اکھ دا کجل ڈُلے ناں

razia syed.

ایران سعودی عرب کے بعد مشرق وسطی کا دوسرا اور دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے جہاں کاسمیٹکس کی اشیا سے سب سے زیادہ ریوینو حاصل کیا جاتا ہے ۔1980میں امریکا نے ایران پر تجارتی پابندیاں عائد کی تھیں ، اسکے بعد سے آج تک ایران میں امریکا کا تیار کردہ میک اپ سامان استعمال اور فروخت نہیں ہوتا بلکہ2010 سے یہاں ایک کمپنی lancome کام کر رہی ہے جو میک اپ کی مصنوعات تیار کرتی ہے ، اس کمپنی کی ملک بھر میں بیس شاخیں ہیں ۔ سجنا اور سنورنا ہمیشہ سے خواتین اور اب مرد حضرات کی بھی کمزوری رہی ہے ۔جدید دور کے تقاضوں نے سبھی پر فیشن اور بناؤ سنگھار کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے ۔
ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات ہر جگہ آپ کو میک اپ ، بیوٹی پارلرزاور معیاری کاسمیٹکس کے اشتہارات دکھائی دیں گے اور تو اور سوشل میڈیا پر نہ صرف میک اپ کی تراکیب شائع کی جاتی ہیں بلکہ ویڈیوز کے ذریعے میک اپ کرنے کا طریقہ بھی سکھایا جاتا ہے ۔ اب اسی بات سے اندازہ کر لیجئے کہ اگرچہ پاکستان ایک غریب ملک ہے لیکن یہاں بھی ہر سال 7 ارب روپے کا فارن میڈ میک اپ سامان منگوایا جاتا ہے ۔ لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے بھی میک اپ ، ہیر کٹنگ ، فیشل کے لئے بے تاب دکھائی دیتے ہیں ۔
مگر اس میں سب قصور ان لڑکیوں کا بھی نہیں کیونکہ آج کل رشتوں کے لئے بھی ظاہری خوبصورتی ضروری ہے ، آپ صرف اتنا سوچئیے کہ ہمارے دفتر میں چالیس میں سے 35 لڑکیاں فل میک اپ میں دفتر آتی ہیں باقی کی پانچ جو میک اپ نہیں کرتیں ان میں میں بھی شامل ہوں ، جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے وہ یہ ہے کہ جس انسان کو اللہ تعالی نے خوبیوں سے نوازا ہو اسکے لئے زیورات کی کیا اہمیت ؟ میک اپ بھی اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم آپ کی اچھی اور مثبت سوچ ہے ۔ہمارے دفتر کی یہ 35 لڑکیاں اور خواتین کبھی بھی گھر سے لنچ تیار کر کے نہیں لاتیں جس کی وجہ ان کے پاس وقت کی کمی ہے لیکن جب ان سے یہ کہا جائے کہ جناب اگر آپ کی وقت پر آنکھ نہیں کھلتی تو آپ صبح کیسے بھرپور تیاری اور فل میک اپ کے ساتھ آجاتی ہیں تو کوئی جواب نہیں بن پاتا ۔ یعنی بات وہی ہے کہ’’ زلف دا کنڈل کھلے ناں تے اکھ دا کجل ڈُلے ناں‘‘ والا حساب ہے ۔
میں بناؤ سنگھار اور میک اپ کے خلاف نہیں ہوں لیکن اگر کبھی مخالفت کرتی بھی ہوں تو اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسکے نقصانات اسکے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں ۔ امریکا کی واشگنٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے 31 ہزار 575 خواتین پر مختلف کیمیائی مواد سے بنا ہوا میک اپ مواد استعمال کیا جن میں لپ اسٹکس ، لپ بام ، فیس کریمز اور کئی ہیر کلر اور ڈائی وغیرہ شامل تھے ۔ اس تجزیے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان مصنوعات میں شامل 15 لازمی اشیاء خواتین کی صحت کے لئے بہت مضر ہیں جبکہ ان کے مسلسل استعمال سے خواتین میں بانجھ پن ، جلد کا سرطان ، دل کی بیماریاں اور ہڈیوں کی کمزوریاں جنم لے رہی ہیں ۔
چہرے پر دانے ، کیل مہاسے ااور تل تو ایک طرف رہے لپ اسٹک اور لپ بام کے مستقل استعمال سے ہونٹوں کا رنگ بھی تبدیل ہو کر سیاہ ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی ان کے کنارے بھی پھٹنے لگتے ہیں ۔ مسکارے اور کاجل سے پلکیں ہلکی اور ناہموار ہو جاتی ہیں ۔ میک اپ کی اکثر اشیا میں حیوانی چربی جن میں سور اور گدھے کی چربی شامل ہے ملائی جاتی ہے جس سے چہرے کے ہارمونز مردہ ہو جاتے ہیں اور وقت سے پہلے چہرہ مرجھا جاتا ہے ۔ہیر ڈائی کے درست استعمال نہ کرنے سے سر میں خارش ، جوئیں اور زخموں کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے ۔۔خیر فیصلہ آپ سب پر ہے کہ زلف اور کجل پر دھیان دینا ہے یا اپنے اخلاق کی بہتری پر ۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *