گامورام کی بیوی اور بہن

dil-thaam-kay
پاکستان میں واضع اور موثر قانون ہونے کے باوجود ،،ونی،،تشدد،نفسیاتی دباؤوتشدد،کے واقعات جنم لیتے رہتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے جہالت کی وجہ سے ہی ان پڑھ لوگ عورت کو ،،پاؤں کی جوتی،،جیسے القابات سے پکارتے اور یاد کرتے ہیں اسکے برعکس بیوی شوہر کو سر کا تاج سمجھتی ہے وجود زن سے انکار نہیں کیونکہ اسی کے دم سے ہی دنیا قائم ہے ۔تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات بیک ورڈ علاقوں،دیہاتوں،قبیلوں میں رونما کثرت سے ہوتے ہیں جبکہ بڑے شہروں اور تعلیم یافتہ سو سائٹی میں خواتین کو برابری کے حقوق حاصل ہیں جہالت کی بدولت گھروں میں لڑائی ،جھگڑوں کا نزلہ عورت پر گرایا جاتا ہے اگر گھر سے باہر برادری یا غیر برادری میں جھگڑا ہو اور جھگڑے میں قتل و غارت ہو جائے تو اسمیں بھی عورتوں کو ،،ونی،،کر کے رہائی پانے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جہالت کی بدولت ہی عورتوں کو،بعض والدین ،شوہر،اور بیٹے کے گھر وہ مقام نہیں مل پاتا جسکی حقیقت میں وہ حقدار ہیں ۔کنواری ہوتی ہیں تو والدین،بھائی بہین،رشتہ دار،عزیز،ایک ہی رٹ لگائے رکھتے ہیں اسکو پڑھانا لکھانا کیا ،،پرایا دھن،،ہے دوسرے گھر جانا ہے لہذا سلائی کڑھائی سکھاؤ اور شادی کر دو۔ماں ،باپ،بھائیوں،سے خوفزدہ خوفزدہ،رہنے والی لڑکی سپنے دیکھنا شروع کر دیتی ہے کہ شادی کے بعد اسکا اپنا گھر ہو گا جہاں اسکی حکمرانی ہو گی اسکا جو دل چاہے گا وہ خواہش پوری کرے گی جو والدین کے گھر پوری نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ انکا اظہار کرتی ہے شادی کے بعد معلوم پڑتا ہے کہ سسرال میں تو ساس کی حکمرانی ہے اور اسکی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مار سکتی ہر کام میں ساس کی اجازت ضروری قرار دی جاتی ہے اور اگر ضد کر کے شوہر سے کوئی خواہش پوری کروا بھی لے تو ساس کی کڑوی کسیلی ،باتیں سننا روزانہ کا معمول بن جاتا ہے اس دوران ساس کے علاوہ شوہر کی بہینوں،اور جیٹھ کی بیوی کا دب دبا بھی ضرور اپنا وجود قائم رکھتا ہے کیونکہ ہر ساس کی خواہش ہوتی ہے کہ اسکا جوائی اور بیٹا اسکا مرید بن کے زندگی گزارے ۔جب اس عورت کو کچھ اختیارات ملتے ہیں تو وہ بڑھاپے میں قدم رکھ چکی ہوتی ہے اسکی خواہشیں دم توڑ جاتی ہیں ایک ایک پائی جمع کر کے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیاں کرنا اسکی اولین خواہش بن جاتی ہے ۔والدین کے گھر پرایا دھن کہلانے والی لڑکی کو شوہر کے گھر میں گھر کو اپنا گھر کہنے میں ایک مدت لگ جاتی ہے اور وہ جب اسے اپنا گھر کہتی ہے تو جوان اولاد ،بہو لانے پر وہ حق بھی چھین لیتے ہیں جب بیٹا ماں سے کہتا ہے کہ یہ گھر میرے باپ کا ہے تم اپنے میکے سے نہیں لائی ہو تب وہی عورت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہوتی ہے جہاں موت کے سوا راستہ دکھائی نہیں دیتا ایسی خواتین کی تعداد پاکستان میں بہت زیادہ ہے اور زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو اپنے حق اور حقوق کا علم نہیں ہوتا ہے اسی کے ساتھ اس معاشرے میں ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو والدین،کے گھر ہوں تو انکی پریشانی ،بدنامی،کا سبب بنتی رہتی ہیں شادی ہو جائے یا خود یہ فریضہ سر انجام دے لیں تو سسرال کو تگنی کا ناچ نچا دیتی ہیں اور اگر بہو لے آئیں تو کسی،،تکڑے تھانیدار،،سے کم ثابت نہیں ہوتیں ۔عورت قابل عزت،قابل احترام،ماں ،بہین،بیوی،جیسے اہم اور مقدس رشتوں کی پہچان ہے عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے بعض عورتوں کی ہی دوسری تصویر
تباہی و بربادی ،قتل و غارت،کی نشانی بھی ہے عورت ہی اپنی آبرو کو بچانے کے لیے دنیا کی ہر خواہش ،آسائش ٹھکرا کر ،حیاء،کی چادر میں لپٹی ماں،باپ،بہیں،بھائی ،شوہر اور اولاد کا فخر اور غرور بن جاتی ہے معاشرے کا نا سور بعض عورتیں ہی چند تکوں کی خاطر جگہ جگہ خود کو نیلام کر کے انہیں رشتوں کے لیے موت بن جاتی ہیں ۔گو خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جس طرح پچھلے دنوں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے ایک رہائشی گامو رام نے اپنی بیوی بختو مائی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا گامو رام کو شک تھا کہ اسکی بیوی کے کسی دوسرے شخص سے ناجائز تعلقات ہیں اور قتل کے بعد جیل میں تھا جسکو رہائی دلانے کے سلسلہ میں رحیم یار خاں کی تعصیل لیاقت پور کے گاؤں 84/Aمیں مینگوال ہندو برادری کی ایک پنچایت نے فیصلہ سنایا کہ اپنی بیوی کا قاتل گامو رام جان بخشی کے لیے مقتولہ کے ورثا کو جرمانے کی مد میں تین لاکھ روپے اور اپنی نو سالہ بہن ،سونی مائی کی شادی مقتولہ بختو مائی کے رشتہ دار چودہ سالہ لڑکے ہری چندسے کرے گا تب رہائی ملے گی اور یہ شادی گذشتہ جمعہ المبارک کو ہونا پائی تھی جس کی اطلاح مقامی پولیس کو ملی جنہوں نے شادی رکوا کر پنچایت کے چار افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ بیس افراد کی پنچایت پر مقدمہ درج کر کے معصوم نو سالہ بچی کو ونی کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیا اس طرح کے واقعات ہر باشعور پاکستانی کے لیے نا قابل قبول ہیں قانون کو بلا امتیاز حرکت میں آنا چاہیے مگر برابری کی بنیاد پر کاروائی ہونا ضروری ہے جس طرح چند دن قبل پنجاب اسمبلی نے بل حقوق نسواں منظور کیا مگر پاس ہونے والا بل تحفظات اور الزامات کی چادر میں لپٹا ہوا ہے مذہبی جماعتوں سمیت کئی باشعور پاکستانیوں کو اس بل پر تحفظات ہیں جنہیں دور کرنا بھی حکومتی ذمہ داری ہے کیونکہ اس بل کی روشنی میں جہاں عورت کو اسکا حق دلایا جانا ضروری ہے وہاں مردوں کو ،،چوڑیاں،،پہنا کر بے عزتی کی دلدل میں پھینکنا بھی بے انصافی ہے ۔ونی کا قانون ہونے سے کئی بچیاں اسکی بھینٹ چڑھنے سے بچ جاتی ہیں اسی طرح مرد اور عورت کے درمیان قانون کا توازن بھی رکھنا اس لیے ضروری ہے تا کہ خاندانوں کے خاندان،گھروں کے گھر اجڑنے سے بچ پائیں ۔مثال کے طور پر پہلے سے قانون موجود ہے کہ جہاں کہیں بھی مرد اور عورت غیر اخلاقی حرکات کرتے پکڑے جائیں تو کاروائی ہوتی ہے مگر اس میں عورت کو شریک جرم نہیں سمجھا جاتا کیونکہ ایک ہی مقدمے میں جوڈیشل ہونے والے مرد اور عورت میں سے عورت کی فوری ضمانت منظور ہو جاتی ہے جسے جوڈیشل بھی نہیں کیا جاتا مگر اسی الزام میں پکڑے مرد کو کئی ماہ اور سال جیل کی یاترا میں لگ جاتے ہیں اس لیے مردوں کا واویلہ اور تشویش اس لیے ہے کہ بھٹکی عورتوں کو بڑھاوا مل رہا ہے ذمہ دار خواتین سے کوئی پربلم نہیں آتی بھٹکی عورتیں ایسے قوانین کا سہارا لیکر نسلوں کی تباہی کا موجب بن جاتی ہیں جس طرح ،،لومیرج،،کرنے والے مرضی سے گھروں سے بھاگتے ہیں نکاح کرتے ہیں اگر پکڑے جائیں تو لڑکی کے بیان کو ترجیح دی جاتی ہے اور برابر کی شریک جرم اگر بیان داغ دے کہ اس نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا ہے اور غیر اخلاقی جرم کا ارتکاب کرتا رہا ہے تو لڑکے والوں کے گھر بک جاتے ہیں اگر اسی معاملے کی حقائق کی روشنی میں چھان بین کر لی جائے اور برابر کا شریک جرم ہونے پر سزا دونوں کے لیے تجویز ہو تو بہت سی برائیوں سے بچا بھی جا سکتا ہے اور مردوں کے تحفظات بھی ختم ہو سکتے ہیں اس طرح کے کئی اور مسائل بھی ہیں جو مل بیٹھ کر ،علماء کرام اور باشعور لوگوں کی مشاورت سے ختم کیے جا سکتے ہیں جن میں مرد اور عورت کو برابری کی بنیاد پر حقوق اور سزاؤں کا تعین کیا جانا ضروری ہے تاکہ معاشرے سے عدم تحفظ،تشدد،غیرت کے نام پر قتل اور ونی جیسے واقعات سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے ۔کیونکہ عورت کا مقام ایک ماں کا ہے اور ماں کے
قدموں تلے جنت ہوتی ہے۔اس لیے موثر قانون سازی سے اچھی ماں بن سکتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *