سکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمشن اورمسابقتی کمشن آف پاکستان تاحال سربراہوں سے محروم

SECPسکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان اور مسابقتی کمشن آف پاکستان میں واضح طور پر بہت سے دھڑے اور گروہ سرگرم ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نگران ادارے تاحال اپنے مستقل سربراہوں سے محروم ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ حکومت مارکیٹ کو کنٹرول کرنے والے ان اداروں کے مکمل اختیارات رکھنے والے سربراہوں کے کی تقرری میں ارادتاً تاخیر کر رہی ہے کیونکہ حکومت تاحال ’موزوں‘امیدواروں کی تلاش میں ہے۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان اپریل 2013ء سے عبوری چیئرمین کے تحت کام کر رہا ہے کیونکہ اس وقت کمشن کے باقاعدہ چیئرمین محمد علی کے تقرر کو سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیاتھا۔
؂ باقاعدہ سربراہ کے بغیرسکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان میں معمول کے کام اور فیصلہ سازی ، دونوں بہت سست روی کا شکارہیں اور ادارے میں موجود مختلف دھڑے روز بروزمزید سرگرم ہوتے جارہے ہیں۔یہاں تک کہ 2012ء کی سالانہ رپورٹ بھی تاحال مکمل نہیں ہوسکی۔ اس غیر یقینی صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان کے چاروں کمشنر وں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔
اسی طرح، نومبر 2013ء میں مسابقتی کمشن آف پاکستان کی چیئر پرسن راحت کونین حسن کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزارتِ خزانہ کی جانب سے ڈاکٹر جوزف وِلسن کو ادارے کا عبوری چیئرمین تعینات کیا گیا تھا، باوجود اس کے کہ اسی ماہ ڈاکٹر وِلسن کی مسابقتی کمشن آف پاکستان کے رکن کے طور پر ملازمت کی مدت ختم ہورہی تھی۔ بہرحال ، یہ ادارہ بھی تاحال اپنے مستقل سربراہ کا منتظر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *