’میڈیا نے خود مصیبت مول لی ہے‘

wusat ullah khan

کراچی اور لاہور میں مشتعل مظاہرین نے نمازِ جمعہ کے بعد نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے دفاتر پر بعد حملہ کیا اور حیدر آباد پریس کلب کا ایک ہزار سے زائد مظاہرین نے محاصرہ کیا۔ ایکسپریس نیوز چینل کی نشریاتی گاڑی (ڈی ایس این جی) پر بھی حملہ ہوا۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے حامی دراصل ممتاز قادری کی پھانسی اور جنازے کے مبینہ میڈیائی بلیک آؤٹ پر غصہ نکال رہے تھے۔ اس سے قبل اتوار کو ممتاز قادری کی پھانسی اور منگل کو راولپنڈی میں جنازے کے موقع پر کئی میڈیائی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا اور مارپیٹ و آلات کی توڑ پھوڑ بھی ہوئی۔ کراچی، لاہور اور چند دیگر شہرں میں بھی پچھلے چھ روز کے دوران یہی عمل دھرایا گیا۔ خود نشانہ بننے کے باوجود میڈیا نے اپنے پر ہونے والے حملوں کی خبر محتاط انداز میں نمک مرچ کے بغیر پھیکی پھیکی نشر کی۔ تازہ چلن یہ ہے اب مسلح افراد یا دہشت گردوں کے علاوہ ڈنڈہ بردار مشتعل ہجوم بھی میڈیا کو اطمینان سے زد و کوب کرتا ہے اور صحافتی تنظیمیں یومِ سیاہ منانے، ایک آدھ احتجاجی ریلی نکالنے یا بازو پر سیاہ پٹی باندھنے تک محدود ہو گئی ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ جس تنظیم کی خبر سنگل کالمی لگ جاتی یا ایک آدھ منٹ چینل پر نشر ہوجاتی تو وہ شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتا تھا لیکن آج حملہ آوروں کی تشفی معمولی کوریج سے کیوں نہیں ہو پاتی ؟ اس معاملے کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں۔ اول یہ کہ خود کو تسلی دے لی جائے کہ میڈیا پر حملہ کوئی نئی بات نہیں۔گذشتہ چند برس کے دوران کیا سٹیٹ اور کیا نان سٹیٹ ایکٹرز، جس کا جہاں داؤ لگا میڈیا کو کم یا زیادہ ٹھوک ڈالا۔ خود کو یہ تسلی بھی دی جاسکتی ہے کہ چونکہ سوسائٹی میں ہی عدم برداشت بڑھ گئی ہے لہذا اس کی لپیٹ میں میڈیائی کارکنوں کا آنا بھی فطری عمل ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے کہ خود پر آئی مصیبت کو دعوت دینے میں خود میڈیا کتنا قصور وار ہے اور کیوں میڈیا کے خلاف پرتشدد عمل اور ردِ عمل بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

یہ درست ہے کہ پاکستان پچھلے کئی برس سے صحافیوں کے لیے پانچ خطرناک ممالک میں شامل ہے۔ خیبر پختونخوا، فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں کئی صحافی اور میڈیائی عملہ دہشت گردی اور مسلح حملوں کا نشانہ بنے ہیں اور بن رہے ہیں ۔ان میں سے بیشتر ٹارگٹ کلنگ یا ٹارگٹڈ دہشت گردی کی زد میں آئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے دھرنوں کی میڈیا نے جس طرح از خود یا کسی کے کہنے پر یا پھر ریٹنگ کے چکر میں دن رات اندھا دھند کوریج کی اور اس سے پہلے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی بیشتر تقاریر کو براہ راست دکھانے کا ناظر کو جس طرح عادی بنایا اس کے بعد ہر جانب سے تشہیری کوٹے کی ڈیمانڈ میں اضافہ تو ہونا ہی تھا۔ ہر تنظیم اور گروہ کے منہ کو کوریج کا خون تو لگنا ہی تھا۔ چنانچہ انھوں نے میڈیا سے منہ در منہ پوچھنا شروع کردیا کہ آپ جن چہیتوں کو دن رات دکھا رہے ہیں ان میں کون سے سرخاب کے پر ہیں جو ہم میں نہیں۔ ہمیں صرف ایک آدھ منٹ کی خبر یا پریس کانفرنس کی محض دس پندرہ منٹ کی لائیو کوریج پر آخر کیوں ٹرخایا جا رہا ہے؟ ان تنظیموں اور گروہوں پر جلد آشکار ہوگیا کہ تفصیلی کوریج کرانی ہے تو میڈیا کے سر پر ڈنڈہ مسلسل لہرانا پڑے گا۔ چنانچہ دوسروں کی لمبی لمبی اور اپنی مختصر مختصر کوریج کا موازنہ کرنے والے جوشیلوں نے دھمکی، پتھراؤ اور تشدد کا راستہ چن لیا۔

اب معاملہ اتنا آگے چلا گیا ہے کہ ایک سادہ سی خبر کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔ ہر وہ تنظیم اور گروہ جس کے پاس ریڈی مسٹنڈوں کا انتظام ہو مسلسل لائیو کوریج، ٹاک شوز میں نمائندگی اور اپنے پریس ریلیزوں کی من و عن اشاعت کا پیکیج چاہتے ہیں۔ جس وقت میڈیا لندن سے ہونے والا براہِ راست خطاب اور پھر اسلام آباد کے قادروی و عمرانی دھرنے زوق و شوق سے کور اور نشر کر رہا تھا اس وقت شاید اس کو احساس بھی نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں یہی شوق گلے کا ہار ہو جائے گا۔ چنانچہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد منہ مانگے کوریج کی ڈیمانڈ پوری نہ کرنے والے میڈیا کی گردن میں اب ’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘ کا رسہ فٹ ہو چکا ہے۔ شوق زدہ میڈیا نہ اس صورت حال سے نمٹ پا رہا ہے اور نہ سہہ پا رہا ہے۔ ایک طرف پیمرا تو دوسری طرف بلوائی کا ڈنڈہ۔گویا ’کھاؤں کدھر کی چوٹ بچاؤں کدھر کی چوٹ۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *