کیا مرد کو شرم آتی ہے ؟

Seemi Kiran

آج جب وہ دنیا پر پھیلے آسمان پر مغرب میں بہت کثرت سے اور مشرق میں بھی دمکتے ستاروں کی طرح اپنی روشنی پھیلا کر نسوانیت کے بوسیدہ درہن چولے کو اتار کر خود کا انسانی چہرہ بحال کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے، اپنی انتھک جدوجہد سے یہ منوانے پر مجبور ہو رہی ہے کہ اس کی صدا کو اِک عورت کی چیخ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اُس کو انسانی بنیادوں پر سنا سمجھا اور سنجیدگی سے لیا جائے ! وہ کہیں بے نظیر بھٹو، کہیں انجیلا مرکل کہیں ملالہ ہے اور کہیں شرمین عبید چنائے، وہ کبھی نرگس ماول ہے اور کبھی ارن دھتی رائے، وہ سبین محمود بھی ہے اور روتھ خائوجی اُسی کا روپ ہے، اُس کے بے شمار روپ ہیں اور ہر روپ میں آکر اُس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک مکمل انسان ہے۔

وہ بالکل ویسی ہی انسان ہے، کچھ کمیوں کجیوں، خامیوں والی جیسا کہ مرد ہے۔ کچھ خونیوں اور خامیوں کا مجموعہ! مگر یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ ہمارے بوسیدہ اور سڑاند دیتے معاشرے میں جہاں وہ اپنے تمام تر تکلیف دہ اور اذیت بھرے سفر کے باوجود خود کو ہر اعزاز اور عہدے کا اہل ثابت کر چکی ہے، یہ معاشرہ اس معاشرے کا مرد اُسے انسان سمجھنے پر تیار نہیں ہے اور بڑی ڈھٹائی سے مذہب و معاشرتی روایتوں کے نام پر اُس کا استحصال جاری ہے اور اگر اُس کے حقوق کی پاسداری کے لیے کوئی قانون پاس ہو جاتا ہے اور آپ کو انسانیت کے جامے میں واپس لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اِک واویلا مچ اٹحتا ہے ایک انسان اپنے ہی  جیسے دوسرے انسان کو مذہب و معاشرے کی روایات کا سہارا لے کر مارے، کیا یہ شرمناک نہیں ہے؟

اور کیا جب اپنے ان ناجائز ، ناروا اور ظالم قوانین کا دفاع کرتے ہیں تو آپ کو شرم نہیں آتی؟ کیا آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرتا ہے کہ اس تاریخ کے جبر بھرے سفر میں اُس نے بندھے پیروں کے ساتھ آپ کے ساتھ دوڑ کی اِس ریس میں برابر کھڑے ہو کر خود کو تسلیم کروایا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ وہ آپ کے برابر نہیں آپ سے آگے ہے کیونکہ یہ برابری کا معاملہ نہیں تھا ! کیا اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آتی؟آپ کا مردانہ سماج کیا پینٹ بابو ہوں یا باریش ٹخنوں سے اونچی شلوار والے، اپنے ظلم و جبر کے ہتھیاروں کو تیز کرکے میدان میں اتر آئے ہیں۔ تابڑ توڑ حملے کئے جا رہے ہیں، جبر کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے سب بوسیدہ دلیلوں کو نئے لباس و مفہوم پہنائے جا رہے ہیں! ظلم اور جبر کا پدرسری سماج یکجا ہو گیا ہے! اور میں خواب دیکھنے لگتی ہوں کہ عورت بھی اِس ظلم کے خلاف اپنی جاتی کے لیے ایک جھنڈے تلے یکجا ہو جائے!

مگر جانے کیوں مجھے سیمون دی بووا یاد آ جاتی ہے ، وہ کہتی ہیں بدقسمتی سے انسانی تاریخ میں یہ کبھی ہوا ہی نہیں کہ عورت نے مردانہ ظلم کے خلاف بطور ایک صنف خود کو یکجا نہیں کیا! اُس نے کبھی کسی بڑے پیمانے پہ ایسی گروہ بندی نہیں کی جو اِس ظلم کے خلاف اِک دھمکی و خطرہ ثابت ہو! کیا عورت ذات کا یہ تاریخی  سفر بھی ثابت کرنے کو کافی نہیں کہ وفاداری و محبت اُس کی سرشت ہے، وہ آپ کے بد ترین مظالم کے باوجود کبھی بطور مرد ذات کے خلاف عورت ذات کے نہیں آئی، اُس نے خود کو اور آپ کو ایک وجود و اکائی کے طور پر قبول کیا! مگر آخر تابکے! گر جائز جینے کا حق، زندہ رہنے کا حق تشدد و جبر سے بچنے کا حق، انسان کے طور پہ عزت کا حق گر یہ سماج دینے کو تیار نہیں تو اِس کو چھیننا ہوگا!

آپ جسمانی تشدد نہ کر پاتیں تو لفظوں کی جنگ شروع کر دیتے ہیں! لفظوں کی اِس جنگ میں سامنے تند ہتھیار آپ کے پاس ہے، اخلاقیات، شرم حیا، اقدار، سماج اور اِن کو ٹھکرانے والی فاحشہ کہلاتی ہے!میرا دل چاہتا ہے کہ میں مشرف عالم ذوقی صاحب کے "نالہ شب گیر" کا ذکر کروں، بار بار کروں، اتنا کروں کہ اِس سماج میں بہت سے "ناہید" جیسے کردار تخلیق ہو جائیں جو آپ سے آپ کے الفاظ چھین لیں جو آپ کو بتائیں کہ فاحشہ کے پاس جانے والا پارسا نہیں فحش مرد ہوتا ہے! کسی عورت کو فاحشہ بنانے والا بھی مرد ہوتا ہے جو دلال کہلاتا ہے! جو آپ کے غلیظ مردانہ زعم بھرے سب محاورے آپ سے چھین لیں، اِن کو کہنے کی قوت سلب کرلیں! آپ بتائیے آپ کو یہ سننا کیسا لگے گا کہ مردوں کی عقل گھٹنوں میں بلکہ ٹخنوں میں ہوتی ہے! عورتوں کی عقل چٹیا میں ہونے کے مترادف "جتنی بڑی مونچھ، اتنی بڑی پونچھ" محاورہ آپ کو کیسا لگے گا؟ کیا یہ سب سن کر پڑھ کر ماتھا عرق ندامت سے بھیگ جائے گا؟ شرم محسوس ہوگی؟ آپ کے سب دعوے ایک ایک کرکے خود باطل ہوتے چلے جائیں گے! بقول آپ کے وہ صنف نازک اور کم عقل ہے! اِس کا مطلب کہ آپ صنف کرخت ہیں؟ کیا کرختگی خامی نہیں؟ گر عورت کم عقل ہے تو اُسے انسان کی تخلیق، تعمیر و پرورش جیسا اہم منصب کیوں سونپا گیا؟ کیا یہ ساری انسانیت کے لیے منہ پر طمانچا اور کُل انسانیت کی عقل پہ سوال نہیں کھڑا کرتا؟ کیا یہ آپ سے تقاضا نہیں کرتا کہ آپ بوسیدہ لفظوں پہ اپنے خیالوں کی کھڑی اس غلیظ عمارت کو گرا دیں اور نئے عالمی منظر نامے میں عورت کے کردار کے لیے نئے محاورے ، نئی معاشرتی و مذہبی تعبیروں کو جنم دیں؟ کیا اپنے لیے ہر جدت کو اپناتے ہوئے عورت کے لیے وہی صدیوں پرانی سوچ رکھتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی؟ سچ تو یہ ہے کہ ابن آدم نے جو سلوک بنت حوا کے ساتھ کیا وہ آج تک کسی نر نے اپنی مادہ کے ساتھ نہیں کیا! کیا ہوا؟ کیا آپ کو حیرت کا جھٹکا لگا؟ میں نے آپ کو محض اِک نر ثابت کر دیا؟ جبکہ آپ کو تو ہماری خدائی کا دعویٰ ہے؟! آپ کو ہمیشہ ہمارا خدا، ہمارا محافظ، تھانیدار اور ابا کا رول ہی پسند رہا مگر کیوں؟! حفاظت کس سے؟ اپنے ہی جیسے بھیڑیوں سے؟ آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ خدا، محافظ، نگہبان۔۔۔۔۔ اور پھر بھیڑیا ۔۔۔۔۔ اِس سفر میں آپ کے مقدر میں بھی صرف تنہائی ہی آتی ہے، آپ کو ساتھی نہیں نصیب ہو سکا! گر آپ ساتھی کی تمنا کو خالص رکھتے تو بھیڑیے کا وجود ختم ہو جاتا! اور آپ جب ہم اِس معاشرے میں اپنے وجود کی اہمیت دلانے میں کوشاں و سرگرداں ہیں تو حقوق نسواں کے اس بل پہ آپ اتنے سیخ پا کیوں ہیں؟

کیا ظالم، جابر ہمیشہ اندر سے آپ کی طرح خوفزدہ ہی ہوتا ہے؟ بہت سے ان دیکھے اندیشے آپ کو ستانے لگے ہیں! مگر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ جب عورت پر ظالمانہ حد تک تشدد و جبر ہوا تو پھر کیوں آپ کے اندر کا انسان نہ جاگا؟ پھر احتجاج سامنے کیوں نہ آیا؟ آج معاشرے و گھر کی چار دیواری کا خوف آپ کو لاحق ہے مگر کیوں؟ ایسا گھر کیا گھر کہلانے کے لائق ہے جہاں اُس گھر کے سب سے اہم فرد کو جسمانی تشدد و جبر کا نشانہ بنایا جائے ایسی کونسی وجوہات و عوامل ہیں جو آپ کو تشدد پر آمادہ کرتے ہیں؟ اور کیا آپ کو یہ خوف لاحق ہے کہ یہ معاشرتی اختیار اِس قانون کے تحت عورت کے ہاتھوں نہ منتقل ہو جائے؟ قاتل خود قتل ہونے سے ڈرتا ہے؟ عورت کو زہنی اذیت، جسمانی تشدد دینے کی جتنی بھی وجوہات مرد کے پاس ہیں اُس سے کہیں زیادہ عورت کے پاس بھی ہیں مگر اُن کے پیچھے معاشرتی طاقت نہیں! اور جو آج کی عورت آپ سے اپنا یہ بنیادی حق طلب کر رہی ہے کہ جناب بس کیجئے، اپنے ظلم کرنے والے ہاتھ کو روکیے، میں مزید مار کھانے کے لیے تیار نہیں، میرا حق ہے کہ ریاست میرے اِس انسانی حق کی حفاظت کریں اور اگر آپ بنیادی حق کو دینے پہ سیخ پا ہیں تو یقیناً آپ کو شرم آنی چاہئیے!

کیا مرد کو شرم آتی ہے ؟” پر بصرے

  • مارچ 8, 2016 at 4:12 PM
    Permalink

    اچھا ہے مگر مرد کے روپ عورت کے روپ کی طرح ہی مختلف ہیں۔۔۔جسطرح ہر عورت ایک جیسی نہیں اسی طرح ہر مرد بھی ایک جیسا نہیں۔۔۔باتیں تو مناسب ہیں عورت کی حق تلفی کون کرتا ہے کیا سارے کے سارے معاشرے میں یہ عمل ہے ایسا بھی ہرگز نہیں۔۔۔کیا سارے مرد بھیڑیے ہیں ایسا بھی نہیں۔۔۔کیا ساری عورتیں پارسا ہیں ایسا بھی نہین۔۔۔

    Reply
  • مارچ 8, 2016 at 5:50 PM
    Permalink

    Ab-tou-sab-heeran-hain-ye-Jannanay-k-liye-k-kaya-aurton-ko-b-sharam-aati-hai.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *