اہرام مصر کیوں اور کب بنے

Egypt_Pyramid
لعلونہ خان کی یہ معلوماتی تحریر کئی رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے ( ایڈیٹر )
مصر کی عمارتوں میں فن تعمیر کے حوالے سے سب سے زیادہ جو پُراسرار اور متاثرکُن چیز ہے،وہ ہے’’ اہرام مصر‘‘۔دُنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک۔ہرام مصر فراعین کے مقابر کے طور پر بنائے گئے،ان مقبروں میں فراعین کی لاشیں حنوط کرکے رکھی جاتی تھیں،یہ تہذیب جو چار ہزار سال تک قائم رہی،آپس میں بے حد سخت اور کریہہ مذہبی ڈھانچے میں بندھی تھی،اور یہ ڈھانچا نہ صرف حکمرانوں بلکہ عوام پر بھی مکمل طور پر لاگُو ھوتا تھا۔مذھبی پیشوا نہ صرف رُوحانی زندگی کے کرتا دھرتا تھے،بلکہ دُنیاوی زندگی میں بھی ان کو برابر عمل دخل حاصل تھا۔ان کاکام ایک قائم شدہ معاشرے کو محفوظ بنانا اور اس معاشرے کو جاری وساری رکھنے کا بندوبست انجام دینے کا تھا۔لہٰذا اہرام موت کی صورت میں وہی کردار سرانجام دیتے تھے،جو کردار محلات زندگی کی صورت میں سرانجام دیتے تھے۔بڑے بڑے عظیم الشان محلات اپنے عظیم ستونوں اور مجسموں کے ساتھ لوگوں کے دلوں پر دھاک بٹھانے کے لیے بنائے جاتے تھے۔یہ محلات لوگوں کو حکمرانوں کی شان و شوکت سے روشناس کراتے تھے۔یہی اسباب اہراموں کی تعمیر میں بھی کارفرمارہے۔اب تک چھیالیس کے قریب اہرام دریافت کئے گئے ہیں۔اہل مصر اس بات پر یقین رکھتے تھے،کہ خشک صحرا ہر چیز کو دیر تلک محفوظ رکھتا ھے،27th century BC میں پہلا ہرم تعمیر کیا گیا،اور اسکے بعد اہرام شاہی خاندان کے مدفن کے طور پر مقبول ہو گئے،ان اہراموں کو پینٹنگز،مُجسموں،خزانوں اور قسم قسم کی نقش کاری سے مزین کیا جاتا،سب سے بڑا ہرم مصر کے چوتھے شاہی خاندان کے Khufu خوفو نام کے فرعون کے مقبرے کے طور پر بنایا گیا،اور اس کو بنانے میں تقریبا بیس سال کا عرصہ لگا۔ہرم خوفو جسے جیزہ کا عظیم ہرم بھی کہا جاتا ھے،جیزہ میں تین اہراموں میں سب سے قدیم اور سب سے بڑا ھے۔اس کا قدیم نام "افق خوفو"تھا۔
اس سلسلے میں ایک کہانی بھی مشہورہے کہ خوفو فرعون کی ایک ملکہ اسے بہت پیاری تھی،اس ملکہ کی کوئی خواہش کوئی حُکم چاہے کتناہی نامُمکن کیوں نہ ھو،مُنہ سے نکلتے ہی پوری کردی جاتی۔ایک دن جب فرعون اپنے ملکہ کے پاس آیا تو وہ بُہت اُداس چہرہ بنائے بیٹھی تھی۔ فرعون نے جب ملکہ سے اُداسی کا سب پُوچھا،تو وہ رونے لگی۔ خوفواپنی حسین وجمیل اور منظور نظر کی آنکھ میں آنسو دیکھتے ہی تڑپ اُٹھا، پُوچھا کہ ایسی کیا بات ہے،جس نے تمہیںے رُلایا۔ملکہ نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اُٹھا کر کہا،کہ اے بادشاہ،یہ اتنی بڑی سلطنت،اتنا جاہ وجلال کس واسطے،جب تمہارے آنکھ بند ہوتے ہی لوگ تمہارا نام بھی بُھول جائیں تو،میں چاہتی ہوں کہ تم ایسا کچھ کام کرو،کہ جب تک دُنیا ہے،تمہیںے لوگ یاد رکھیں،بادشاہ نے پُوچھا کہ ایسا کیا کام ہو سکتا ہے،جس کے نتیجے میں رہتی دُنیا تلک میرا نام رہے۔ ملکہ نے کہا کہ میں سوچوں گی۔کچھ دن بعد ملکہ اس کے پاس آئی،اور بولی،کہ اے بادشاہ تُم اپنے لئے ایک ایسامقبرہ بناؤ،جو نہ صرف تعمیر کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہو،بلکہ وہ اتنا عظیم اورہو،کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اُسے دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں تمہاری عظمت اور تمہارا جاہ وجلال قائم رھے،اور وہ یہ سوچنے پرمجبورہوں،کہ جس بادشاہ کا مقبرہ ایسا ہے،تو وہ خود کیسا ہوگا،بادشاہ کے دل کو یہ بات لگی،اور اُس نے اپنے لئے مقبرے کی تعمیر کا حُکم دے دیا۔ہرم کی تعمیر سے قبل درست زمین کی تلاش کا مرحلہ تھاکیونکہ اس کے ماہرین کو ایسی زمین درکار تھی،جو کثیرالمنزلہ عمارت کا بوجھ برداشت کرسکے،لہٰذا انھیں قاہرہ کے قریب جیزا سب سے موزوں مقام لگا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عظیم ہرم 480.6 فٹ اُونچاتھا،پر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی لمبائی کم ہو کر455.4 فٹ تک رہ گئی جبکہ اس کی جسامت88,000,000 کیوبک فٹ تک ہے۔بیس سال کی عرصے میں تعمیرہونے والا یہ ہرم روزانہ تقریباً 80 سو ٹن پتھر ہڑپ کر جاتا تھا۔اس اہرام کو 38 یا 43 صدیوں تک دُنیا کا سب سے بلند انسانی ہاتھ سے تیار شُدہ عمارت ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ 1300ء میں 160 میٹر بلند "لنکن کیتھیڈرل" نے اس سے بلند ترین عمارت کا اعزاز چھین لیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہرم خوفو 2,300,000 بلاکس پر مُشتمل ھے،اور ہر بلاک کا وزن 2.5 ٹن ھے۔اس عمارت کی بنیاد مربع شکل کی ہے،جس کے ہر جانب کی لمبائی 751 فٹ ہے،ماہرین کو اس بات پہ انتہائی تعجب ھے،کہ اُس عہد میں جب نہ تو سائنسی آلات تھے ا ور نہ ہی علوم وفنون نے ترقی کی تھی،قدیم مصریوں نے کس طرح ایسی دیواریں کھڑی کیں،جن کی پیمائش میں انتہائی معمولی فرق بھی نہیں ہے،جیسے جیسے عمارت بلند ہوتی ہے،اُس کی چوڑائی ایک ترتیب کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے،اور 481 فٹ کی بلندی پر پُہنچ کر عمارت کے چاروں کونے ایک نُقطے پر مرکُوز ہو جاتے ہیں۔
خوفو کے ہرم میں شمال کی جانب اس کا داخلی راستہ سطح زمین سے 18میٹر اُونچا برآمدہ ایک زیر زمین چیمبر کی طرف جاتا ہے،جہاں سے ملکہ کے چیمبر اورپھر بادشاہ کے چیمبر تک رسائی مُمکن ھے۔ان مقبروں میں ان کی لاشوں کے ساتھ ساتھ ان کے خزانے،قیمتی پتھر،ہیرے جواہرات،اور ان کے ساتھ ان کی خدمت کرنے والے مُلازم او جانور بھی دفن کئے جاتے تھے۔کہا جاتا ہے جو جتنا منظور نظر غُلام یا خادمہ ہوتی اُتنی ہی اُن کی قسمت اس لحاظ سے بُری ہوتی، بادشاہ کے مرنے کے ساتھ ہی اُن کا بھی دانہ پانی ختم کردیا جاتا ۔ باد شاہ کے لواحقین ان زندہ انسانوں کو جب ان کی مرضی کے خلاف اس ہولناک اور سنگین قبر میں بند کردیاتے تو یہ اپنی آخری سانس تک اُن کے پیچھے بند ہو جاتے ۔اُس حرم کے دروازوں اور دیواروں کو پاگلوں کی طرح کھٹکھٹاتے اور یونہی زندگی کی آرزو میں موت کو گلے لگا لیتے۔ دولت کا لالچ آج تک ڈاکا زنی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا رھتا ہے،قدیم مصری اہراموں میں نقب زنی آسان نہ تھی،کیونکہ انھیں پتھروں،اور بُھول بُھلیوں نُما راہداریوں سے محفوظ بنایا جاتا،تاکہ مرنے والے یہاں سکُون سے ابدی نیند سوسکیں،اسکے باوجود کوئی بھی مقبرہ نقب زنوں سے محفوظ نہیں رہا،پہلے تو چوروں کو مقبرے کی دیوار میں نقب لگانا پڑتی تھی،جس کے لئے بعض اوقات ٹھوس چٹانوں میں سُرنگیں کھودنا پڑتیں۔ اس موضوع پر بڑی دلچسپ فلمیں بن چکی ہیں ،ناول اور کہانیاں لکھی جا چکی ہیں ۔شام کے وقت جب سورج کی الوداعی کرنیں صحرا کی خاموش وسعتوں میں ایستادہ ان عظیم عمارتوں سے ٹکراتی ہیں،تو ایک ایسا طلسماتی منظر جنم لیتا ہے،جو دیکھنے والے کو مبہوت کردیتا ھے،اور ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ"دیوتاؤں کامقبرہ بنانے والے بھی تو اپنے فن کے دیوتا تھے"۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *