انسان جو ہوا!

untitled (14)

ڈاکٹر مطلوب الرسول کا خوبصورت افسانہ
چِڑ چوں۔۔۔۔۔چِڑ چوں۔۔۔۔۔چِڑچوں۔۔۔۔۔
’’میں آج بہت اُداس ہوں‘‘ چِڑے نے منہ لٹکا کر چڑیا سے کہا۔
چوں چوں۔۔۔۔۔چوں چوں۔
’’کیوں؟‘‘ چڑیا نے بے تابی سے پوچھا۔
’’کیا تمہیں اُداسی محسوس نہیں ہوتی؟‘‘
چوں چوں۔۔۔۔۔چوں چوں۔
’’ میں تو سارا دن بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہوں، اور جب تک یہ خود اُڑنے کے قابل نہ ہو جائیں ہر وقت ان کے پاس رہتی ہوں۔ اب تو ہماری حفاظت کرنے والا کوئی دوست بھی نہیں رہا۔‘‘
چِڑ چوں۔۔۔۔۔ چِڑچوں
’’میں بھی تو اِ سی لیے اُداس ہوں۔‘‘
چوں چوں۔۔۔۔۔ چوں چوں
’’اچھا تو یہ وجہ ہے تمہاری اُداسی کی۔‘‘
’’دیکھو تو ہر طرف کیسی ویرانی ہے، نہ جانے انسان کو کیا ہو گیا ہے، عمارتوں پہ عمارتیں بناتا جا رہا ہے اور وہ بھی ایسی کہ ان میں ہمارے رہنے کی جگہ تو کیا ہو گی، ہمارے داخلے کا رستہ بھی نہیں ہوتا۔ ہر طرف سے بند، میرا تو سوچ کے دل گھبراتا ہے۔ لیکن انسان کا تو دم بھی نہیں گھٹتا ایسے مکانوں میں۔‘‘
چوں چوں۔۔۔۔۔ چوں چوں
’’ صرف یہی نہیں بلکہ اب تو پودے اور درخت بھی کم ہوتے جا رہے ہیں او ر جہاں پر درخت ہیں وہاں ہمارا رہنا اب مشکل ہو گیا ہے۔‘‘
چِڑ چوں چِڑچوں۔۔۔۔ چِڑ چوں چِڑچوں۔۔۔۔
’’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو میں سوچ رہا ہوں تم بھی وہی سوچ رہی ہو۔‘‘ چڑے نے خوشی سے کہا۔
’’ دیکھو تو ! کبھی درختوں پر ، باغوں میں ہم اور ہمارے جیسے معصوم اور خوبصورت پرندے چہکتے تھے۔ باغ میں ایک رونق ہوا کرتی تھی، بچے بھی ہماری آوازیں سُن کر خوش ہوتے تھے، پیار کرنے والے ہمیں دیکھ کر گُنگُناتے تھے اور شاعر مزاج لوگ شعر کہتے تھے۔۔۔۔۔ چوں۔۔۔۔۔ چوں چوں۔۔۔۔چوں‘‘
چڑیا ایک دم اُداس ہوگئی۔
چِڑ چوں چِڑ چوں۔۔۔۔۔ چِڑ چوں چِڑ چوں۔۔۔۔۔ چِڑچوں چِڑچوں۔۔۔۔۔۔
’’میری پیاری چڑیا ! کیا ہو گیا ، اُداس کیوں ہو گئیں۔‘‘ چڑے نے بے تابی سے کہا۔
چوں چوں۔۔۔۔۔چوں
’’ ا ب جدھر دیکھو کوّے اور چیلیں۔‘‘ چڑیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
چوں چوں۔۔۔۔
’’ مجھے تو ہر وقت اپنے بچوں کی فکر لگی رہتی ہے۔‘‘
چِڑ چوں۔۔۔۔۔ چِڑچوں۔۔۔۔۔
’’ تمہیں معلوم ہے کچھ عرصے سے یہ کوّے اور چیلیں اتنی کیوں بڑھ گئی ہیں۔‘‘
چوں چوں۔۔۔۔ چوں چوں
’’ تم ہی بتاؤ، میں تو سارا دن گھر میں رہتی ہوں۔ تم اِدھر اُدھر جاتے ہو، تمہیں زیادہ بہتر معلوم ہو گا۔‘‘
’’ جب سے انسان کی انسان سے دُشمنی بڑھی ہے، جب سے انسانو ں نے اندھا دُھند موٹر سائیکلیں چلانا شروع کی ہیں، تب سے چیلیں اور کوّے بھی بڑھ گئے ہیں۔‘‘ چڑے نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
چوں ۔۔۔۔۔ چوں۔۔۔۔۔
’’میں سمجھی نہیں۔‘‘
’’ انسان نے اپنی جان بچانے کے لیے ہماری جانوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔‘‘ چڑے نے کہا۔
چوں۔۔۔۔۔ چوں چوں
’’ کُھل کر بتاؤ، پہیلیاں مت بھُجواؤ۔‘‘
ُُ’’ انسان کا خیال ہے کہ جانوروں کے چھیچھڑے اور پھیپھڑے اگر سر پر وار کر ان چیلوں کو کھِلا دئیے جائیں تو وہ نا گہانی مصیبتوں اور ٹریفک حادثات سے محفوظ رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر باغ کے باہر ، نہر کے کنارے اور دریاؤں کے پُلوں پر سینکڑوں لوگ ان چیزوں سے بھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے شاپنگ بیگ لئے کھڑے ہوتے ہیں، پیدل چلنے والے اور موٹر سائیکلوں پر سوار لوگ ان سے خرید کر اپنے سر پر وار کر ان چیلوں کے آگے ڈال دیتے ہیں۔‘‘
چوں چوں۔۔۔۔۔ چوں۔۔۔۔۔چوں۔۔۔۔۔۔
’’ اور ان کا خیال ہے کہ اس کے بعد وہ جو مرضی کرتے رہیں۔ جیسے چاہیں موٹر سائیکل چلائیں، جتنا چاہیں جھوٹ بولیں، جس کا چاہے حق کھائیں، جتنی چاہے رشوت لیں، جتنی چاہیں غیبت کریں، چغلی کھائیں وہ ناگہانی آفتوں سے محفوظ رہیں گے۔‘‘
چڑیا غصے میں آکر بولی۔
’’ انسان جو ہوا۔‘‘ چِڑچوں۔۔۔۔۔ چِڑچوں۔۔۔۔۔ چِڑچوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *