انتہائی دلچسپ امریکی انتخابی معرکہ

ayaz ameer

عام طور پر امریکی انتخابات اتنا ابہام اور پیچیدگی رکھتے ہیں کہ انتخابی معرکہ ختم ہوتے ہی یادداشت سے اتر جاتے ہیں۔ نکسن اور کینڈی کے درمیان یقیناًبہت کانٹے کاجوڑ پڑا تھا لیکن یہ 1960ء کی بات ہے، اور اب تک ایک نسل گرز چکی ۔ حالیہ عشروں میں حکومت سنبھالنے والے بش، سینئر اور جونیئر، بل کلنٹن اور اپنی تمام تر قوتِ خطابت کے باوجود باراک اوباماکویاد رکھنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ ہوسکتا ہے کہ آپ بش جونیئر کو جنگی حماقتوں، جیسا کہ عراق کی تباہی، ’تاریخ کے اختتام کے مبہم مفروضے‘اور نیو کنزرویٹوز کی امریکی اجارہ داری کا دعویٰ اور ایسی ہی کچھ اور باتوں کی وجہ سے یاد رکھیں۔ بل کلنٹن کے سینے پر رنگین مزاجی کا تمغہ یقیناًتاریخ کے جھروکوں سے سجا دکھائی دے گا۔ کچھ دبے الفاظ میں جان کینڈی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بھی’’کھلے دل وغیرہ‘‘ کے مالک تھے۔ ایک مرتبہ اُنھوں نے برطانوی وزیرِ اعظم ہیرولڈ میک ملن کو بتایا کہ جس دن وہ کسی کی رفاقت اختیار نہ کریں، اُن کے سرمیں درد ہونے لگتا ہے۔ مسٹر میک ملن کی اپنی بیوی کی بے وفائی کی داستانیں مشہور تھیں، اُنہیں سمجھ نہیں آئی کہ اب کیا کہیں کیونکہ اُس وقت کینڈی کے سرمیں درد ہورہا تھا۔ کینڈی کا قریبی حلقہ اُن کی رنگین مزاجی سے آشنا تھا، گرچہ عوامی حلقے اس بابت کچھ نہیں جانتے تھے، لیکن بل کلنٹن کے افیئر سے ایک جہاں واقف۔ آج سے پچاس سال بعد امریکی صدور کے بارے میں لوگوں کو کلنٹن اور مونیکا سیونسکی کے علاوہ کیا یاد رہے گا؟
لگتا ہے کہ اس مرتبہ امریکی انتخابی تاریخ کا معمول کا بہاو برہم ہونے جارہا ہے اور ہونے والے انتخابی معرکہ انتہائی ہنگامہ خیز اور دلچسپ ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اس کی وجہ دو افراد، ڈونلڈ ٹرمپ اور برنی سندرس ہیں۔ امریکہ ، جہاں عمومی طور پر سیاست کو ایک بے کیف معمول سمجھا جاتا ہے، میں ہونے والے انتخابات میں ان دونوں کی وجہ سے، گرچہ مختلف طریقوں سے، گھر کی رونق قائم ہے۔ اس وقت اسٹبلشمنٹ اور حکمرانوں کی موجودہ پالیسیوں کے خلاف عوامی موڈ کا بہاؤ ایک رخ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ وال سٹریٹ اور دولت کی طاقت کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے برنی سندرس نے نوجوان، خاص طور پر ڈیموکریٹس، جن میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں، کے دلوں میں ولولوں کی بجلیاں سی بھر دی ہیں، اور اس پیش رفت پر ہیلری کلنٹن کیمپ پریشان بھی ہے کیونکہ خیال کیا جاتا تھا کہ لڑکیاں اور خواتین ہیلری کو ہی سپورٹ کریں گی۔74 سالہ برنی خود کو سوشلٹ ڈیموکریٹ کہتے ہیں۔یہ دعویٰ امریکی سیاست میں خود کشی کے مترادف سمجھا جاتا تھا لیکن مسٹر برنی خود کو بہت متاثر کن طریقے سے پیش کررہے ہیں۔ چنانچہ نوجوان طبقہ اُن کی طرف کشش محسوس کرتا ہے۔
جاذب شخصیت کے مالک ڈونلڈ ٹرمپ خواتین سے لے کر مسلمان تک اپنے دوٹوک بیانات اور سفید فام امریکیوں سے کیے گئے وعدے کہ وہ بھی ہونے والی ڈیل سے مالی طور پر مستفید ہوں گے، کی وجہ سے رپبلکنز میں سب سے آگے جارہے ہیں ۔ اُن کی طرف سے ایک خاتون صحافی کو بہت کھلی بات کہنا، فاکس نیوز جیسے ٹی وی پر اُن جیسے بیانات کس نے دیے تھے؟اور پھر Rupert Murdoch's networkکو چیلنج، کوئی انتخابی مہم سے پہلے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب کم و بیش ہر سیاسی پنڈت یہ کہہ رہا تھا کہ ٹرمپ کا لااوبالی پن بہت جلد جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ اُنہیں اہم امیدوار سمجھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ نہ تھی۔ کہا گیا کہ جب انتخابی مہم اگلے مرحلوں میں داخل ہوگی تو اُن کا دوٹوک اندازِ تکلم اُنہیں بہت مہنگا پڑے گا، لیکن اب وہ تجزیہ کار اپنے اندازوں کی غلطی کا جواز ڈھونڈ رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا اسٹبلشمنٹ کو خوش کرنے کی پروانہیں کی کیونکہ وہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت شہ سرخیوں میں رہنے کا ہنر جانتے ہیں۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کا سب سے پہلے موثر اظہار اُن کی طرف سے عراق جنگ پر شدید تنقید ہے۔ اس موضوع سے بہت سے امریکی سیاست دان نظریں چرا تے ہیں کیونکہ اُنھوں نے اُس وقت عراق جنگ کی حمایت کی تھی ۔ہیلر ی کلنٹن نے سینٹ میں اس جنگ پر پیش کی گئی قراردادکی حمایت کی تھی۔ حالیہ دنوں رپبلکن پارٹی کی بحث میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ٹرمپ نے کھل کر کہا کہ عراق جنگ جھوٹ پر مبنی تھی، وہاں کوئی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ تھے، لیکن آپ نے جنگ شروع کردی۔ جب اس پر جیب بش ، جو جارج بش کے بھائی ہیں، نے کہا اُن کے بھائی کونیشنل سکیورٹی کی خاطر ایسا کرنا پڑا توٹرمپ نے کہا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ اُس کے بھائی کے دور میں ہی ہوا تھا۔ جیب بش نے اپنی والدہ کے بارے میں کہا کہ وہ ایک مضبوط عورت ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر وہ خود ہی صدارتی امیدوار بن کر میدان میں آجاتیں۔
رپبلکن پارٹی میں شامل ہوتے ہوئے ان نظریات کے متعلق یہ باتیں سرسری انداز میں بھی نہیں کی جاتیں۔ ہوسکتا ہے کہ بہت سے رپبلکن یہی سوچ رکھتے ہوں کہ عراق جنگ تباہ کن حماقت تھی لیکن وہ اسے زبان پر نہیں لائیں گے۔ اس میں شامل ہوکر آپ کو کہنا پڑتا ہے کہ یہ سراسر بل کلنٹن کو قصور تھا کہ اُنھوں نے اسامہ بن لادن کو ہلاک نہیں کیا جب ایک مرتبہ اُنہیں اس کا موقع بھی ملا تھا۔ ٹرمپ کا تعلق بھی حلقے سے ہے لیکن اُن کے ہاتھ میں ایک وزنی ہتھوڑا ہے اور اس سے نظریات کے سب بت پاش پاش کرتے چلے جارہے ہیں۔ ہو سکتاہے کہ آپ اس شخص سے نفرت کرتے ہوں، اس کی رائے سے بدگمان ہوں، لیکن ایک مرد میں مردانگی کے سوا اور کیا ہوتا ہے، یا ہونا چاہیے؟ ڈونلڈ ٹرمپ بے خوفی سے بہت سی باتیں کہہ جاتے ہیں۔
سیاست کے کھیل میں پتے دیکھے جاتے ہیں ، چالوں پر نظر رکھی جاتی ہے، کھلاڑیوں کی نظروں کا تعاقب کیا جاتا ہے، پیش گوئیاں نہیں کی جاتیں اور نہ ہی کی جانی چاہییں، لیکن جنوبی کیرولینا میں بیس فروری کو فیصلہ ہوجائے گا کہ رپبلکن کے امیدوار ٹرمپ ہی ہوں گے ۔ چنانچہ ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا، خاص طور پر جب یہ پتہ چل جائے اُن کے مدِ مقابل کون ہوگا۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ پر اہم ہے۔ ہیلری کے پاس دولت بھی ہے کہ اُنہیں ہسپانوی نژاد اور سیاہ فام امریکیوں کے علاوہ ڈیموکریٹ اسٹبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل ہے، اور عمومی تاثر بھی یہی تھا کہ اُنہیں امیدوار نامزد کردیا جائے گا، تاہم اب ہوا رخ تبدیل کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جب مسابقت کا آغاز ہوا تو بہت سے لو گ سوال کرتے تھے کہ یہ برنی سندرس کو ن ہے؟اُس وقت ہونے والے پول جائزوں میں وہ ہیلری سے بہت پیچھے تھے، لیکن پھر ایسا ہوا کہ وہ Iowa میں ہیلری کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ کرتے اور نیوہیمپشائر میں مقابلہ جیتے ہوئے دکھائی دیے۔ جنوبی کیرولینا میں ہیلری کو یقیناًبرتری ہوگی کیونکہ وہاں سیاہ فام امریکیوں کی اکثریت ہے اور وہ کلنٹن کے حامی ہیں۔ محتاط الفاظ میں کہا جاسکتاہے کہ اگر ڈیموکریٹس کے لیے ہیلری ایک قابلِ اعتماد امیدوار ہیں تو برنی ایک پرکشش اور جوشیلے امیدار ثابت ہوں گے۔ لگتا ہے کہ ان انتخابات میں روایتی دانائی کے برج الٹنے والے ہیں ۔ اس وقت نت نئے واقعات پیش آنے جارہے ہیں، نئے تصوارت پر بحث ہوگی،نیا بیانیہ آگے بڑھے گا۔ ایک سال قبل ٹرمپ اور سندرس بہت پچھلی صفوں میں تھے، لیکن اب اُن کے گھوڑے میدان میں آگے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ رپبلکنز کی صفوں میں ٹرمپ جیسا پرکشش امیداوار کوئی نہیں۔ ڈیموکریٹس کے درمیان ہیلری کی پوزیشن مستحکم ہے لیکن گزشتہ کچھ ہفتوں سے ایسالگتا ہے کہ جیسے برنی سندرس نے اُنہیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب ہیلری کو تنی ہوئی رسی پر چلنا پڑے گا۔
اس صورتِ حال میں ہمارے لیے بھی سبق موجود ہے ۔ ہم ابھی تک تیس پنتیس سال پرانی سیاسی دلدل میں پاؤں دھرے تیراکی کے لیے شفاف لہروں کا انتظار کررہے ہیں۔ یہاں ایسا کچھ نہیں، عمران خان ہوا کے تازہ جھونکے کی طرح سامنے آئے تھے لیکن کچھ دیر بعد علم ہوا کہ اُن کے پاس جھونکوں کی تو کمی نہیں، تازگی البتہ عنقا ہے۔ اگر اُن کے پاس برنی سندرس جیسے نظریات ہوتے اور روایتی سیاسی اشرافیہ کی بجائے ملک کے نوجوان اُن کے ساتھ کھڑے ہوتے تو اس وقت ہم ایک مختلف پاکستان دیکھ رہے ہوتے۔ میری خواہش ہے کہ وہ ٹرمپ اور سندرس کے حوالے سے امریکہ میں ابھرنے والے منظر کا جائزہ لیں۔اس وقت پاکستان کو بھی کوئی ٹرمپ یا سندرس درکار ہیں تاکہ ہمارا سیاسی جمود ٹوٹ سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *