادوشمار میں وقت کے لحاظ ست تبدیلی آسکتی ہے ۔ ایڈیٹر ) خواتین فوت ہو جاتی ہیں۔اسی طرح نوزائیدہ بچوں کے ضمن میں ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہزار بچوں میں سے آٹھ بچے فوت ہوجاتے ہیں۔اس کے مقابلے میں پاکستان میں ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے پچاس بچے فوت ہو جاتے ہیں۔چنانچہ رزق کے بارے میں بھی یہ جان لینا چا ہیے کہ یہ پروردگارکی طرف سے کوئی غیر مشروط وعدہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی سعی ،جدوجہد اور پلاننگ سے مشروط ہے۔
دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید نے قتل اولاد سے منع کیا ہے ۔فیملی پلاننگ دراصل قتل اولاد ہی ہے۔اس لیے فیملی پلاننگ نہیں کرنا چا ہیے۔ یہ اعتراض صحیح نہیں ہے ۔اصل معاملہ یہ تھا کہ زمانہ جاہلیت میں لڑکوں کو زندہ دفن کرنے کی نہایت سفاکانہ رسم جاری تھی۔ان کے نزدیک لڑکی کی پیدایش کوئی باعث افتحار نہیں ،بلکہ باعث شرم تھی ۔اس لیے کہ لڑکیاں معاشی جدوجہد میں بھی زیادہ کام نہیں آ تیں۔جنگ کے دوران میں اگر دشمن ا نھیں پکڑ کر لے جائیں یاسسرال والے اچھا سلوک نہ کریں تو بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لیے لڑکیوں کو پیدا یش کو وہ اپنے اوپر بوجھ سمجھتے تھے اور ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتے تھے ۔حتیٰ کہ ا نھوں نے اسے اپنے مشرکانہ مذہب کا ایک حصہ بنا لیاتھا ۔چنانچہ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس کی جانب توجہ دلائی ۔مثلاً ارشاد ہے اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ اندر ہی اندر گھٹنے لگتا ہے ۔اس منحوس خبر پر وہ لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ اس کو ذلت کے ساتھ رکھ چھوڑے یا اس کو مٹی میں دفن کردے ۔افسوس !کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔( سورۃ النحل)
مزید ارشاد ہے: اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی۔ (التکویر)
مزید ارشاد ہے: اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کے شرکاء نے ان کی اولاد کے قتل کو ایک اچھا فعل بنا دیا ہے تاکہ ان کو تباہ کریں اورتاکہ ان کے دین کو ان کے لئے بالکل گھپلا کردیں ۔ (الانعام:)
مزید ارشاد ہے: اور تم اپنی اولاد کو نادا ری کی اندیشہ سے قتل نہ کرو ۔ہم ہی ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی۔بے شک ان کا قتل بہت بڑا جرم ہے ۔(بنی اسرائیل
درج بالا آیات سے یہ بات صاف واضح ہے کہ ان کا تعلق جاہلیت کی ایک نہایت قبیح اور ظالمانہ رسم سے تھا ۔ان کا فیملی پلاننگ سے دور کا بھی تعلق نہیں بنتا۔اگر فیملی پلاننگ کا اس سے کوئی تعلق ممکن ہوتا تو حضو رﷺکبھی بھی عزل(coitus interruptus) کی اجازت نہ دیتے ۔اس زمانے میں یہ فیملی پلاننگ کا واحد ممکن طریقہ تھا ۔صحیح مسلم اور صحیح بخاری ،دونوں کے مطابق حضرت جابرؓ نے فرمایا :ہم لوگ عہد نبویﷺ میں عزل کیا کرتے تھے اور قرآن نازل ہو رہا تھا۔ آگے صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں :اگر عزل ممنوع ہوتا تو قرآن ضرور اس سے روک دیتا۔ حضرت جابرؓ ہی سے صحیح مسلم میں ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں عزل کیا کرتے تھے ۔آپﷺ کو یہ خبر پہنچی مگر آپﷺ نے اس سے ہم کو منع نہیں کیا۔ (صحیح مسلم۔کتاب النکاح)
پس یہ امر بالکل واضح ہے کہ قتل اولاد بالکل الگ چیز ہے اور فیملی پلاننگ بالکل الگ چیز ہے۔
اس کے بعد یہ سے اہم اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ سورۃ بقرہ کی آیت کے مطابق تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں۔ تمھیں اختیار ہے جس طرح چاہواپنی کھیتی میں جاو۔کھیتی سے انسان پیدوار ہی تو حاصل کرتا ہے اور فیملی پلاننگ تو دراصل پیدوار نہ لینے کے مترادف ہے۔اس لیے فیملی پلاننگ خلاف اسلام ہے۔
درحقیقت یہ بات یوں نہیں ہے ۔درج بالا آیت میں مرد اور شوہر کو ایک ذمہ دار کسان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ایک ذمہ دار کسان اپنی کھیتی کو پہلے کھاد اور پانی دیتا ہے ۔اور صرف وہی فصل بوتا ہے جس کی ضرورت ہو۔فصل لینے کے دوران میں بھی اپنی کھیتی کی پوری حفاظت کرتا ہے اس کو بیماری کے حملے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور جب فصل لے لیتا ہے تو کھیتی کو آرام کرنے کے لیے ایک وقفہ دیتا ہے تاکہ وہ دوسری فصل کے صحیح طریقہ سے قابل ہوجائے ۔جو کسان ایسا نہیں کرتا وہ ایک غیر ذمہ دار کسان ہے ۔پس درج بالا آیت تو ایک شوہر پر بہت ذمہ داری ڈالتی ہے ۔وہ یہ کہ اسے اپنی بیوی کی صحت کا پور اخیال رکھنا ہے۔صرف اس وقت ایک نئے بچے کی تمہید باندھنی ہے جب بیوی ا س کے لیے ہر طرح سے تیار ہو ۔ایک ذ مہ دار شوہر حمل کے دوران میں اس کی صحت کا پورا خیال رکھتا ہے اور ایک اولاد کے بعد دوسری اولاد تک مناسب وقفہ دیتا ہے ۔اگر وہ یوں نہیں کرتا تو وہ ایک غیر ذمہ دار شوہر ہے۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ فیملی پلاننگ کثرت امت میں رکاوٹ ہے ۔اس کے ذریعے سے ہماری امت عددی اعتبار سے کم رہ جائے گی ۔ اور یہی ہمارے دشمن چاہتے ہیں ، اس لیے فیملی پلاننگ اسلام دشمنوں کی یک گہری سازش ہے۔ یہ اعتراض بھی غلط فہمی پر مبنی ہے۔امت کی کثرت کا صحیح طریقہ اسلام کی دعوت کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے اور غیر مسلوں کو اسلام کے دائرے میں لانے کی تدبیر اختیار کرنا ہے نہ کہ زیادہ بچے جننا۔دنیا میں اس وقت مسلمان تقریباً 22 فیصد ہیں ۔ مسلمان خواہ جتنے بھی زیادہ بچے پیدا کریں۔اس طریقہ سے وہ اس عدم توازن کو دور نہیں کر سکتے ۔دراں حالیکہ اس وقت غیر مسلم آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد کو اسلام کا پیغام پہنچایا ہی نہیں گیا۔ اگر ہم ہر کام میں منصوبہ بندی سے کام لیں،اپنی حالت سنواریں اور پوری پلاننگ کے ساتھ خوبصورت طریقے سے دین کی دعوت امت کی سطح پر غیر مسلموں کے سامنے پیش کریں تو یہی اس امت کی قلت کو کثرت میں بدلنے کا صحیح طریقہ ہے۔
اس ضمن میں ایک اور روایت کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔ سنن ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: نکاح کیا کرو، تاکہ میں تمہاری کثرت پر فخر کروں۔ اس روایت کی کچھ سندیں ضعیف ہیں اور کچھ صحیح ہیں۔ اس روایت کا اصل مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں نکاح کو بطور ادارہ قائم ہونا چاہیے اور کسی کو بھی بغیر نکاح کے زندگی بسر نہیں کرنی چاہیے۔ اس بات کو حضورﷺ نے یوں بھی ارشاد فرمایا :نکاح کرنا میری سنت ہے۔ جس نے میری سنت سے منہ موڑا، وہ مجھ سے نہیں۔ ظاہر ہے کہ نکاح کے بعد خاندان میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ یہ اضافہ منظم طریقے سے ہو۔ اس میں بچوں کی صحت اور تعلیم کا خیال رکھا جائے۔ خاندان میں اضافے کے وقت ماں کی صحت اور آرام کا خیال رکھا جائے۔ اور باپ کی ضروریات اور مسائل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ یہ اضافہ ضرور ہونا چاہیے مگر غیر منظم اور بے ہنگم طریقے سے نہیں ہونا چاہیے۔
یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ فیملی پلاننگ سے بے حیائی پھیلتی ہے۔اس کے آلات کی دستیابی سے لوگوں کے اذہان جنس زدہ ہوجاتے ہیں۔نیز بدکاری آسان ہوجاتی ہے، اس لیے کہ حمل کا خوف جاتا رہتا ہے۔
اس دنیا میں ہرچیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ایک اچھا رخ اور ایک برا رخ ۔ایک ہی چیز سے کچھ لوگ بڑے مثبت فوائد حاصل کرتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگ اس کو منفی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں یا بذات خود اس چیز کے اندر ایک منفی پہلو بھی چھپا ہوتا ہے۔مثلاً نیو کلئیر طاقت کے ذریعے سے بجلی پیدا ہوتی ہے،بیماریوں کا علاج ہوتا ہے اور اس سے ہر ممکن مثبت کام لیا جاسکتا ہے۔دوسری طرف یہی طاقت انسان کو تباہ بھی کرسکتی ہے۔اسی طرح ذرائع آمد ورفت کی ترقی سے پوری دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہو گئی ہے۔دوسری طرف ا نھی چیزوں کے حادثات سے ہزاروں لاکھوں لوگ موت سے ہم کنا رہو جاتے ہیں۔یہی حال فیملی پلاننگ کا ہے۔اس کو اچھے مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کو برے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاہم اس کا مثبت پہلواس کے منفی پہلوکی نسبت کہیں زیادہ ہے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چا ہیے کہ خراب اذہان ہر برے کام کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔مثلاً ہم جنسیت کی لعنت کے لیے تو فیملی پلاننگ کے کسی ذریعے کی ضرورت نہیں۔اس طرح کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں جن کے تذکرے کی ضرورت نہیں۔اس لیے بے حیائی روکنے کا اصل طریقہ ہر چیز پر پابندیاں لگانا نہیں ،بلکہ ذہن و ضمیر کی پختہ تربیت ہے۔یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ آج اس دنیا میں کوئی بھی چیز کسی دوسرے ملک سے یہاں پہنچانا کچھ مشکل ہی نہیں رہا ۔فیملی پلاننگ کے ذرائع ساری دنیا میں نہایت آسانی سے دستیاب ہیں۔ان پر پابند ی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حقیقی ضرورت مندوں کو تو یہ چیزیں پہنچ نہیں سکیں گی اور برے لوگوں کو یہ باقاعدگی سے پہنچ جایا کریں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *