لیپ کا دن

abid hassan
آج کیلنڈر پرنظر پڑی تو پتاچلا کہ اس سال فروری کا مہینہ 29دن کا ہوگا۔ میرے جیسے کام چور لوگ افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کے اس مہینے 28 کے بجائے 29دن کام کرنا پڑے گا۔بھلا کیلنڈر بنانے والوں کوکیا مصیبت پڑی تھی کے اچھے بھلے 28دن کے مہینے کو ہر چار سال بعد29کا کر دیا۔نوکری پیشہ لوگ تویہی چاہتے ہیں کہ جلدی سے جلدی مہینہ ختم ہو اور انہیں تنخواہ ملے۔ میرے جیسے کسی کاہل انسان سے انٹرویو کے دوران جب پوچھا گیا کے اگر زمین 30گنا تیزی سے گھومنا شروع ہو جائے تو کیا ہوگا، جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کے ہمیں روزانہ تنخواہ ملا کرے گی۔ ہم پاکستانی ایک با صلاحیت قوم کے طور پہ جانے جاتے ہیں لیکن کام چوری اور کاہلی میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ بل گیٹس نے یہ اعلان کیا کہ وہ مشکل کام کے لیئے ایک سست انسان کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ سست انسان مشکل کام کو آسانی سے کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیتا ہے۔یہ اعلان سننے کے بعد ہمارے پاکستانی بھائی دھڑادھڑ اپنی سی وی مائیکروسافٹ کو بھیج رہے ہیں کہ شاید ہم ہی وہ سست انسان ہیں جس کی بل گیٹس کو تلاش ہے۔
جیسا کے سب جانتے ہیں کہ عیسوی یا گریگورین کیلنڈر میں وقت کا حساب حضرت عیسی کی پیدائش سے لگایا جاتا ہے۔ اس کیلنڈرکا استعمال1582عیسوی میں شروع کیا گیا۔ عیسوی کیلنڈر میں ایک سال 365 دن کا ہوتا ہے، لیکن اصل میں زمین 365.242 دنوں میں سورج کے گرد ایک چکر پورا کرتی ہے۔اس لیئے ہر چار سال کے بعد فروری میں ایک دن کا اضافہ کیا جاتا ہے۔جس سال میں فروری 29 دنوں کا ہوتا ہے وہ لیپ کا سال کہلاتا ہے اور 29فروری کو لیپ کا دن کہا جاتا ہے۔اس ایک دن کی وجہ سے کچھ اضافی وقت بھی جمع ہوجاتا ہے اس لیئے ہر سو سال کے بعد آخری لیپ سال میں فروری کو 28دن کا ہی رکھا جاتا ہے۔
29فروری کو پیدا ہونے والے افراد کی سالگرہ بھی چار سال کے بعد آتی ہے۔ایک شخص زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹر نے پوچھا، کیا گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا؟ زخمی شخص نے جواب دیا نہیں بیوی کی سالگرہ کا دن بھول گیا تھا۔جن خواتین کی سالگرہ 29فروری کو ہوتی ہے ان کے شوہروں کے لیئے یہ دن نعمت سے کم نہیں کیوں کہ وہ تین سال اس اطمینان کے ساتھ گزارسکتے ہیں کے ان کو سالگرہ یادنہیں رکھنی پڑے گی اور نہ ہی سالگرہ کا تحفہ دینا پڑے گا۔ کچھ لوگ اپنی عمر بھی چار گنا کم بتاتے پائے گئے ہیں کہ میر ی سالگرہ ہی اتنی بار آئی ہے۔عموما شادی کا دن 29 فروری کو رکھنے سے پرہیز کیا جاتا ہے، لیکن مغرب میں کچھ لوگ شادی کے دن کو الگ اور یادگار بنانے کے لیئے اس دن شادی کرتے ہیں لیکن ایسی شادیاں اپنی پہلی سالگرہ بھی پوری نہیں کر پاتیں کیونکہ وہاں شادی نبھانے سے زیادہ کچھ الگ کرنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔
آئیرلینڈ میں اس دن کو کنواروں کے دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ اس دن کوئی بھی لڑکی کسی بھی مرد کو شادی کی دعوت دے سکتی ہے۔اور اگر مرد انکار کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ لڑکی کو ایک سوٹ خرید کر دے۔شکر ہے پاکستان میں ایسی کوئی روایت نہیں، ورنہ اداکارہ میرا جیسی لڑکیاں(امید ہے میرا خود کو لڑکی کہنے پر برا محسوس نہیں کریں گی) ایک دن مین سینکڑوں سوٹ جمع کر لیتیں اوراگلے ہی دن ان سے اپنا بوتیک کھول لیتیں۔
مغربی ممالک میں لوگ لیپ دن کو ایک دن زیادہ کام کر کے گزارتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں یہ دن صرف یہ احساس چھوڑجاتاہے کہ ہم نے ایک اور دن ضائع کر دیا۔ ہم سال کے 365 دن کونسا تیر چلاتے ہیں جو ایک دن زیادہ ہونے سے کچھ کریں گے۔شاید یہی وجہ ہے کے آج ہم خود کچھ تخلیق کرنے کی بجائے مغرب کی تنقید پر ہی گزارہ کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *