بھارت سے آزادی نہیں ، بھارت میں آزادی!

kanhaiya-ptiتین ہفتے کی جیل یاترا کے بعد رہا ہونے والے طلبہ تنظیم کے لیڈر کنہیا کمار وزیر اعظم مودی کو خاصا ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔ یاد رہے جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے اس طالب علم لیڈر پر مقدمہ قائم کر دیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے بھارت کے خلاف طلبہ کو
بغاوت پر اکسایا ہے۔ انھیں تہار جیل میں قید کر دیا گیا تھا۔ کنہیا کمار نے غداری کے مقدمے میں ضمانت پر رہائی کے بعد کہا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اپنی نظریاتی لڑائی جاری رکھیں گے اور ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان پر ملک کے خلاف اور کشمیری علیحدگی پسند افضل گورو کے حق میں نعرہ لگانے کا الزام ہے۔کنہیا کمار کی عمر 29 برس ہے اور وہ ٹیچر بننا چاہتے ہیں لیکن رہائی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں انھوں نے ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح صحافیوں کیے سوالات کے جواب دیے۔انھوں نے کہا و ہ بھارت سے نہیں بھارت میں آزادی چاہتے ہیں کیونکہ ملک میں طلبہ کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔افضل گورو اس ملک کا شہری تھا اسے قانون نے سزا دی ہے اور وہی قانون اس دیش کی جنتا کو اس سزا کے خلاف بولنے کا اختیار دیتا ہے۔ جو لوگ اس پر احتجاج کر رہے ہیں یہ ان کا آئینی حق ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ میرے لیے افضل گورو ہیرو نہیں ہے، میرے لیے روہت ویمولا ہیرو ہے۔یاد رہے کہ روہت دلت طالب علم تھے جنھوں نے یونیورسٹی کی جانب سے تادیبی کارروائی کے بعد خود کشی کر لی تھی۔اس پر بی جے پی سے وابستہ طلبہ کی تنظیم کے رہنماؤں سے مار پیٹ کرنے کا الزام تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم مودی نے بھی کنہیا کو ٹویٹ کیا ہے کہ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ستیا ہی کی جیت ‘‘(سچ کو جیت )طالب علم رہنما نے اپنی تقریر میں اس کا حوالہ دیا اور کہا کہ میں بھی اسی پر یقین رکھتا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں وزیراعظم سے اختلاف کرنے کا حق نہیں ،یہ حق ہمیں حاصل ہے اور یہ اختلاف کرکے ہی ہم کہتے ہیں کہ ستیا ہی کو جیت ہے۔
انھوں نے ہزاروں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔کنہیا کمار اور جواہر لعل یونیورسٹی کے دو دیگر طلبہ کی گرفتای سے ملک میں اظہار خیال کی آزادی پر بحث چھڑ گئی ہے اور قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ کنہیا کمار نے جیل میں بھی یہ واضح کیا تھا کہ وہ ملک کے آئین اور جمہوریت پر کاکل یقین رکھتے ہیں ۔ مبصرین اس نوجوان کو ملک کا ابھرتا ہوا سیاستدان قرار دے رہے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *