دیکھنے کے زاوئیے

(ضیا الرحمن )
zia ul rehman
اہل علم و اہل عرفان فرماتے ہیں کہ کوئی شے اپنی اصل میں "اچھا" یا "بٌرا" نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمارے  رویے اور دیکھنے و پرکھنے کے زاویے ہوتے ہیں کہ ہم کسی چیز کو اچھائی یا بٌرائی کی ترازو میں تولتے ہیں۔ ۔  اسی طرح زندگی اور معاملات زندگی کے حوالے سے بھی سوچ و فکر اور نظریات مختلف داوپیچ اور ڈھلانوں سے ہوکر اپنی اصل کے جانب بڑھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

فریڈرک لینگ برج (frederick langbridge) انگرزی کا ایک شاعر ہے۔ ۔ ۔  اسکا ایک شعر ہے

Two men look out through the same bars
one sees the mud, and one the stars

یعنی کہ رات کے وقت دو آدمی جنگلہ کے باہر دیکھتے ہیں ۔ ۔ ایک شخص کیچڑ دیکھتا ہے اور دوسرا ستارہ۔ ۔

درخت میں کانٹے کے ساتھ پھول بھی ہوتے ہیں۔ یہی حال انسانی معاشرے کا بھی ہے۔ سماجی حالات بظاہر خواہ کتنے ہی غیر موافق ہوں ہمیشہ اٌسی کے اندر موافق پہلو بہرحال موجود رہتا ہے۔ اب یہ دیکھنے والی انکھ پر منحصر ہیں کہ وہ صرف کانٹوں کی چٌھبن محسوس کرتی ہیں یا پھولوں کی مسرت و شادمانی کا اٌمید اور توقع کررہا ہوتا ہے۔ ایک شخص جو چیزوں کو صرف ظاھری طور پر دیکھنے کی نگاہ رکھتا ہوں وہ سطحی چیزوں کو دیکھے گا اور زیادہ گہرے پہلووں کا مشاہدہ کرنے میں ناکام رہے گا۔ ۔ ۔ مگر جو شخص گہری نظر رکھتا ہوں وہ زیادہ دور تک دیکھے گا  اور ناموافق پہلووں کے ساتھ موافق پہلو کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ۔
اس دٌنیا میں کیچڑ بھی ہے اور یہاں  ستارے بھی ہیں۔ یہ دیکھنے کی بات ہے کہ کون شخص کس چیز کو دیکھتا ہے اور کون شخص کس چیز کو۔ ایک ہی اواز ہے مگر نادان آدمی اس کو سٌن کر سمجھتا ہے کہ دروازہ بند ہو گیا اور دانش مند آدمی سمجھتا ہے کہ دروازہ اسکے لیئے کھول دیا گیا ہے۔
فطرت میں غوروفکر  ایک قیمتی نعمت ہے اور یہ ایک ایسی خودساختہ عادت ہے کہ اسکو کوشش اور عملی تگ و دود سے اپنے اندر پیدا کیا جاسکتا ہے۔
تمام مسائل ہمیشہ زہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اور ذہن کے اندر ہی ان کو ختم کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ آدمی کے اندر صحیح سوچ کا مادہ پیدا ہوجائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عقل کا امتحان ہے جو شخص اپنی عقل کو استعمال کرے گا وہ اپنی لیئے راستہ پالے گا اور جو شخص اپنے عقل کو استعمال نہیں کرے گا اسکا انجام تباہی ہی ہوگا۔۔
سمندر میں موجوں کے تھپیڑے ہیں۔ جو شخص سمندر میں اپنی کشتی چلانا چاہے وہ مجبور ہیں کہ موج اور طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی کشتی مطلوبہ منزل کے طرف لے جائے۔ جنگل میں جھاڑیاں اور درندے ہیں جو جانور جنگل میں رہتے ہیں ان کیلئے اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیوں اور اپنے دشمن جانوروں کے درمیان اپنے لیئے زندگی کا راستہ ڈھونڈ نکالے۔
ایسا ہی معاملہ انسانی سماج کا ہے اس دنیا میں آدمی کو کانٹے کے باوجود پھول تک پہنچنا ہوتا ہے۔ یہاں بیماریوں کے بے شمار جراثیموں کے ہوتے ہوئے خود کو صحت مند اور تند رست بنانا پڑتا ہے۔ اسکے علاوہ آدمی کو مایوسی کے قریب نہیں پھٹکنا۔ ۔  اپنے رب پر یقین محکم اور  مثبت سوچ ہی کامیابی کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ اندھیری رات اخر کار صبح صادق پر ہی تمام ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ مسائل شکوے شکائتوں سے نہیں بلکہ عملی کوشش اور جدوجہد سے ہی حل ہوجاتی ہیں۔ منزل کے راستے میں پڑے ہوئے پتھروں سے اٌلجھنا نہیں ہے بلکہ اپنی لیئے جگہ بنا کر رو بہ منزل ہو جانا ہے۔ ۔ لوگوں کی مخالفانہ باتوں پر مشتعل ہونے کے بجائے  تدبیری حکمت کے زریعہ سے نپٹنے کا کوشش کرنا ہے۔ کم ملنے پر راضی ہونا ہے تاکہ ائندہ کیلئے زیادہ کا حقدار ٹہرے۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *