سوات میں انتہا پسندی کے چند محرکات

waqas.bonairi

دوہزار سات میں جب ضلع سوات انتہا پسندی، تشدد اور بد امنی کے لپیٹ میں آگیا، جس کے اثرات ملحقہ اضلاع اور پورے ملک میں پھیل گئے، جنوبی ایشیاء کا سویٹزر لینڈ کہلانے والے اس خوبصورت ترین سر سبز و شاداب علاقے جہاں پر بڑے سوچ و فکر رکھنے والے تعلیم یافتہ اور جدت پسند لوگوں کا بسیرا تھا،اور سیاسی میدان میں بھی یہاں کے سیاسی رہنماؤں کا صوبائی و ملکی سیاست میں اپنا ایک کردار تھا، سب انتہا پسندی کے اس لہر کی لپیٹ میں آ کر اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے ۔ انتہا پسندی کی وجہ سے ملکی سیاست، معیشت اور سماجی ساخت میں بونچال آنے سے دراڑے بن گئیں۔ سب کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ سوات جیسے علاقے جہاں پر تعلیمی شرح خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع سے زیادہ ہے، جہاں سالہا سال ملکی وغیرملکی لاکھوں سیاح اس جنت نظیر وادی کا رح کرتے تھے، جہاں معاشی طور پر بھی لوگ خاصی اچھے ہیں، کیسے اس علاقے میں انتہا پسندی پھوٹ پڑتی ہے اور کیسے یہاں اجتماعی طور پر لوگ بغاوت کر سکتے ہیں؟ ان سوالات اور اس جیسے دیگر سوالات کے جوابات اور اس انتہا پسندی کے چند محرکات ہیں، جس کی وجہ سے سوات میں انتہا پندی پھوٹ پڑی ، اور جس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ در بدر ٹھوکرے کھانے پر مجبور ہوگئے،جس نے ان جنت نظیر وادی کے سفید آبشاروں کو خون میں رنگ دیا۔ سر سبز و شاداب علاقے میں درختوں کے پتے سوکھ کر نیچے گر گئے جس سے بہار خزان میں تبدیل ہو گیا سوات میں انتہا پسندی اور یہاں کے سماجی روئیوں کو سمجھنے کے لئے تاریخی واقعات اور لوگوں کی نفسیات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے ، ان محرکات میں پہلا ’’طبقاتی جبر ‘‘ ہے۔ طبقاتی جبر محمود غزنوی کے دور سے شروع ہوتا ہے جس میں وہ مقامی گجروں کو طاقت کے ذریعے مسلمان بناتے تھے اور ان کی جائیداد پر قبضہ کر کے اپنی فوج میں تقسیم کرتے تھے، جس کی وجہ سے آقا اور غلام پر مشتمل دو طبقے وجود میں آتے، ان دو طبقات کی وجود میں آنے سے لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہو جاتی، پھر اس کے بعد پشتون قبیلہ یوسفزئی کی آمد ہوتی ہے، اور پھر سے وہی عمل دہرایاجاتا ہے قدیم سواتیوں کی جائیداد پر قبضہ کیا جاتا ہے اور وہ جائیداد اپنے لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ساتھ ہی اپنے قبیلے کے باقی لوگوں کو بھی سوات میں بلاکر کالونیوں کی شکل میں آباد کر کے جائیداد کا مالک بنا دیا جاتا ہے، اس طرح ریاستی دور میں بھی یہ طبقاتی نظام جاری رکھا جاتا ہے ،جس میں خان کو خان اور غریب کو غریب رکھا جاتا ہے، ریاستی طور پر انگریزوں کے دور اور بعد میں میاں گل صاحب کے والئی سوات بننے کے بعد بھی خان ازم کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ ریاست پاکستان میں ضم ہو جانے کے بعد بھی اسی طرح کے طبقاتی جبر کا سلسلہ آگے بڑھا، جس میں سماجی نا انصافی، جھوٹ پر مبنی سیاست، ناقص نظام تعلیم اور جرنیلوں کی سیاست نے بھی لوگوں میں بے چینی و بے قراری پیدا کی۔ سوات کے لوگوں کی انتہا پسندی کی طرف مائل ہو جانے کی ایک اور وجہ یہاں کے لوگوں کی نفسیات بھی ہیں ، سوات کے لوگوں میں جذباتیت، توھم پرستی ،حرص اور تکبر موجود ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا رویہ اور سماجی ساخت انتہا پسندی کی جانب بہت جلد گامزن ہو جاتا ہے۔ دوسرے علاقوں میں رہنے والے پشتونوں کی طرح سوات کے لوگوں نے بھی یا تو اپنی بقاء کی خاطر یا دوسروں کی بقاء و خوشنودی کیلئے جنگیں لڑی ہیں، جس کی وجہ سے سوات کے لوگ جنگجو مزاج بن گئے ہیں، جس کا اندازہ پشتو شاعری اور خاص کر ٹپہ (مصرعہ) میں بھی ہو جاتا ہے، مثلاً
ستا د لنڈی ٹوپکہ زارشم
پہ اوگہ ستا وی کگہ زہ دہ خیالہ زمہ
اس ٹپہ میں سواتی خاتون اپنے گلے کی طلائی ہار کی نسبت اپنے شوہر کے کندھے پر لٹکی ہوئی بندوق زیادہ قابل ناز تصور کرتی ہے۔
سوات کے لوگ انفرادی طور پر نرم مزاج ہیں لیکن جب بھی یہاں کے لوگ بغاوت کرتے ہیں تو اچانک اجتماعی طور پر سر کشی پر اُتر آتے ہیں، جس طرح مغلوں ،انگریزوں اور دوہزار سات میں ریاست پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوات کے لوگ طاقت کے سامنے بہت جلد جھک جاتے ہیں اور ظالم کے سامنے منہ کھولنے کی سکت کھو بیٹھتے ہیں، جس طرح باکو خان کے دور اقتدار اور بعد میں انگریزوں اور خوانین نے اپنے دور میں ظلم و بربریت روا رکھا اور لوگ اس پر خاموش رہے۔ تکبر کے لحاظ سے سوات کے لوگوں میں بھی سماجی تفریق موجو د ہے ، جیسے یہاں گجروں اور کسب گروں کو شودر سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرہ دوسرے لوگوں سے کٹ (isolated)ہوجاتا ہے۔ یہ سارے محرکات اور ان جیسے انتہا پسندی کے چند اور محرکات پر سوات کے رہنے والے محقق اور کئی کتابوں کے مصنف بد الحکیم حکیم زئے صاحب نے اپنے نئے شائع ہونے والے کتاب ’’سوات میں انتہا پسندی کے چند محرکات ‘‘ میں پوری ذمہ داری اور جرأت مندانہ تجزیہ کے ساتھ سوات میں انتہا پسندی کی حقیقت سے پردہ اُٹھایا ہے، جو ہمیں سوات کے گزرے ہوئے کل اور مستقبل کے بارے میں بھر پور آگاہی دیتی ہے، اور موجوہ امن جو طاقت کے بل بوتے پر قائم کیا گیا ہے، سے بھی پردہ چاک کرتی ہے۔ اپنے آپ کو سوات میں انتہا پسندی کے ان محرکات اور عوامل، جس نے سوات کو تاریکی میں دھکیل دیا تھا اور جس کے سائے تلے اس جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی، کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ کرنا لازمی ہے، جو یونیورسٹی بک ایجنسی پشاور اور پشتو اکیڈمی بک شاپ پشاور یونیورسٹی میں قارئین کے انتظار میں پڑی ہے۔ یہ کتاب سیاسیات،سماجیات،اور نفسیات کے ماہرین کے لئے بہت اہم ہے ،کیونکہ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کے مستقبل کو سنوارنے اور بہتر پالیسیاں بنانے کے لئے یہ کتاب ایک مشعل راہ ہے، جو ریسرچ کے جدید تقاضوں کو مد نظر رکھ کر لکھا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *