نیب اپنی اوقات میں رہے ورنہ!… نجم سیٹھی

najam sethi

وزیر اعظم نواز شریف نیب سے ناراض ہیںکیونکہ اس نے شریف خاندان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی وہ فائلیں بند نہیں کیں جو مشرف دور میں کھولی گئی تھیں۔ اس سے پہلے پی ایم ایل (ن) کے احتساب بیورو کو 1999کے فوجی اقتدار کے دوران نیب کی صورت میںڈھال دیا گیا تھا۔ سابق صدر آصف زرداری بھی نیب پر ناراض رہے ہیں کہ اس نے اُن کے خلاف مقدمات کی وہ فائل بند نہیں کی جو 1997 کے انتخابات جیتنے والی پی ایم ایل (ن) کی حکومت کے قائم کردہ احتساب بیورو نے کھولی تھی، اور موجودہ دور میں سندھ حکومت میں ان کے حامیوں کو دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرنے کے الزامات لگا کر تنگ کیا جارہا ہے۔ اس دوران بدعنوانی کے خلاف سب سے بڑے ’’جیالے‘‘ ، عمران خان بھی خیبر پختونخوا کے احتساب کمیشن کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، حالانکہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا پی ٹی آئی اس احتساب کمیشن کے قیام کو اپنا سب سے بڑا کارنامہ قرار دے کر مخالفین پر گرج برس رہی تھی۔ تاہم اب اس کمیشن کا ہاتھ روکنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ یہ پرویز خٹک حکومت کے کچھ وزرا پر ہاتھ ڈالتا دکھائی دیتا تھا۔ مختصر یہ کہ تمام سیاسی حلقے مل کر احتساب کے خلاف کمر بستہ ہوچکے ہیں۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے؟
سیاسی احتساب کا تصور (احتساب کمیشن) صدر فاروق لغاری نے نومبر 1996 میں نگران حکومت کے دور میں قائم کیا، جب وہ بے نظیر حکومت کا تختہ الٹ چکے تھے۔ بہت جلد اس کمیشن نے مس بھٹو اور مسٹر زرداری کا تعاقب کرنا شروع کردیا کیونکہ صدر لغاری اُن کی اقتدار کے ایوانوں میں واپسی نہیں چاہتے تھے۔ اس کے بعد نواز شریف نے اپنے وفادار سیف الرحمن کو اس کا چیئرمین بنا دیا۔ اس کا اصل مقصد اپنے سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کرنا تھا۔ جب جنرل مشرف نے 1999ء میں اقتدار سنبھالا تو اُنھوں نے نیب کوفوجی حکومت کا ایک طاقتور اور فعال بازو بنالیاتاکہ اپنے سیاسی مخالفین، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی سرکوبی کی جاسکے۔
مختصر یہ کہ پاکستان میں تین سیاسی ادوار میں احتساب کو صرف حکومت ِ وقت نے سیاسی مقاصد کے لئے ہی استعمال کیا۔ اس میں نہ کبھی شفافیت دکھائی دی اور نہ ہی کبھی اس کی فعالیت کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ آج شاید کسی کو بھی اُن جج صاحب کا نام یاد نہیں جو صدر لغاری کے احتساب کمیشن کی سربراہی کرتے تھے ۔ مسٹر شریف کے کارندے سیف الرحمن کو فوجی حکومت نے جیل میں ڈال دیا اور شنید ہے کہ کچھ ’’تعاون ‘‘ کرکے ہی باہر آئے اور پھر قطر کے صحرائی علاقے میں کہیں کھوگئے۔صدر زرداری کے دو نامزد کردہ سرکاری افسران اور ایک نیوی کے سابق چیف کو بھی جسٹس چوہدری کی سپریم کورٹ نے چلتا کردیا۔ دراصل بحالی کے بعد کی سپریم کورٹ نے زرداری حکومت کو ناکوںچنے چبوادئیے۔ اب وزیر ِا عظم نواز شریف کے موجودہ نامزد کردہ چیئرمین،جو سابق بیوروکریٹ ہیں، پر سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مختلف مقاصد کے لئے دبائو ہے، اور خدشہ ہے کہ وہ اپنی مدت شاید ہی پوری کرپائیں ۔ یقینا عوامی سطح پر سب سے پہلے نیب کے خلاف وفاقی وزیر ِ برائے اطلاعات و نشریات، پرویز رشید نے نعرہ لگایا تھا، اور ظاہر ہے کہ وہ وزیر ِ اعظم کی ہی ترجمانی کرتے ہیں۔ اب وزیر ِا عظم نے بھی اس بیان کو تقویت دی ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اہم حلقوں کی طرف سے پی پی پی کے خلاف کارروائی کے لئے میدان ہموار ہورہا ہے اور پی ایم ایل (ن) پر دبائو ہےکہ وہ اس عمل میں شریک ہو اور نیب کی اصلاح کرے۔
مختلف احتساب کمیشن قائم کرنے کے پیچھے ہمیشہ کوئی نہ کوئی سیاسی مقاصدہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی کے ذریعے لوٹی گئی تھوڑی بہت رقوم کی وصولی کے علاوہ اس عمل کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کی شفافیت پر سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ نیب کے اندر بھی کھینچا تانی کا تعلق سیاسی اورفوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مبینہ طور پر موجود تنائو سے ہے۔نیب میں بعض ریٹائرڈ افسران کا جھکائو یقینا اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہوگا اور وہ ’’بدعنوان سویلینز‘‘سے نفرت کرتے ہوں گے۔ یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ طویل عرصہ پر محیط تین فوجی ادوار ، جو کم و بیش تیس سال بنتے ہیں، کے دوران کسی ایک بھی ریٹائرڈ افسر کو نیب نے سزا نہیں دی۔ صرف ایک مثال سابق نیوی چیف کی ہے جن کی بدعنوانی کی کہانیاں اتنی پھیل گئی تھیں کہ اُنکے خلاف کارروائی کئے بغیر چارہ نہ رہا اورپھر اُنہیں بھی رقم اگلوا کر چھوڑ دیا گیا۔ ریٹائر منٹ سے کچھ عرصہ پہلے سابق آرمی چیف نے بھی ریٹائرڈ جنرلوں کو بدعنوانی کے الزامات میں سزا سے بچانے کا ایک انوکھا طریقہ ایجا دکرتے ہوئے اُن جنرلوں کی خدمات دوبارہ دفاعی ادارے کو ’’مستعار ‘‘دے دیں اور یوں اُن کا سویلین قوانین کے تحت احتساب اور سزا ممکن نہ رہی۔
سچی بات یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جنرل راحیل شریف کے دورمیں نیب کو اجازت دی ہے کہ وہ بدعنوانی کا ارتکاب کرنے والے فوجی افسروں پر بھی ہاتھ ڈالے۔ یہی وجہ ہے کہ نیب اب ڈی ایچ اے کے کسی مبینہ سقم کی تحقیقات کررہا ہے۔ اس میں سابق آرمی چیف جنرل کیانی کا ایک بھائی بھی ملوث بتایا جاتا ہے۔ اس کیس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ، یہ الگ بات ہے ، لیکن پاکستان میں ایسا کب ہوا تھا کہ اس طرح کی تحقیقات کی اجازت دی جائے۔ اب فوج چاہتی ہے کہ اس دائرے کو پھیلاتے ہوئے کراچی سے پنجاب تک وسیع کیا جائے ۔اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ سندھ میں نیب اور رینجرز نے بہت بڑے بڑے اہداف پر ہاتھ ڈالا، چنانچہ اب یہ سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں کہ اس احتساب کے پنجاب کا رخ کرنے سے پی ایم ایل (ن) کے لئے کیا مضمرات ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نیب سے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی اوقات میں رہے ، ورنہ…

 

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *