آج خواتین کا عالمی دن ہے

atif-rehman

ہر سال 8مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی کامیابیوں کا جشن منایاجاتا ہے۔ اس سال خواتین کے عالمی دن سے چند دن پہلے پاکستانی خواتین کے لیے دو اچھی خبریں ہیں ۔ پہلی شرمین عبید چنائے کی فلم ’’اے گرل ان دی ریور‘‘کو آسکر ایوارڈ ملا ۔ ’’غیرت کے نام پر خواتین کا قتل‘‘ فلم کا موضوع تھا۔شرمین عبید چنائے نے آسکرایوارڈ حاصل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے میری فلم کو سراہتے ہوئے مجھے یقین دہائی کرائی ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے نئے قوانین بنائے جائیں گے تاکہ خواتین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔دوسری خبر پنجاب حکومت کی طرف سے خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں خواتین کو تشدد سے بچانے کا بل منظور کیا گیا اس کے مطابق خواتین کو تشدد کرکے گھر سے نہیں نکالا جا سکے گا اور شوہر تشدد نہیں کر سکے گا۔ اس بل میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں۔ جن میں خواتین پر گھریلو تشدد ،معاشی استحصال، جذباتی ،نفسیاتی بدکلامی اور سائبر کرائم بھی جرم قرار پائیں ہیں۔ تشدد کرنے والوں کو عدالتی حکم پر ٹریکنگ ،کڑے لگائیں جائیں گے ۔اور اتارنے والے کو ایک سال کی قید یا پچاس ہزار روپے سے ایک لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اس طرح کے پہلے بھی بِل پاس ہو چکے ہیں۔ ان پر عملدرآمد کروانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
پاکستان کی 52فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے مگر معاشرتی طور پر خواتین کو کم تر سمجھا جاتا ہے اور ان کو معاشرے میں ترقی کے برابر مواقع میسر نہیں ہیں۔ صنعتی اداروں میں ورکنگ ویمن کا استحصال کیا جاتا ہے ان کی تنخواہیں مرد ورکروں کے برابر نہیں۔ ان سے سستی محنت لی جاتی ہے اور جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے چونکہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی ملازمت کو برا سمجھا جاتا ہے اس لیے بے شمار تعلیم یافتہ خواتین مختلف شعبوں میں جو اپنی خدمات سرانجام دے کر معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں وہ صرف گھر میں بیکار بیٹھی ہیں۔ پاکستان کے طبقاتی سماج میں عورت دوہرے استحصال کا شکار ہے ۔ ایک مزدور مرد بھی جو معاشی بدحالی کا شکار ہے وہ بھی اپنے گھر میں عورت کا حاکم ہوتا ہے اور اس کو کسی قسم کے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں اور اس کا غصہ بھی بے چاری عورت پر نکلتا ہے۔جب چاہے اس کو تشد دکا نشانہ بناتا ہے ۔ پاکستان میں زچگی کے دوران عورتوں کی کثیر تعداد جان کی بازی ہار جاتی ہیں اور بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ صحت کے اصولوں کے مطابق عورتوں کو سہولتیں میسر نہیں، سرکاری ہسپتالوں میں بہت کم سہولتیں ہیں ،غریب خواتین پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سکت نہیں رکھتیں۔اور عورتوں کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں ان پر عمل درآمد نہیں کرایا گیا۔1976ء میں انسداد جہیز کا قانون بنایا گیا تھا مگر آج تک یہ قانون عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔صرف یہی نہیں بلکہ اس کے اندر موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کوئی ترمیم بھی نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے اس کا اطلاق موثر ثابت نہ ہو سکا۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی کئی لڑکیاں محض جہیز کے باعث اچھے رشتوں سے محروم رہ جاتی ہیں۔
حکومت پاکستان کو چاہیے کہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ کرے ،ان کو تعلیم کی سہولتیں فراہم کرے، خواتین کو میرٹ کے مطابق ملازمتیں فراہم کرے ،ورکنگ ویمن کو قانون کے مطابق اوقات کار میں تحفظ فراہم کیا جائے۔خواتین کو قانون کے مطابق وراثت میں حصہ ملنا چاہیے تاکہ وہ سماجی اور معاشی طور پر باوقار زندگی گزار سکیں ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین رہنماؤں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے حقوق کی آواز بلند اور خواتین کے مفاد کا تحفظ کرنا چاہیے۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک جن میں روس، ویت نام، چین اور بلغاریہ میں خواتین کے عالمی دن پر عام تعطیل ہوتی ہے۔یہ دن خواتین کی ’’جدوجہد‘‘ کی علامت ہے۔ 1908ء میں 15000ہزار محنت کش خواتین نے تنخواہوں میں اضافے، ووٹ کے حق اور کام کے طویل اوقات کار کے خلاف نیویارک شہر میں احتجاج کیا اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کی۔ 1909ء میں امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی کی طرف سے پہلی بار عورتوں کا قومی دن 28فروری کو منایا گیا۔ 1910ورکنگ ویمن کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس کوپن ہیگن میں منعقد ہوئی۔ جس میں Clara Zetkin (جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما) نامی عورت نے خواتین کے عالمی دن کے نظریہ کو پیش کیا۔ 17ممالک کی 100سے زائد خواتین نے اس تجویز کو متفقہ منظور کیا۔ اور ہر سال اس دن کو منانے کا فیصلہ ہوا۔1911میں کوپن ہیگن میں اس بات پر اتفاقی فیصلے کے بعد عالمی یوم خواتین (IWD)آسٹریلیا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں 19مارچ کو منایا گیا۔
اقوام متحدہ نے 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرار دیا اور خواتین کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے خواتین سے متعلق تمام امتیازی قوانین اور رویوں کے خاتمے کا کنونشن سیڈا(CEDAW)تشکیل دیا اور تمام ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ خواتین کے حوالے سے سیڈا کنونشن کے مطابق قانون سازی کریں۔پاکستان میں بھی اس روز خواتین کی تنظیمیں خواتین کا دن جوش و جذبے سے مناتی ہیں اور تجدید عہد کرتی ہیں کہ خواتین کے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ سیمینار منعقد ہوتے ہیں، جلوس نکالے جاتے ہیں جن میں خواتین کا معاشرے میں سماجی کردار اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پرنٹ میڈیا میں اس دن کی افادیت کے حوالے سے خصوصی (سپلیمنٹ) شائع کیے جاتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیامیں خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *