اسامہ کی اصل تصویر کہاں ہے ؟

untitled (16) اسامہ بن لادن کی موت کے بعداس کی اصل تصویر شائع نہ کرنے کی وجہ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ لیکن اب اس کی اصل وجہ سامنے آئی ہے۔ جب سے اسامہ کی ایبٹ آباد والی جگہ سے ملنے والی چیزیں ڈی کلاسیفائیڈ ہو رہی ہیں ، کئی راز کھل رہے ہیں ۔ پچھلے منگل کو ایک سوتیرہ فائلوں تک میڈیا کی رسائی ہوئی ہے۔ اس موقع پراس آپریشن میں شامل افراد بھی زیر بحث آئے ہیں ۔ چنانچہ اس موضوع پر لکھی گئی کتاب ’’ناٹ ایزی ڈے ‘‘میں میٹ بیسنیوٹ نے لکھا تھا کہ اسامہ جب سامنے آیا تو میں کئی گولیاں اس کے سینے میں اتار دیں اور وہ ساکت ہو گیا۔ لیکن اب اس کی وہ تفصیل سامنے آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اسامہ کی موت کے بعد اس کی اصل تصویر کو کیوں چھپایا۔میڈیا کو معلوم ہوا ہے کہ اسامہ کے سینے میں ایک سو سے زیادہ گولیاں برسائی گئیں ۔ اس سے اس کی لاش بری طرح مسخ ہو گئی۔ اگر اس کی تفصیل اور تصویر سامنے لائی جاتی تو دنیا میں وہی ردعمل سامنے آتا جو صدام کی تصویر پر آیا تھا۔ یاد رہے جب صدام کی پھانسی کی وڈیو اور تصویر سامنے آئی تھی تو اس کے بڑے بڑے مخالفین نے بھی اس کے ساتھ ہمدردی ظاہر کر دی تھی۔ لیکن اسامہ کے معاملے میں ایک اور قباحت امریکی حکومت کے لیے یہ پیدا ہوتی کہ انسانی حقوق کا مسئلہ اور جنگی اخلاقیات کی بحث پیدا ہو جاتی۔ سوال اٹھتا کہ ایک بوڑھے شخص کو اس قدر بے رحمی سے کیوں مارا گیا؟ کیونکہ محدود قسم کی جنگ میں یہ ایک عالمی قانون ہے کہ آپ دشمن کو ایک سے زیادہ گولیاں مار سکتے ہیں لیکن اس کا مقصد صرف اسے ساکت کرنا ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے اسامہ کو جو گولیوں سے چھلنی کیا گیا ہے اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ہمارے خیال میں یہ وجہ بھی قابل توجہ ہے لیکن کیا صرف یہی ایک وجہ تھی؟ یہ بات مشکل سے کہی جا سکتی ہے کیونکہ کامریڈ چے گوارا (Che Guevara)سے ساتھ بھی امریکہ بہادر نے یہی کیا تھا۔ اس کی لاش کو بھی سامنے نہیں لایا گیا تھا اور میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ اسے سمندر میں دال دیا گیا ہے۔ یاد رہے چے گوارا 1968 ء میں امریکیوں ہاتھوں اس وقت مارا گیا تھا جب وہ بولیوا یا میں اشتراکی انقلاب کے لیے لڑ رہا تھا۔اوپر تصویر میں اسامہ کی لاش کی وہ تصویریں ہیں، جو امریکی حکومت کی طرف سے جاری کی گئیں لیکن جنھیں میڈیا نے بالاتفاق بائیں طرف والی تصویر کی ایڈیٹنگ قرار دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *