آدھی گواہی کا پورا دن

Asif

اس کائناتِ ہست و بود میں جو کہ مادے کی پیداوار ہے, اربوں کھربوں سالوں سے اپنے اندر سے ایک نئی سے نئی دنیا پیدا کرتی چلی آرہی ہے. انسان کی سہولت کی خاطر اس کائنات نے ایک زمین پیدا کی, اس کی گردشِ لیل و نہار کا ایک مربوط نظم تخلیق ہوا, حضرتِ انسان کی زندگی کو احسن اور منظم طریقے سے گزارنے, اس کی رہائش, خوراک بڑھوتری کے تمام تقاضوں کو درجہ اول پر رکھ کر اس کےلیے یہ بزمِ دنیا سجائی, غرض زندگی کے جملہ لوازمات بدرجہ اتم مہیا کردئے گئے. اس کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر اس کے نفس میں بھی اخلاقی حوالے سے وہ سارا مواد رکھ دیا جس کے تحت اس نے آنے والی زندگی بسر کرنی تھی. معاشرت, معیشت, آزادی, اظہار خیال کی قوت و قدرت, انفرادی اور اجتماعی زندگی کے جملہ لوازمات تک مہیا کردیے گئے. یہ وہ چند عناصر تھے جن کے وجود سے اس کائنات کاحُسن ترتیب دیاگیا, خالق کائنات نے اپنی صفات کے ظہور کے ان گنت مظاہر پیدا کیے. یہ سب کچھ اپنے اندر ایک حُسن رکھتا تھا یہ تمام چیزیں حُسن و جمال کا مرقع تھیں مگر حضرت انسان کے لیے ان سب اشیاء کی حیثیت ثانوی تھی. تب تک کہ جب تک ایک ایسی تخلیق نہ ہوجس کا تعلق براہ راست آدم سے نہ ہوتا جب اسے بنایا گیا تو اسکی عظمت و رفعت کے ترانے پڑھے گئے ایک نعمتِ عظمی سے تعبیر کیاگیا, انسان کے سکون راحت اور صمیم قلب کا اعلی درجہ اسی کو دیاگیا. انسان نے اپنی فطرت کا ظہور اسی نعمت سے آگے بڑھایا, ہمیشہ اسے صف اول پر رکھا. ہر گزرتے زمانے کے ساتھ جس کی اہمیت و حرمت کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا تھا, کو بتدریج بجائے اپنا رفیق و ہم سفر سمجھنے کے ایک غلام سمجھا جانے لگا, اس مقدس و معظم ہستی سے محض جنسی تسکین تو حاصل کی گئی مگر فطرت نے اس کو جو کمالات عطا کیے تھے جو صبر اور اطاعت کے جوہر عطا کیے تھے ان کا استعمال اسی کےاوپر منفی انداز میں کیا جانے لگا. معاشرے نے کبھی دین کے زیراثر تو کبھی اپنی فی زمانہ اقدار کے نشے میں اس کا جسمانی استحصال کیا اور اس کوتقدیر کےتابع ہونے کی جھوٹی تاویل دے کر خاموش کروادیا گیا.
وقت گزرا, زمانے آتے گئے عروج و زوال کی کہانیوں نے صفحہ تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑے , انسان نے اپنی عظمتوں کے مینار قائم کیے مگر اپنی اس رفیق کو وہ مقام نہ دیا جس کی یہ حق دار تھی . اور پھر عرب سے ایک آواز آتی ہے, ایک ندا اٹھتی ہے, ایک اعلان ہوتا ہے کہ تاریک دور گزر چکا, اندھیرے چھٹ چکے, صبح صادق کا ظہور ہوا چاہتا ہے. انسان کو اپنی عظمت کا ادراک ہوکررہے گا, اور اس کے ساتھ ساتھ اس مقدس ساتھی کابھی جو اس کائنات کا حقیقی حسن ہے, اس آواز نے ایک تحریک پیدا کی اوردنیا نے دیکھا کہ اس نرم و نازک مخلوق نے اپنی ہمت سے آنے والوں کے لیے درخشاں مثالیں قائم کر دیں. اور اس نازک ہستی نے سمجھ لیا کہ اب اس کو پہچان لیا گیا ہے. فطرت نے اس کی عظمت کا شعور اس کے ہم سفر کو , انسان کو بالاخر عطا کردیا.اب یہ ممکن نہیں کہ اسے پہچانا نہ جائے اسے مانا نہ جائے. دین نے اور اسلام نے جو احکامات اُس کے حاکم کو تفویض کیے, اب ان کے مطابق ہی معاشرہ اس کی حیثیت قبول کرےگا. مگر یہ سب خام خیالی تھی. یہ دن کے خواب تھے. جس انسان کے متعلق یہ خیال کر لیا گیا تھا کہ بتدریج اپنی عقل کے سفر میں اب یہ اپنی معراج کو پہنچ چکا اسی نے اس کی اہمیت و حرمت کی درجہ بندی کرنے کی کوشش کی. کبھی آدھی گواہی کی غلط تعبیریں اسے دوسروں کی نظروں میں آدھا کر گئیں تو کبھی عقلِ ناقص کے نام پر عقل کے معماروں نے اپنی عقل سے اس ناقص عقل کی عقل و دانش کا ادراک کرنے سے انکار کیا. ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آج کے ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ نے اس بات پر اکٹھ کرلیا کہ اسے "انسان" بھی سمجھا جائے کہ نہیں؟ اس کو حق رائے دہی بھی دیا جائے کہ نہیں. اس کی رائے کیا اتنی اہمیت کی حامل ہے کہ سننے کا تردد کیا جاسکے؟ یہ سب ادوار اس پر گزرتے رہے یہ اپنی آواز سے اپنی سی ہمت سے اپنے ہونے کے احساس دلاتی رہی کہ میں بھی ایک وجود ہوں. ایک احساس سے بھر پور زندہ و جاوید پیکر ہوں.مجھے تسلیم کیا جائے,میرا ہونا مانا جائے. اور پھر اس کو مان لیا گیا. اس کو تسلیم کر کیا گیا. مرد کے مقابل ایک ہستی کو اہمیت دی گئی, اب وہ زمانے کے ساتھ چل سکتی ہے. اب اس کے حقوق تسلیم کر لیے گئے ہیں بس میں اب اسے اپنی جگہ سے اٹھ کر کوئی جگہ نہ دے گا کہ اب وہ برابر ہے. برہنہ وجود لے کر وہ جہاں چاہے جائے کوئی روک نہیں کہ آخر وہ برابری کا تمغہ لے چکی, قطاروں میں اب الگ سے کسی نئی قطار کی ضرورت نہ رہی کہ اب یہ ویسا ہی وجود ہے جیسا وہ چاہتی تھی. سزاوں جزاوں میں برابری کی دعویدار اب اسی سلوک کی مستحق ٹھہری کہ جس کی وہ صدیوں سے طلبگار تھی. اور پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ اسی برابری کی مثبت سوچ مگر منفی ادارک نے اس کو کہاں سے اٹھایا اور کہاں لا پھینکا. مشینی دور نے, ذرائع ابلاغ کو ایک ایسی چیز میسر آئی کہ جیسے قارون کے خزانے کم نہ ہو. اس ہستی کو آزادی اور خود مختاری دلانے کے نام پر اسی کی عزت و حرمت کو جس طرح پامال کیا گیا خود اسے بھی ادراک نہ ہوسکا.کاپوریٹ ورلڈ ہو, بزنس ورلڈ ہو کہ اکنامک زونز, ہر چیز کے بکنے بکانے میں اسی کو استعمال کیا گیا. عزت شہرت کے نام پر کی گئی اس زہن سازی نے اسی کو بھرے بازار میں بے لباس کروا دیا. وہ چیز نہ بِک سکی جس کےساتھ یہ کھڑی نہ ہوئی, اس "سونے" پر کسی نے نگاہِ غلط ڈالنا گوارہ نہ کیا جو اس کے گلے کا ہار نہ بن سکا. اورایک دن وہ بھی ہم نےدیکھاکہ چائے کی پتی پر یہ قدرت کی عظیم تخلیق ناچتی دکھائی دیتی ہے. ایک آلو کی چپس کے ٹکڑے پر یہ اپنی توقیر کے ٹکڑے کروالیتی ہے.
ایک انتہا زمانہ قدیم میں تھی کہ جب اسے کوئی شعور نہ تھا کوئی ادراک نہ تھا میں کیا ہوں کیا ہوسکتی ہوں کیا بن سکتی ہوں.....اور ایک یہ دن ہے کہ جب شعور اورسمجھ اپنے کمال کو پہنچ رہے , اخلاقی اقدار آسمان کو چھو رہے ہیں. اس نے اپنی محنت سے قابلیت سے اپنے لیے سال کا ایک دن بھی  خصوص کروا لیا،مگر ......سفر ابھی باقی ہے. اہلِ دانش و مذہب ابھی تک اس کے مقام کا تعین نہیں کر پائے, اور اسے خود اپنے مقام کے تعین کے لیے کتنا دور جانا ہے , یہ ابھی قبل از وقت کا قصہ ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *