افغان حکمرانوں کا محا سبہ ضروری ہے

asghar khan askari

افغانستان گز شتہ 35 سالوں سے جنگو ں کا تھیٹر بنا ہو ا ہے۔1979ء میں سوویت یونین نے حملہ کیا تھا۔1989ء میں سوویت یو نین کے انخلا ء کے بعد 1994 ء تک خانہ جنگی رہی،اس کے بعد 2001 ء تک افغان طالبان حکمران رہے۔2001 ء کی امریکی یلغار کے بعد امر یکہ اور افغان طالبان کے درمیان جنگ جاری ہے۔افغانستان میں جاری گزشتہ 35 سالوں کی جنگ سے سب سے بڑا نقصان اس ملک کو یہ ہوا ہے کہ وہاں کو ئی مضبو ط عوامی سیاسی جما عتیں وجود میں نہیں آئیں۔دوسرا نقصان یہ ہو ا کہ ملکی ادارے تباہ ہو گئے ہیں اور تیسرا یہ کہ ملک کی معیشت ہمیشہ کے لئے بیرونی امدا دکی محتاج ہو گئی ہے۔35 سا لوں کی اس افراتفری کے دوران چوتھا نقصان یہ ہوا کہ ملک کی سر حدوں کے دفا ع کے لئے منظم فوج تشکیل نہ دی جا سکی اور نہ ہی ملک کے اندر امن و امان قا ئم رکھنے کے لئے پو لیس کے نظام کو بہتر بنا یا جا سکا۔سوویت یو نین نے پورے افغانستان کو تباہ و بر باد کر دیا تھا،لیکن انخلاء کے اعلان کے وقت ان سے کسی نے یہ مطا لبہ نہیں کیا تھا کہ آپ تو چلے جا ئیں گے ،لیکن اس تباہ حال ملک کا کیا بنے گا۔ان عوامی اور سرکاری املاک کے نقصانات کا ازلہ کو ن کرے گاجس پر 10 سال سوویت یو نین کے جہاز اور توپخانے بمبا ری کر تے رہے۔سوویت یونین چلا گیا پورے ملک کو تباہ وبر باد کرنے کے بعد،وہاں خانہ جنگی شروع ہو ئی،لیکن ابھی تک ان وار لارڈز سے کسی نے نہیں پو چھا کہ بیرونی امداد پر ایک دوسرے کے خلاف لڑنے والوں افغانستان کی تعمیر کو ن کر یگا۔لو گوں کو تعلیم ،صحت اور روزگار فراہم کر نے کے ذمہ دار کو ن ہیں۔سارے وارلارڈز آج حکومت میں شا مل ہیں لیکن وہ افغانستان کی تعمیر کی بجائے آپس میں سرد جنگ میں مصروف ہیں۔خانہ جنگی نے طا لبان کو جنم دیا تھا۔پا کستان ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سرکار ی طو ر پر ان کو کا بل کا حکمران تسلیم کیا تھا، لیکن ان کے دور میں بھی افغانستان کے انسانوں کو زندگی کی بنیادی سہو لیات مہیا نہ ہو سکیں۔2001 ء میں امر یکہ نے افغانستان پر حملہ کیا جس سے افغا نستان میں ایک نئے دور اور جنگ کا آغاز ہو ا ۔ حامد کر زئی کو بلا شر کت غیرے افغا نستان کا صدر نامز کر دیا گیا۔اربوں ڈالر امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے کر زئی انتظا میہ کو افغانستان میں تعمیر و تر قی کے لئے دیئے ۔حا مد کززئی 10 سال تک افغانستان کے طا قتور صدر رہیں۔امر یکہ ،بر طا نیہ،جرمنی اور یورپی یو نین نے اربو ں ڈالر ان کو امداد کی مد میں دیئے۔ ہندوستان کر زئی انتظا میہ پر خصو صی طو ر پر مہربان رہی۔لیکن کو ئی ہے جو حا مد کر زئی سے پو چھے کہ 10 سال حکمرانی کے بعد پو رے ملک میں کو ئی ایک تعلیمی ادارہ،ہسپتال،صاف پا نی کا منصوبہ،بجلی بحران پر قا بو پا نے کے لئے کو ئی میگا پر جیکٹ ،ٹرانسپورٹ کا کو ئی مر بوط نظام یاملک میں افراد کے اندراج کا کو ئی منظم نظام دکھا دیں کہ جس سے افغانستان کے عوام اور بیرونی مدد گار ملکوں کو تسلی ہو کہ افغانستان کو دیا گیا امداد افغان عوام کی فلاح و بہبود پر صر ف ہوا ہے۔حا مد کر زئی سے تو اتنا نہ ہو سکا کہ الیکشن کمیشن کا ادارہ جوکہ ملک میں صدارتی انتخابات کے سب سے بڑے اور اہم ایونٹ کے انعقاد کا ذمہ دار ہو تا ہے اس کو منظم اور مستحکم کر تے۔ اگر اپریل 2014 ء میں بیرونی ممالک مدد نہ کر تے تو افغانستان کا الیکشن کمیشن اس قا بل نہیں تھا کہ وہ ملک میں صدارتی انتخاب کا انعقاد کر سکیں۔حا مد کرزئی اپنے اور خاندانی کر پشن کو چھپا نے کے لئے پا کستان پر الزامات لگا تے رہیں۔ہے کو ئی افغانستان کا ایک فر د ،ادارہ یا بیر ونی ملک جو حامد کر زئی اینڈ کمپنی کا احتساب کر یں ۔ امریکہ نے گز شتہ 14 سالہ جنگ میں 105 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ اس دوران امر یکہ اور ان کے اتحادیوں کی زیادہ تر کو شش رہی ہے کہ افغان نیشنل آرمی یعنی فوج اور افغان نیشنل پو لیس کے نظام میں اصلا حات کر یں۔ ان کے جدید خطوط پر تر بیت کریں اور ان کو دہشت گر دوں کے خلاف لڑنے کے لئے تیار کر یں۔گزشتہ 14 سالوں میں امر یکہ اور ان کے اتحادیو ں نے 7 ارب ڈالر سے زائد مد دسالانہ افغانستان کو فراہم کی ہے،لیکن اس کا کو ئی حساب وکتاب نہیں ہے۔ ریکار ڈاگر کا غذات میں مو جود ہے لیکن عملی طور پر پورے افغانستان میں تو کیا کا بل میں بھی اس کی جھلک نظر نہیں آرہی ہے۔ستمبر2015ء میں طا لبان نے قندوز پر حملہ کیا ۔انھوں نے چند دنوں میں پورے صوبے پر گر فت حا صل کی ۔اس دوران افغان نیشنل آرمی اور پولیس میں سے کو ئی بھی مزاحمت نہ کر سکے۔صوبے کا گو رنر بیرونی ملک فرار ہوا حا لا نکہ وہ مو جودہ صد ر ڈاکٹر غنی کا خا ص آدمی تھا۔سقوط قندوز کے بعد بد خشان ،فرح اور کئی دوسرے صوبوں میں بھی طالبان نے فتو حات کا آغاز کر دیا ہے۔ اب سوال یہ پید ا ہو تا ہے کہ کیا گلو بل ویلج کے چو ہدری اور افغانستان میں جاری جنگ کے سر خیل امریکہ کا فرض نہیں بنتا کہ وہ حامد کر زئی ،رشید دوستم ،ڈاکٹر عبداللہ اور ڈاکٹر اشرف غنی کا احتساب کر یں۔ ان سے پو چھے کہ 105 ارب ڈالر سے زیادہ خر چ کر کے افغان نیشنل آرمی کو ملک کی دفاع کے لئے کیوں تیار نہیں کیا جا سکا۔پو لیس کا نظام با لکل بے کار ہے۔ طالبان جب چا ہیں ملک میں اپنی مر ضی کے صو بے پر قبضہ کر سکتے ہیں۔امر یکہ اور اتحادیو ں کے بعد افغانستان کے عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں اور وار لارڈز کا بے لاگ احتساب کر یں۔محض ہر خون ریز واقعے کا الزام کسی دوسرے ملک پر لگانے سے وہ بری ذمہ نہیں ہو سکتے۔افغان عوام کو چا ہئے کہ اپنے حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھا ئیں اور ان سے پو چھیں کہ گز شتہ 35 سالوں سے وہ پوری دنیا میں مہا جر کیوں ہیں۔پا کستان میں30 لاکھ افغان مہا جریں کو اپنے وطن واپسی کے لئے کابل کے سابق اور مو جودہ حکمران انتظا مات کیوں نہیں کر تے۔افغان عوام کو چا ہئے کہ وہ گز شتہ 14 سالہ جنگ کے دوران 105 ارب ڈالر سے زائد بیرونی امداد کے حوالے سے بھی کر زئی اور مو جودہ صدر ڈاکٹر غنی کا محاسبہ کر یں کہ اتنی خطیر رقم خرچ کر نے کے بعد بھی افغانستان میں ان کی جان ومال محفوظ کیو ں نہیں ہیں۔افغان عوام اور حکمران دونوں کو چا ہئے کہ وہ اب حقا ئق کا ادراک کریں اور اپنی کمزوریوں اور کر پشن کو دوسرے ممالک پر الزمات کا رنگ دے کر اس کو چھپا نے کی کوشش نہ کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *