سب سے قیمتی تحفہ

naeem baloch1
’’آپ نے اپنی بیٹی کو شادی پر سب سے قیمتی تحفہ کیا دیا؟‘‘پوچھنے والے نے سوال یقیناًاس لیے کیا تھا کہ وہ جہیز کے بارے میں معلوم کر سکے۔ دراصل اسے معلوم تھا کہ فرید صاحب نے اپنی بیٹی کو جہیز میں ایک پائی کی چیز بھی نہیں دی تھی۔ لیکن فرید صاحب کوئی روایتی باپ نہ تھے۔ کسی قسم کی احساسِ کم تری محسوس کیے بغیر وہ گویا ہوئے:’’میں نے جہیز میں بیٹی کو ایک نصیحت کی تھی ، میرے خیال میں وہی نصیحت میرا اس کے لیے سب سے قیمتی تحفہ تھی .....میں نے اس سے کہا تھا:بیٹی ، تمھیں معلوم ہے کہ ہم تین برس پہلے جس گھر میں رہتے تھے ، اسے چھوڑ کر اس نئے گھر میں منتقل (Shift)ہوئے تھے۔پہلے وہی گھر ہمارا ہواکرتا تھا لیکن جب سے ہم یہاں آئے ہیں ، یہ گھر ہمارا ہے اور پرانا گھر ہمارے لیے پرایا ہو چکا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جب تم شادی کے بعد سسرال جاؤ گی تو نئے گھر منتقل ہو جاؤ گی۔ وہ گھر ہی تمھارا اصل گھر بن جائے گا۔ جب تم ہمیں ملنے آیا کرو گی تو بس مہمان بن کر آیا کرو گی۔ کہنے کو میں نے یہ نصیحت تو کر دی لیکن مجھے بہت جلد معلوم ہو گیا کہ بیٹی نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہ بات مجھے اس وقت معلوم ہوئی جب وہ شادی کے کچھ روز بعد ہم سے ملنے آئی۔ وہ اپنے سسرال کے گھر کے بارے میں کہہ رہی تھی کہ ’’ان ‘‘ کے گھر میں یہ ہوتاہے ، وہ ہوتا ہے۔ تب میں نے اسے یاد دلایا کہ اس نے میری نصیحت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ورنہ وہ کبھی اپنے سسرال کو ’’ ان ‘‘ کا گھر نہ کہتی، ہمارا گھر یا میرا گھر کہتی۔اس دن کے بعد میری بیٹی کم از کم زبانی طور پر سسرالی گھر کو ’’ اپنا ‘‘ گھر کہنے لگی۔محض زبانی طور پر اسے’’ اپنا ‘‘کہنے کا علم مجھے اس وقت ہوا جب اسے میں نے اگلی دفعہ اپنی ماں کو یہ کہتے سنا : ’’اماں ،ہمارے گھر کی یہ بات مجھے ذرا بھی اچھی نہیں لگتی کہ ہر کوئی پھل یا مٹھائی اپنی اپنی لاتا ہے اور اکیلا بیٹھ کر کھاجاتا ہے جبکہ ہم تو اس طرح کی چیزیں مل بیٹھ کر اکھٹا کھاتے ہیں۔ ‘‘میں نے فوراً مداخلت کی اور کہا :افسوس ، رابعہ ، تم نے ابھی تک اپنے گھر کو ’’ا پنا ‘‘ نہیں سمجھا .... اگر سمجھا ہوتا تو اس کی برائی یا کمزوری کو’’ دوسروں‘‘ کے گھرمیں بیٹھ کر بیان نہ کرتی۔بھلا تم نے ماں باپ کے گھر کی برائی یا کمزوری کبھی سسرال میں بیان کی؟‘‘ رابعہ اس دفعہ پھر شرمسارہوکر خاموش ہو رہی۔لیکن افسوس میری یہ قیمتی نصیحت ابھی پوری طرح اس تک نہیں پہنچی تھی، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب اگلے وزٹ میں اس نے بتایا کہ اس کے شوہر اور دیور میں تلخی ہوئی اور تکرار بھی۔ میں نے اس کی بات بھی پوری نہ ہونے دی ، اسے ڈانٹ دیا اور تلخی سے پوچھا : ’’کیا تم نے اپنے بھائیوں کے درمیان ہونے والی اس لڑائی کا ذکر اپنے شوہر یا کسی سسرالی رشتے دار سے کیا جس میں بڑے نے چھوٹے کو غصے میں چھری دے ماری تھی اور وہ بال بال بچا تھا؟ ‘‘اس لیے نا کہ تم نے ابھی اس گھر کو’’ اپنا گھر‘‘ نہیں سمجھا ، ورنہ اس کی ناگوار باتیں یہاں آکر ہر گز نہ کرتی!‘‘ رابعہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی اور کچھ نہ کہہ سکی۔اور اللہ کا شکر ہے کہ اس دن کے بعد سے میری بیٹی نے واقعی شوہر کے گھر کو میکے کے مقابلے میں ’’اپنا ‘‘ گھر سمجھنا شروع کر دیاکیونکہ اس نے کبھی ادھر کی ناگوار بات’’ کسی کے گھر ‘‘ میں نہیں کی تھی! تب مجھے اطمینان ہو گیا کہ میں نے اپنا سب سے قیمتی تحفہ اسے پوری طرح دے دیا ہے ‘‘ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *