نائجیریا۔ فضائیہ کے سربراہ پر 2 کروڑ ڈالرچوری کا الزام

Nigeria Fazia

نائجیریا کی فضائیہ کے ایک سابق سربراہ پر الزام ہے کہ انھوں نے فضائیہ کے خزانے سے دو کروڑ ڈالر چرائے اور اس رقم سے ایک پرتعیش مینشن خریدا، لیکن فضائیہ کے ریٹائرڈ چیف مارشل ایلکس بادے نے خُرد برد کے دس الزامات، اعتماد کو مجرمانہ حد تک ٹھیس پہنچانے اور کالے دھن کو سفید کرنے کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ چیف مارشل ایلکس بادے کو دو سال قبل ہی نائجیریا کے دفاع کا سربراہ تعینات کیا گیا تھا۔ ذرائع کے نامہ نگار مارٹن پیشینس کا کہنا ہے کہ مسٹر بادے کا نام ان کئی افسران کی فہرست میں ایک اضافہ ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے ملک کی مسلح افواج سے اربوں ڈالر چوری کیے ہیں۔ ایلکس بادے پر الزام ہے کہ انھوں نے فضائیہ سے چرائے ہوئے پیسوں سے دارالحکومت ابوجا میں ایک بڑا گھر خریدنے کے علاوہ کئی دیگر مکانات اور عمارتیں بھی خریدیں۔ مبینہ طور پر دس لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم ان کے ایک گھر سے بھی برآمد ہوئی تھی۔ ذرائع  کا مزید کہنا تھا کہ ایلکس بادے کو اس وقت فضائیہ کا سربراہ تعینات کیا گیا تھا جب نائجیریا کی افواج پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف کارروائیوں میں ناکام ہو رہی ہیں۔ یاد رہے کہ نائجیریا کے سابق صدر گُڈلک جوناتھن کے دور حکومت میں بوکو حرام کے خلاف براہ راست لڑنے والے فوجی دستوں کو شکایت تھی کہ اس شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑائی کے لیے انھیں معیاری اسلحہ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ فوجی دستوں نے اس شکایت کا اظہار بھی کیا تھا کہ فوج میں نظم و ضبط کی کمی ہوتی جا رہی ہے اور سپاہی احکام ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی تفتیش کے بعد حکام نے الزام لگایا ہے کہ دو ارب ڈالر کی جو رقم بوکو حرام کے خلاف لڑنے کے لیے اسلحے کی خریداری کے لیے دی گئی تھی وہ غائب ہو گئی تھی۔ یاد رہے کہ گذشتہ دسمبر میں نائجیریا کے قومی سلامتی کے مشیر سامبو دسوکی کے خلاف بھی مقدمہ قائم کیا گیا تھا کہ مبینہ طور پر جو چھ کروڑ 80 لاکھ ڈالر خرد برد کیے گئے تھے اس میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنے دور میں ہیلی کاپٹر، جنگی جہاز اور گولہ بارود خریدنے کے بڑے بڑے جعلی ٹھیکے بھی منظور کیے تھے۔ سامبو دسوکی نے ان الزامات سے انکار کیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *