فالج کی علامات ، پرھیز اور علاج

Dr.Talha-Abbas

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے نئی نئی پریکٹس شروع کی تھی۔ ایک 15-16سال کا لڑکا آیا اور کہنے لگا کہ اس کے والد صاحب کی طبیعت خراب ہے اور وہ کلینک پر نہیں لا سکتا اور میں انہیں گھر جا کر دیکھوں۔
میرا مریض ایک 50سالہ آدمی تھا جو کسی اچھی جگہ جاب کرتا تھا اور گزشتہ 3-2سال سے اس کے کئی آپریشن ہو چکے تھے اور کسی ایک آپریشن کے بعد اس کی دماغ کو خون پہنچانے والی نالیاں وقتی طور پر بند ہو گئی تھیں۔ نالیاں تو کھل گئیں مگر اس چھوٹے سے وقفے میں گھر کے اس واحد کمانے والے کو ساری عمر کے لئے اپاہج بنا گئیں۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے۔ اب اس انسان کو جو کہ اس گھرانے کا واحد کمانے والا تھا ہمہ وقت کئی چیزوں کی ضرورت تھی، کھانا وہ کھا نہیں سکتا۔ اس کو ناک کی نالی کی ضرورت ہے۔ وہ چل پھر نہیں سکتا۔ اس لئے کہ عام خوراک وہ ہضم نہیں کر پائے گا۔ اسے خاص پاؤڈر والی خوراک کی ضرورت ہے۔ رفع حاجت کے لئے اسے پیشاب کی نالی اور بیڈپین کی ضرورت ہے۔ پیشاب کی نالی زیادہ دیر لگنے سے گردوں کا انفیکشن ہو سکتا ہے۔ ایک ہی انداز میں زیادہ دیر لیٹنے سے پشت پر یا سر کے نیچے ، کہنیوں کے نیچے اور ایڑھیوں کے نیچے زخم بن جاتے ہیں۔ اس لئے اس مریض کو ایسا خدمتگار چاہئے جو اسے کروٹ دلاتا رہے، اسے نہلاتا رہے۔ اس کے گلے میں مصنوعی سانس کی نالی لگا دی گئی تھی۔ اس میں وقتاً فوقتاً بلغم پھنسنے سے سانس اکھڑنا شروع ہو جاتا تھا ۔ ہر آدھ گھنٹے کے بعد ایسا شخصچاہئے جو مشین سے اس کی سانس والی نالی صاف رکھے۔ ہم لوگ تو ایک منٹ میں سینکڑوں الفاظ بول جائیں مگر وہ بے چارا تو زبان بھی نہیں ہلا سکتا۔ کسیکو نہ تو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اشارہ دے سکتا ہے۔تکلیف یا خوشی کے موقع پر اپنا جسم اکڑا لیتا ہے اور سانس والی نالی سے تیز تیز سانس باہر نکالتا ہے۔
غرض اس مریض کو ہر وقت ایک آدمی کی ضرورت ہے جو یہ سارے کام کرے ، اسے ورزش کروائے، وقت پر کروٹ بدلے، ہر وقت سانس کو بحال کر دے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس سب کا معاوضہ اسے یہ اپاہج آدمی نہیں دے سکتا کیونکہ بدقسمتی سے اسے تو ٹھیک ہونا ہی نہیں ہے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں اس عورت کو جس نے وفا کا حق ادا کر دیا اور اپنے خاوند کو پھولوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔
مگر یہ تو اس کی زندگی کا ایک محاذ ہے جس پر وہ لڑ رہی ہے۔ اس کے تین بچے بھی ہیں جن کی تعلیم مکمل ہونا ہے۔ ان کے مستقبل بھی سنوارنا ہے۔ بیٹی کی شادی کرنی ہے مگر وہ گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتی۔ کہیں شوہر کی سانس ہی بند نہ ہو جائے۔ کہیں سارا دن وہ اپنے ہی پاخانے میں نہ پڑا رہے۔ اگر باہر نکلے گی بھی تو اس وقت جب بچے یا کوئی گھر پر موجود ہو faligگا۔
یہ ایک نہیں بہت سارے گھروں کی کہانی ہے مگر سب بیویاں یا مرد حضرات اتنے وفادار نہیں ہوتے مگر جو وفادار نہیں رہ سکتے ہیں،میں ان کو بھی اتنا قصور وار نہیں ٹھہراتا۔ بہت سی خواہشات ہوتی ہیں ۔ بہت سی ضروریات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو ایسے مریضوں کی گھر میں موجودگی سے پوری نہیں ہو سکتیں مگر پھر ایسے افراد جن پر یہ آزمائش آتی ہے یا جو اپنے خاندان کے لئے آزمائش بن جاتے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ فالج ہے کیا اور یہ کیوں ہوتا ہے کیا اس سے بچا جا سکتا ہے؟ کیا یہ خود بیماری ہے یا مختلف بیماریوں کی علامت ہے؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ اگر جان لیا جائے تو اس مرض سے بچا اور اسکا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
فالج کا تعلق دماغ کی مختلف بیماریوں سے ہے۔ دراصل دماغ ہی ہے جو انسانی جسم کی حرکات کو کنٹرول کرتا ہے۔ دماغ کو 4بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے جو سامنے والا حصہ ہوتا ہے جسےFrontal lobeکہتے ہیں اس کے حصے کے سب سے پچھلے حصے کو Motor Cortexکہتے ہیں۔ یہ سر کے اوپر سے شروع ہو کر آگے کی طرف بڑھتا ہے اور کان کے تھورا سا آگے تک آکر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک پٹی کی صورت میں ہوتا ہے اور اس پر انسانی جسم کے اعضاء کی ترتیب الٹی ہوتی ہے مثلاً وہ حصہ جو چہرے کے پٹھوں کو کنٹرول کرتا ہے سب سے نیچے یعنی کان کے پاس ہوتا ہے اور ٹانگیں اور پاؤں کو کنٹرول کرنے والا حصہ، اوپر کی طرف ہوتا ہے۔ دائیں طرف سے جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول ہوتا ہے اور بائیں طرف سے دائیں طرف والا جسم کنٹرول ہوتا ہے۔
کوئی بھی بیماری جو دماغ کے اس حصے پر اثر انداز ہوتی ہے، فالج کر سکتی ہے۔ اس میں دماغ کی شریان بند ہو جانا یا پھٹ جانا سب سے عام وجوہات ہیں۔ دماغ آکسیجن کی کمی کو بہت تھوڑی دیر کے لئے برداشت کر سکتا ہے۔ خون کی نالیاں پھیپھڑوں سے آکسیجن جذب کرکے ایک یا دو سکینڈ میں دماغ کو پہنچا دیتی ہیں۔ اگر یہ رسد ایک یا دو منٹ کے لئے بھی بند ہو جائے تو دماغ کو شدید ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض اوقات بزرگ یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ صبح وضو کے لئے اٹھا تو پاؤں یا ہاتھ نہیں ہل رہا تھا پھر تھوڑی دیر کے بعد ٹھیک ہوگیا۔ یہ فالج کی ابتدائی علامت ہے اور یہ اس لئے بہت اہم ہے کہ ایسے افراد میں Strokeاور مکمل فالج ہونے کے امکانات عام آدمیوں سے تقریباً25 %زیادہ ہو جاتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب مکمل فالج کو روکا جا سکتا ہے۔
مکمل فالج سے میری مراد جب جسم کا آدھا حصہ مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے اور اگر دائیں جانب زیر اثر ہو تو انسان بولنے کی طاقت کھو دیتا ہے کیونکہ بولنے کی طاقت دائیں دماغ میں بائیں جانب ہوتی ہے۔
ایسے افراد جن کا ہاتھ یا پاؤں یا زبان تھوڑی دیر کے لئے کام کرنا چھوڑ دے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ سی ٹیسکین کروانے کے بعد انہیں خون پتلا کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد وجہ معلوم کی جاتی ہے۔ عام طور پر وجہ دل میں گلے کی نالیوں یا دماغ کی خون کی شریانوں میں ہوتی ہے۔
خون پتلا کرنے والی ادویات بقیہ عمر کھانی پڑتی ہیں کیونکہ اگر ایک دفعہ خون گھاڑا ہو یا خون میں کلاٹ بنیں تو دوبارہ فالج بننے کا خطرہ ساری عمر رہتا ہے۔
فالج کی وجہ خون بند ہو جانا ہی نہیں دماغ میں شریان پھٹ جانا بھی ہے۔ اس صورت میں سر میں بہت سخت درد ہوتا ہے۔ مریض بے ہوش ہو جاتا ہے اور اسی دوران موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ شریان پھٹنے کے بعد فالج بہت جلد ہو جاتا ہے۔ جب کہ شریان بند ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی فالج ظاہر ہوتا ہے۔ سی ٹی سکین کروانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پتا چلے کہ دماغ کی شریان پھٹی ہے یا بند ہوئی ہے۔ اگر تو شریان بند ہو تو خون پتلا کرنے والی ادویات انتہائی ضروری ہیں اور اگر شریان پھٹ گئی ہے تو خون پتلا کرنے والی ادویات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
اگر فالج چند دنوں سے چند مہینوں میں آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہو تو اس کی وجہ دماغ کا انفکیشن یا دماغ کی رسولی ہو سکتی ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج سے کسی حد تک فالج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اگر ایک دفعہ فالج ہو چکا ہے تو اس کا علاج خون پتلا کرنے والی ادویات اور ورزشیں ہی ہیں۔ بعض افراد خوراک خود نہیں کھا سکتے۔ اس لئے انہیں ناک کی نالی ڈلواناپڑتی ہے۔ اگر سانس بند ہو رہا ہو یا کھانسی کرنے کی طاقت ختم ہو جائے تو گلے کی نالی لگانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
ورزش پر خصوصی دھیان دینا پڑتا ہے۔ عموماً فالج زدہ افراد چلنا پھرنا شروع کر دیتے ہیں اور مکمل نہیں تو جزوی طور پر اپنے آپ کو سمجھا لینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر ان کی پہلے دن سے ورزش شروع نہ کی جائے تو حرکت نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ پاؤں دردکرنا شروع ہو جاتے ہیں اور آخر کار بالکل ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ایسے ہاتھوں اور پاؤں سے درد کبھی نہیں جاتا۔
جہاں تک فالج کے بچاؤ کا تعلق ہے تو اس میں تقریباً وہی احتیاطیں ہیں جو دل کے دورے کے لئے ہیں۔ ورزش، متوازن خوراک جس میں چکنائی کم سے کم ہو۔ سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے۔ عام طور پر ان افراد میں جن کی فیملی میں یہ امراض ہوں انہیں باقاعدہ چیک اپ کروانا چاہئے۔
خلیفتہ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ مدینہ کے گشت پر تھے کہ ایک جھونپڑی میں سے شیر خوار بچے کے رونے کی آواز آرہی تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ بچہ کیوں رو رہا ہے، اسے دودھ کیوں نہیں پلایا جا رہا۔ اس کی ماں نے کہا کہ میں اس کا دودھ چھڑوا رہی ہوں۔ اس کی عمر چند ماہ تھی اور اسلامی روح سے بچوں کو تقریباً دو سال تک دودھ پلانا چاہئے تھا۔ دودھ چھڑوانے کی وجہ پوچھی گئی تو اس کی ماں نے کہا کہ عمرؓ صرف ان بچوں کا وظیفہ لگاتا ہے جو دودھ نہ پیتے ہوں۔ اس پر آپؓ خود پر بہت برہم ہوئے اور ہر نوزائیدہ بچے کا وظیفہ لگا دیا گیا۔ اگرچہ اس وقت ہماری حکومت کے پاس بہت پیسہ ہے مگر کوئی عمرؓ نہیں۔وظیفہ بہت سے گھروں کا نظام چلا سکتا ہے۔ اگر میرا بس چلے تو میں ان تمام خواتین کا وظیفہ جاری کر دوں جن کے شوہر فالج زدہ ہوں۔ انسانیت اور معاشرت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ان عورتوں کا دکھ بانٹا جائے تاکہ وہ اس اپاہج انسان کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور اسے بوجھ نہ سمجھیں۔ سرکاری ہسپتال جس حد تک ممکن ہو سکتا ہے انہیں امداد تو دیتے ہیں مگر ان کی بھی ایک حد ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی ہم ایسا دور دیکھیں کہ دور افتادہ علاقوں سے لوگ دس بیس ہزار روپے کی ایمبولینس کروا کر لاہور نہ آئیں۔ انہیں ان کے گھر میں بہتر طبی امداد مل جائے اور انہیں اگر آنا بھی ہو تو حکومت ان کی آمدورفت اپنے ذمہ لے لے اور ہسپتال سے فارغ ہونے پر ان کے اپنے علاقوں میں بحالی معذوراں ادارے بنادے جہاں انہیں دوبارہ ایک کارآمد شہری بننے میں مدد دی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *