ہیلری اورسینڈرزجارحانہ موڈ میں، تلخ الزامات کی بوچھاڑ

Sanders Hilary

ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے امیدواروں کے درمیان ریاست مین کے تازہ معرکے میں برنی سینڈرز نے ہلیری کلنٹن کو شکست دے دی ہے۔ ان انتخابات میں 91 فیصد ووٹ گنے جانے تک ورمونٹ ریاست کے سینڈرز نے 64 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کی مدمقابل سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کو 36 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ دوسری طرف رپبلکن پارٹی کی نامزدگی کی دوڑ میں پورٹو ریکو کی پرائمری میں مارکو روبیو نے ارب پتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ہرا دیا ہے۔ کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اپنی جماعتوں میں اب تک سب سے آگے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدواروں کے درمیان امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی طرف سے کرائی گئی ایک بحث میں ہلیری کلنٹن اور برنی سینڈرز نے مختلف موضوعات پر ایک دوسرے سے شدید اختلاف کیا۔ اختلاف کے علاوہ ان دونوں امیدواروں نے معیشت اور تجارت کے مسائل پر بحث کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزامات کی بھی بوچھاڑ کی۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ان کے مد مقابل امیدوار برنی سینڈر نے 2009 میں امریکی کاروں کی صعنت کو مالی امداد دینے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق کم گیتھاس ہلیری کلنٹن اور برنی سینڈرز کے مباحثے میں موجود تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برنی سینڈر نے ماضی میں شاید ہی کبھی اتنا جارحانہ انداز اختیار کیا ہو اور بحث کے دوران کئی مرتبہ وہ غصے میں نظر آئے۔ انھوں نے ہلیری کلنٹن کو طویل المدتی آزادانہ تجارت کے مسئلے پر آڑے ہاتھوں لیا اور امریکی حصص بازار وال سٹریٹ پر ان کے دوستوں کا ذکر کیا جنھوں نے معیشت کی تباہی میں کردار ادا کیا۔ ہلیری نے جواباً برنی سینڈرز کو امریکہ کی کارروں کی صنعت کو سرکاری امداد دینے کی مخالفت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بحث مشی گن ریاست کے شہر فلنٹ میں منعقد ہوئی جہاں پینے کے پانی میں سیسے کے اثرات پائے جانے کی وجہ سے صحت عامہ کی ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے۔ سینڈرز نے کلنٹن پر الزام لگایا کہ معاشی بحران کے دوران دی جانے والی امداد وال سٹریٹ کے لیے تھی جہاں ان کے بقول کلنٹن کے دوستوں نے معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ کینسس اور نبراسکا کی ریاستوں میں ہفتے کو ہونے والے انتخابات میں سینڈرز نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ہلیری کلنٹن نے لوئی زیانا میں میدان مار لیا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *