غازی علم الدین شہید کا عدالت میں تاریخی بیان

gazi-3
غازی علم دین 8 ذیقعدہ 1366ء بمطابق 4 دسمبر 1908ء کو لاہور میں متوسط طبقے کے ایک فرد طالع مند کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نجاری (بڑھئی) ان کا پیشہ تھا۔ طالع مند اعلیٰ پائے کے ہنرمند تھے۔ وہ علم دین کوگاہے گاہے اپنے ساتھ کام پرلاہور سے باہر بھی لے جاتے۔ بڑا بیٹا محمد دین تو پڑھ لکھ کر سرکاری نوکر ہوگیا لیکن علم دین نے موروثی ہنر ہی سیکھا۔ علم دین نے بچپن ہی میں بعض ایسے واقعات دیکھے جن کے نقوش ان کے دماغ پر ثبت ہوئے اور ان کی کردار سازی میں کام آئے۔ ماموں کی بیٹی سے منگنی تک علم دین کوگھر اورکام سے سروکار تھا۔ باہر جو طوفان برپا تھا اس کی خبر نہ تھی۔ اُس وقت انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ گندی ذہنیت کے شیطان صفت راجپال نامی بدبخت نے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ایک دل آزارکتاب ”رنگیلا رسول“ (نعوذ باللہ ) شائع کرکے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ حکومت کو راجپال کے خلاف مقدمہ چلانے کو کہا گیا، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالعزیز اور اللہ بخش کو الجھا کر سزا دی گئی۔ الٹا چور سرخرو ہوا اور کوتوال کے ساتھ مل گیا۔ اخبارات چیختے‘ چلاّتے راجپال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ جلسے ہوتے‘ جلوس نکلتے لیکن حکومت اور عدل وانصاف کے کان پر جوں نہ رینگی۔ مسلمان دلبرداشتہ تو ہوئے لیکن سرگرم عمل رہے۔
دلّی دروازہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ یہاں سے جو آواز اٹھتی پورے ہندوستان میں گونج جاتی۔ علم دین ایک روز حسب معمول کام پر سے واپس آتے ہوئے دلّی دروازے پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رک گئے۔ انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا تو پتا چلا کہ راجپال نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کتاب چھاپی ہے اس کے خلاف تقریریں ہورہی ہیں۔ کچھ دیر بعد ایک اور مقررآئے جو پنجابی زبان میں تقریر کرنے لگے۔ یہ علم دین کی اپنی زبان تھی۔ تقریر کا ماحصل یہ تھا کہ راجپال نے ہمارے پیارے رسول کی شان میں گستاخی کی ہے، وہ واجب القتل ہے، اسے اس شرانگیزی کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ علم دین گھر پہنچے تو والد سے تقریرکا ذکر کیا۔ انہوں نے بھی تائید کی کہ رسول کی ذات پر حملہ کرنے والے بداندیش کو واصلِ جہنم کرنا چاہیے۔ وہ اپنے دوست شیدے سے ملتے اور راجپال اور اس کی کتاب کا ذکرکرتے۔ لیکن پتا نہیں چل رہا تھا کہ راجپال کون ہے؟ کہاں ہے اُس کی دکان؟ اورکیا ہے اس کا حلیہ؟ شیدے کے ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ شاتمِ رسول ہسپتال روڈ پر کتابوں کی دکان کرتا ہے۔ بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمود غوثؒ کے احاطہ میں مسلمانوں کا ایک فقیدالمثال اجتماع ہوا، جس میں عاشقِ رسول، امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری ؒ نے بڑی رقت انگیز تقریر کی۔ علم دین اپنے والد کے ہمراہ اس میں موجود تھے۔ اس تقریر نے بھی اُن کے دل پر بہت اثرکیا۔
لاہور کی انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاﺅس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔ معلوم ہوا کہ راجپال ابھی نہیں آیا۔ آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت کے لیے آجاتی ہے۔ اتنے میں راجپال کار پر آیا۔ کار سے نکلنے والے کے بارے میں کھوکھے والے نے بتایاکہ یہی راجپال ہے، اسی نے کتاب چھاپی ہے۔راجپال ہردوار سے واپس آیا تھا، وہ دفتر میں جاکر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کے لیے ٹیلی فون کرنے ہی والا تھا کہ علم دین دفترکے اندر داخل ہوئے۔ راجپال نے درمیانے قدکے گندمی رنگ والے جوان کو اندر داخل ہوتے دیکھ لیا لیکن وہ سوچ بھی نہ سکا کہ موت اس کے اتنے قریب آچکی ہے۔ پلک جھپکتے میں چھری نکالی، ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور راجپال کے جگر پر جالگا۔ چھری کا پھل سینے میں اترچکا تھا۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی-  اس قتل کی سزا کے طور پر 7 جولائی 1929ءکو غازی علم دین کو سزائے موت سنادی گئی جس پر 31 اکتوبر1929ءکو عمل درآمد ہوا۔ ان کے جسدِ خاکی کو مثالی اور غیرمعمولی اعزاز واکرام کے ساتھ میانی صاحب قبرستان لاہور میں سپرد ِ خاک کردیا گیا- اس حوالے سے عدالت میں غازی علم دین شہید نے عدالت کے روبرو جو گفتگو کی وہ عبدالرشید عراقی نے اپنی کتاب "غاری علم الدین شیہد" میں بیان کی ہے ، اس کتاب کی ترتیب و تدوین امر شاہد نے کی ہے ، پیش خدمت ہے عدالت میں غازی علم دین شہید کا بیان!
gazi-1 gazi-2

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *