قیدیوں کی جنت :اڈیالہ جیل

thZYQW7LBV موجودہ اڈیالہ جیل ضیاء الحق کے دور میں1970اور 1980 کے درمیان تعمیر کی گئی۔ یہ پہلے سنٹرل جیل راولپنڈی کہلاتی تھی۔ بعد میں اس کو مسمار کر کے یہاں پر پارک تعمیر کر دیا گیا۔ یہ کام ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد کیا گیا۔ ضیا حکومت کو ڈر تھا کہ کہیں اس جگہ کو بھٹو کا مزار نہ بنا دیا جائے ۔ 1986میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ اس میں 1919 قیدیوں کی جگہ ہے لیکن تین فروری 2010 کو یہاں 4598 قیدی ریکارڈ تعداد میں رکھے گئے۔ اس کا نام اڈیالہ قریبی گاؤں کی وجہ سے ہے جو چار کلومیٹر دور ہے۔وہ مشہورشخصیات جو یہاں قید رہ چکی ہیں ان میں ایان علی ،ذکی الرحمان لکھوی ، ممتاز قادری ، یوسف رضا گیلانی، قادیانی رہنما مرزا طاہر شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ متعدد ہائی پروفائل دہشت گرد بھی یہاں قید رہ چکے ہیں۔
یہاں پر معمولی جرائم سے لے کر دہشت گردی اور قتل کے جرائم میں ملوث مجرم اور ملزم رکھے جاتے ہیں۔ یہ جیل کئی حوالوں سے خاصی بد نام ہے۔ اسے کرپشن کا گڑھ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں ناپسندیدہ قیدیوں پر تشدد سے لے کر خواتین اور مردوں دونوں سے جنسی بدفعلیوں کی داستانیں عام ہیں ۔ یہاں قیدیوں کو ان کی پسندیدہ نشہ آور چیزیں بھی مہیا کی جاتی ہیں ۔ سب سے خوفناک پہلو یہ بھی ہے یہاں پر عادی مجرموں کو نوجوان لڑکے بھی مہیا کیے جاتے ہیں جن کے ساتھ جنسی بد فعلی کی جاتی ہے۔ رشوت دے کر کوئی بھی سہولت لی جا سکتی ہے۔ یہاں کے ڈاکٹر لائف سیونگ ادویات غائب کر دیتے ہیں۔ یہاں پر پولیس اہلکار ، عام سپاہی سے لے کر آفیسر تک بھاری رشوت لے کر اپنی ڈیوٹی یہاں لگواتے ہیں کیونکہ یہ پیسے کمانے کی جگہ ہے ۔ اس وقت بھی تیس سے چالیس پی سی او کام کر رہے ہیں جو کہ قیدیوں کو غیر قانونی اور قانونی طور پر فون کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔ چار سے پانچ غیر قانونی ہوٹل بھی اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ یہ ہوٹل پولیس آفسروں کو ہزاروں کی رشوت دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک ایک بیرک سے دوسری بیرک میں تبادلے کی ’’ فیس ‘‘ دس ہزار روپے تھی۔ یہاں پر امیر زادے قیدی جیل حکام کا رٰیٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ مثلاً مفتی احسان ، مفتی ابراہیم، غلام رسول ایوبی جیسے لوگ جو کہ مضاربہ کیس میں یہاں قید رہے ، انھوں نے بہترین اور آرام دہ کمروں کے لیے منہ مانگے دام رشوت کے طور پر دیے ۔ اسی طرح تاجی کھوکھر مشہور سمگلر اپنے ساتھیوں سمیت یہاں جب تک رہا جیل حکام کے وارے نیارے رہے۔ ایان علی جب تک یہاں رہی اس کو ہر طرح کی سہولت میسر رہیں ۔ ایک وارڈن نے اپنی شناخت نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ایان علی یہاں پر شہزادیوں کی طرح رہی ہے۔اس کو بہترین اور پسندیدہ کھانوں سے لے کر ہر قسم کی رہائشی سہولتیں فائی سٹار ہوٹل کی طرح میسر تھیں۔ اور کوئی ناپسندیدہ شخص وہاں پر نہیں مار سکتا تھا۔ اس بات کو میڈیا نے بہت رپورٹ کیا لیکن جیل حکام کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس جیل کے کرتا دھرتا بہت طاقتور ہیں جو ہر طرح کے قانون نے بالاتر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *