خواتین کا عالمی دن 8 مارچ کو ہی کیوں منایا جاتا ہے؟

266

عورتوں کا عالمی دن 1909 سے منایا جارہا ہے لیکن یہ عالمی دن دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو منانے کا فیصلہ سنہ انیس سو تیرہ میں کیا گیا۔سنہ انیس سو آٹھ میں پندرہ سو عورتیں مختصر اوقاتِ کار، بہتر اجرت اور ووٹنگ کے حق کے مطالبات منوانے کے لیے نیویارک کی سڑکوں پر مارچ کرنے نکلیں۔ ان کے خلاف نہ صرف گھڑ سوار دستوں نے کارروائی کی بلکہ ان پر بیت برسائے گئے اور ان میں سے بہت سی عورتوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔سنہ انیس سو نو میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظور کی اور پہلی بار اسی سال اٹھائیس فروری کو امریکہ بھر میں عورتوں کا دن منایا گیا اور اس کے بعد سنہ انیس سو تیرہ تک ہر سال فروری کے آخری اتوار کو عورتوں کا دن منایا جاتا رہا۔سنہ انیس سو دس میں کوپن ہیگن میں ملازمت پیشہ خواتین کی دوسری عالمی کانفرنس ہوئی جس میں جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی کلارا زیٹکن نے ہر سال دنیا بھر میں عورتوں کا دن منانے کی تجویز پیش کی جسے کانفرنس میں شریک سترہ ملکوں کی شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا۔سنہ انیس سو گیارہ میں انیس مارچ کو پہلی بار عورتوں کا عالمی دن منایا گیا اور آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سویئٹزر لینڈ میں دس لاکھ سے زائد عورتوں اور مردوں نے اس موقع پر کام، ووٹ، تربیت اور سرکاری عہدوں پر عورتوں کے تقرر کے حق اور ان کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کے لیے نکالے جانے والے جلوسوں میں حصہ لیا۔لیکن اسی سال پچیس مارچ کو نیویارک سٹی میں آگ لگنے کا ایک واقع پیش آیا۔ ’ٹرائی اینگل فائر‘ کے نام سے یاد کی جانے والی اس آتشزدگی میں ایک سو چالیس ملازمت پیشہ عورتیں جل کر ہلاک ہو گئیں۔ جس سے نہ صرف امریکہ میں کام کرنے والی عورتوں کے خراب ترین حالات سامنے آئے بلکہ ان حالات کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کا سارا زور بھی امریکہ کی طرف ہوگیا۔اس کے بعد فروری سنہ انیس تیرہ میں پہلی بار روس میں خواتین نےعورتوں کا عالمی دن منایا تاہم اسی سال اس دن کے لیے آٹھ مارچ کی تاریخ مخصوص کر دی گئی اور تب ہی سے دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *