یہودی کون ہیں، تاریخ بتاتی ہے!

yahoodi

آخر یہودی ہیں کون؟ تمام وجدانی خیالات ان کی تعریف کرنے سے قاصر ہیں۔ان کو فقط کسی ایک لسانی گروہ میں بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ نسل کے اعتبار سے بھی یہ کئی نسلوں کی آمیزش کا پتہ دیتے ہیں، اور یہ کسی واحد کلچر سے بھی وابسطہ نہیں ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ خصوصی طور پر مذہبی بھی نہیں ہیں اس لیۓ مخصوص یہودی تعلیمات سے بھی ان کی تعریف نہیں کی جا سکتی ۔ ان کے عقائد بھی ا یسے نہیں ہیں جنہیں مشترک کہی جا سکے ( ہاں اگر یہودیوں میں کوئ بات مشترک ہے تو وہ یہ کہ یہ لوگ ایک دوسرے سے اختلافات کرنے میں بہت مشہور رہے ہیں )

سب سے بہتر اور محفوظ تعریف جو شاید معنوی اعتبار سے اتنی زیادہ صحیح ہو مگر کام کرتی ہے، یہ کہ یہودی وہ لوگ ہیں جو خود کو تاریخ اور عقائد کے اعتبار سے ایک ایسی جماعت سمجھتے ہیں جو مقدس کتاب (بابل) کے زمانے میں اسرائیل کی سر زمین میں رہتی تھی ۔ انہیں دیگر دنیا بھی ایسی ہی جماعت سمجھتی ہے جس نے وحدانیت اور بائیبل کے فروغ میں بہت مدد کی ۔اس بات کو دوسرے یہودی بھی مانتے ہیں جن کا اس جماعت سے تعلق ہے۔ ( آخری الجھاؤ والا نکتہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں ہزاروں اور لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو خود کو ‎ یہودی کہتے ہیں لیکن دوسرے یہودیوں نے انہیں کبھی یہودی تسلیم نہیں کیا)

اس وقت ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 13 ملین یہودی ہیں یا دنیا کی ایک فی صد آبادی کا چوتھائی حصہ جو دنیا کے 102 سے زیادہ ملکوں میں پھیلے ہوۓ ہیں۔ یہ 8 معروف زبانیں بولتے ہیں: انگلش، ہیبریو، روسی، فرنچ، پرتگیز، فارسی اور عربی ۔ لیکن یہ اس کے علاوہ بھی دیگر زبانیں بشمول رومینین، ہنگیرین، اٹالین، ترکش اور احمر یک بولتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی تعداد اسرائیل، یواس اے، روس، فرانس، کینیڈا، یوکے، جرمنی اور ارجنٹینا میں رہائشی پذیر ہے۔ ہولوکاسٹ نے دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق ہر تین میں سے ایک یہودی کا صفایا کر دیا ۔ عرب سر زمین نے اسرائیلی ریاست کے قیام سے قبل تک نو لاکھ یہودیوں کی میزبانی کی ۔ اس کے بعد تمام یہودی ان ملکوں سے تو چلے گۓ یا زبردستی نکال دیۓ گۓ ۔ اس سے قبل ، مسلمان ملکوں میں یہودیوں کے ساتھ بطور پناہی اقلیت عیسائ دنیا کے مقابلے میں اکثر، ہمیشہ تو نہیں، بہتر حسن سلوک رہا ۔ حالانکہ روس میں اس وقت بھی یہودیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن پرانی سوویت حکومت کے زوال کا مطلب ، کمیونسٹوں کی 70 سال پر محیط ایذا ر سانی اور ستمگری کے بعر ہزاروں اور لاکھوں یہودیوں کی روانگی یا انخلا کی صورت میں نکلا ۔ یہودیوں کا وہ ابتدا ئ گروہ جہاں سے یہودیوں کا نسب چلتا ہے، چاہے وہ موروثی ہوں یا نسل کے اعتبار سے یہودیوں ہوں ، شادیوں کی وساطت سے یا تبدیلی مذہب سے یہودی بنا ہو، سب کے سب بابلک دور میں اسرائیل کی سر زمین میں رہتے تھے ۔ ہزار سال قبل جب با بلیوں نے یروشلم میں پہلی عبادت گاہ تباہ کی تو یہودی عراق کی طرف جلا وطن ہوۓ اور کچھ نے دور دراز علاقوں کا سفر شروع کیا اور جہاں انہوں نے مشترکہ آباد یاں قائم کیں ۔

یہودیوں کو تا حال اس زمانہ میں بھی،کبھی بھی مکمل مساوات یا تحفظ کا ادراک نہیں ہوا ۔ اچھے وقتوں میں انہیں برداشت ضرور کیا گیا (قوت کی تغیر پذیر لہروں کے ساتھ) برے ادوار میں ان کا قتل عام کیا گیا ۔ زبردستی مذہب تبدیل کرایا گیا اور بے دخل کیا گیا ۔ مسلمانوں سے مقدس زمین باجگزار کرانے کے لیۓ عیسائ جہادیوں کی حوصلہ افزا ئ کی گئی کہ وہ اپنی مدد آپ کے لیۓ راستے میں آنے والی یہودی بستیوں سے اپنی ضروریات پوری کر لیں ، انہیں تارا ج کریں اور مکینوں کو قتل کریں ( جب وہ یروشلم آۓ تو انہوں نے مسلم قتل عام کو یہودیوں تک پھیلا دیا اور یہودی آبادی کو ان کے گھروں اور عبادت گاہوں میں گھیر کر جلایا) ایک کمزور اقلیت ہونے کی حیثیت وہ سیاسی حقوق سے محروم کۓ گۓ، بار بار نشانہ بناۓ گۓ یا قربانی کا بکرا بناۓ گۓ ۔ وہ' سیاہ موت' کے لیۓ ایک سہل نشانہ تھے ۔ جب بو ہمدان شملینکی کو ساک کے ایک یوکرین فرقے نے اپنی قومی جدوجہد کی لڑائی میں ایک تہائ یہودیوں کو اس خطے سے صاف کر دیا ۔ زار روس نے بھی عام بے چینی کے سبب اس جماعت کے منظم قتل کی حوصلہ افزائی کی ۔ ‎ یہودیوں کو ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ سپین، پرتگال،جرمنی، انگلینڈ، فرانس ا ور دوسرے ملکوں سے نکالا گیا ۔ غیر یہودی مورخ جیمس کیرول کے مطابق" یہودی رومن حکومت کی کل آبادی کا دس فی صد ہیں ۔ اگر دیگر عوامل مداخلت نہ کرتے تو اس مناسبت سے دنیا میں فقط13 ملین کے بجاۓ دو سو ملین یہودی ہوتے"
Constiness's Sword pg 26

وہ بہر حال کسی نہ کسی طرح زندہ رہے ، ان معاشروں کے اختتام تک جہاں ان کی میزبانی بھی ہوئ اور استحصال بھی کیا گیا، زمان و مکان سے الگ، ان علاقوں سے دور جہاں وہ واپس لوٹنا چاہتے تھے ۔ بلیز پاسکل، فرنچ ریاضی دان اور عیسائ فلاسفر لکھتا ہے " یہ حقیقت ہے کہ ہم دنیا کے مختلف حصوں میں ایک خاص طرح کے لوگ دیکھ سکتے ہیں، دوسرے لوگوں سے الگ کر دیا گیا ہے اور انہیں یہودی کہتے ہیں ۔ یہ لوگ نہ صرف ایک ممتاز اور قدیم حقیقت ہیں بلکہ طویل عرصے تک سلامت رہنے والی منفرد قوم ہیں۔۔ جب کہ یونان اور اٹلی کے لوگ جن کا تعلق سپارٹا، ایتھنز اور روم اور دیگر علاقوں سے تھا، جو ان کے بعد آۓ لیکن اب ان کے نام و نشان کو مٹے ہوۓ بھی عرصہ ہو گیا ۔ یہ ابھی تک موجود ہیں۔، اس کے باوجود کہ کئی طاقتور بادشاہوں نے ان کو مٹانے کی سینکڑوں کوششیں کیں ۔ ان کے مورخ بھی اس کی گواہی دیتے ہیں اور اسے طویل عرصے پر محیط تاریخ کے تسلسل سے بھی پرکھا جا سکتا ہے۔ یہ ہمیشہ قائم رکھے گۓ اور ان کے قیام کی پیشگوئی کر دی گئی تھی ۔ میری ملاقات جب بھی ان لوگوں سے ہوتی ہے، مجھے متحیر کر دیتی ہے۔ ۔۔ ۔"

اکثر جب ان پر تمام راستے بند کر دیۓ گۓ، غربت کا شکار رہے ،تب بھی انہوں نے خواندگی، تعلیم ( یہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے بچوں کی لازمی تعلیم کا ڈھانچہ بنایا) اور خیراتی کاموں کو وقعت دی۔ جب انہیں موقعہ دیا گیا، جیسا کہ یورپ میں بصیرت کے بعد ہوا، یہ نمو پزیر ہوۓ ۔ ان لوگوں نے ایک بڑی تعداد میں نوبل پرائز اور ریاض میں فیلڈ پرائز حاصل کۓ۔ جب بھی انہیں پھولنے کا موقعہ دیا گیا، ان لوگوں نے اپنے ارد گرد کے معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کی، حکومت میں شمولیت اختیار کی، آرٹس، سائنس،اور کمیونٹی اداروں سکولوں اور ہسپتال بنانے کی کوشش کی ۔ تخلیقی دنیا میں بھی ان کی شراکت متاثر کن ہے ۔ ذیل میں ہم دو ہم عصر غیر یہودی مورخین کی عبارات سے اقتباسات پیش کر رہے ہیں ۔

" ہمارے کچھ بہترین الفاظ جیسے نیا، مہم جو، حیرانی، در حقیقت، اچھوتا، منفرد، شخص، حرفت، وقت، تاریخ، مستقبل، آزادی، ترقی، جذبہ، عقیدہ، امید، انصاف، سب یہودیوں کا تحفہ ہیں" (تھامس کاہل ۔ گفٹ آف جیوز)
(The gift of Jews, pg 240-241)

" یہودیوں نے دنیا کو علم اخلاق دیا جسے خدائی کے تصور کے لیۓ ایک دلیل کہا حا سکتا ہے۔ایک بہت ہی لادین زمانہ میں ،تمام دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اکثر انہوں نے تمام انسانی سرگرمیوں کے لیۓ معقولیت پر مبنی اصولوں کو فروغ دیا۔ یہودی بہت زیادہ راست باز اور صاف گو رہے ہیں اور انہیں ناپسند کرنے کی یہ بھی ایک وجہ رہی ہے۔ ان کے مطابق قانون کی نظر میں ہم سب برابر ہیں، قدرت اور خلقت دونوں، زندگی کے تقدس اور انسانی عظمت کے لیۓ ، انفرادی ضمیر اور ذاتی نجا ت کے لیۓ بھی ۔ اجتماعی ضمیر اور سماجی ذمہ داری کے لیۓ بھی ، امن ایک دقیق کاملیت کے لیۓ اور محبت اور انصاف کی اساس کے لیۓ بھی " پال جانسن ۔ یہودیوں کی تاریخ ) - History of Jews , pg 582-585)

مساوی حقوق دینے سے ان کا مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ فرانس ان ممالک میں پہلا ملک ہے ، جس نے اپنے یہودیوں کو بتدریج مساوات دی، انٹی سمائٹس پارٹی (Antismites Party)

کے ظہور کے لیۓ بھی پہلا ٹھکانہ تھا۔ اسی طرح فرانس میں ہی ڈریفس افئیر ہوا ، جس میں ایک یہودی آرمی افسر کو تہمت لگانے کے بعد آخر کار حکومت کے خلاف بغاوت کا ملزم قرار دیا گیا۔ جرمنی جو کئی زاویوں سے مغربی یورپ میں ایک بہترین تہزیب کا جامل ہے، ہولوکاسٹ کے زمانے میں جس طرح یہاں منظم قتل عام ہوا ‎اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، یہودیوں نے اسے آتے دیکھ لیا تھا ، لیکن ان کے فرار کی کوئ جگہ نہ تھی

یہ یہودی رہتے کہاں ہیں؟ اپنی بہت زیادہ ہمہ جہتوں کے باوجود ‎ یہودی تجربوں کے کئی عناصر بہت زیادہ مماثلت رکھتے ہیں ۔ ‎ یہودیوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ان میں ماضی کا بہت گہرا شعور موجود ہے ۔ انہیں ایذا رسانی یاد ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو ایسے عوامل سے الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے باعث نیۓ آنے والوں ، نا آشنا اور گرے پڑوں کو حمایت حاصل ہوتی ہو ۔ انہیں پتہ ہے عدم تحفظ کیا ہے؟ اور وہ اس کے خلاف اپنا رد عمل بھی ظاہر کرتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں کے طور پر وہ انہیں داد دیتے ہیں جن لوگوں نے ان کی مشکل وقت میں امداد دی۔ وہ تعلیم کی قدر، ایک درسرے کی مدد اور عام خلقت کی بھی مدد کرتے رہے۔

یہ مستقبل میں اپنا کیا کردار دیکھتے ہیں؟ یقینی طور پر کوئ عالمی تسلطی کردار نہیں دیکھتے ۔ یہودی روایتی طور پر دوسروں کو دین کی تبدیلی سے باز رکھتے ہیں ۔ وہ دنیا کو یہودی بنانے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ یہودیوں کا اصل خواب جس کا بائیبل میں بھی ذکر ہے، جس پر یہودی اپنی روزانہ سہ بارہ عبادت کا اختتام کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آخر کار تمام خلقت ایک خدا کو سنجیدگی سے مانے،‎ اور غیر یہودی ایک دوسرے کے سابھ امن اور آشتی سے رہیں(یہودی اس بات پر زور نہیں دیتے کہ لوگ اپنا مذہب چھوڑیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال میں یہودی ہونے کا قطعی کوئ فائدہ نہیں ہے ۔ یہودیت کی تعلیم کے مطابق جو غیر یہودی سوسائٹی کے سات اصولوں کی پیروی کریں گے، جنت میں جائی گے ۔ انہیں یہودیت اپنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب کہ یہودی سے زیادہ اور گھمبیر توقعات کی جاتی ہیں)

یہودی خاص طور سے محسوس کرتے ہیں کہ ایک ممتاز گروہ کی حیثیت سے مسلسل بقاء کی جو وجہ ماضی میں تھی ابھی تک ہے ۔ انہوں نے نہ صرف بطور عالمی ضمیر خدمت کی ہے ، بلکہ نئے غیر مقبول تصورات کی ترسیل میں مدد کی ہے۔ وحدانیت کس بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ آخر کار عالمی امن ، خوشی اور بصیرت کا ایک ایسا وقت آۓ گا جسے مسیحا کا دور کہتے ہیں ۔ ‎ یہودیت ماننے والے اس وقت پر یقین رکھتے ہیں اور اس وقت کے آنے کی دعا کرتے ہیں اور مستقل دعا کرتے ہیں ۔ یہ بات تمام یہودی کو چاہے وہ مذہب کی پابندی کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں راستہ دکھاتی ہس، اور آخرت کی تیاری کے طور پر دنیا کو بہتر بنانے کے لیۓ مادی اور روحانی کام کرنے پر مستقل اکساتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *