خاتون کی خفیہ عریاں ویڈیو بنانے پر 5.5کروڑ ڈالرجرمانہ

Erine Andrews

امریکہ میں جیوری نے سپورٹس براڈ کاسٹر ایرین اینڈریوز کی ہوٹل کے کمرے میں خفیہ طور پر برہنہ حالت میں ویڈیو بنائے جانے پر ساڑھے پانچ کروڑ ڈالر بطور ے ہرجانہ ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے۔ ایک دن کی مشاورت کے بعد جیوری نےفیصلہ سنایا کہ ویڈیو بنانے والے شخص کو جرمانے کا 51 فیصد ادا کرنا ہوگا جبکہ دو ہوٹل کمپنیوں کو بھی تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ فوکس سپورٹس کی رپورٹر 37 سالہ ایرن اینڈریوز کی یہ ویڈیو 2008 میں مائیکل دیوڈ بیریٹ نے ان کے ہوٹل کے کمرے کے دروازے میں موجود سوراخ کے ذریعے بنائی تھی، جسے بعد میں آن لائن جاری کریا گیا۔ ویڈیو بنائے جانے کے وقت ایرین نیشول ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ اپنے حق میں فیصلہ سنائے جانے کے بعد ایرین اپنے وکیلوں اور خاندان کے افراد سے گلے ملتے ہوئے فرط جذبات سے رو پڑیں۔ بعد ازاں ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جانے والے ایک بیان میں انھوں نے عدالت، جیوری، اپنی قانونی ٹیم اور اپنے خاندان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے یہ عزت دنیا بھر میں ذیادتی کا شکار ہونے والوں کی حمایت سےملی ہے۔ ’ان کے آگے آنے سے مجھے استقامت ملی اور میں اس قابل ہوئی کہ ان لوگوں کا احتساب کروں جن کا کام دوسروں کے بھروسے اور نجی زندگی کو تحفظ دینا ہے۔‘ ایرین نے بیریٹ اور نیشول ہوٹل کے ساتھ کام کرنے والی دو کمپنیوں پر ساڑھے سات کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ شکاگو کی ایک انشورنس کمپنی میں ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز مائیکل بیریٹ نے اس بات اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ایرین کی ویڈیو پیسے کمانے کے لیے بنائی تھی۔ مشہور شخصیات کی نجی زندگی کی خبریں دینے والی ویب سائٹ ٹی ایم زی کے اس ویڈیو کو خریدنے سے انکار کے بعد بیریٹ نے اسے آن لائن پوسٹ کردیا۔ بیریٹ کو ایرین کا پیچھا کرنے، ہوٹل کے کمرے کے سوراخوں میں ردوبدل کرنے اور ویڈیو بنانے کے جرم ڈھائی سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ بیریٹ کی سزا تجویز کرنے کے بعد عدالت نے باقی جرمانے کو ہوٹل کی مالک کمپنی ویسٹ اینڈ ہوٹل پارٹنرز اور سابق آپریٹر کمپنی ونڈسر کیپیٹل گروپ کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا۔

مقدمے کے اختتامی دلائل کے دوران ایرین کے وکلا نے بیریٹ پر الزام لگایا کہ وہ جرم کا تمام الزام اپنے اوپر لینا چاہتے تھے تاکہ ایرین کو اس مقدمے میں کوئی رقم نہ مل سکے۔ مائیکل بیریٹ نے عدالت میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایرین کی ویڈیو اس لیے بنائی تھی کیونکہ وہ ایک مشہور شخصیت تھیں۔ ایرین اینڈریو نے کہا کہ اپنی خفیہ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ خوفزدہ، پریشان اور افسردہ رہنے لگی تھیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد وہ اتنی محتاط ہوگئی تھیں کہ کسی ہوٹل میں ٹھہرتے وقت وہ کمرے کے ایئرکنڈیشنر تک میں بھی چھپے کیمرے تلاش کرتی تھیں، کیونکہ انہیں خوف رہتا تھا کہ کہیں ان کی ویڈیو تو نہیں بنائی جارہی۔ انھوں نے عدالت میں اپنے ایک بیان کے دوران کہا کہ ’اس ویڈیو کی وجہ سے مجھے شرمندگی، بے عزتی اور تذلیل محسوس ہوتی تھی۔‘ ایرین نے کہا کہ سب سے مشکل وقت وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ انھوں نے توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ ویڈیو خود ہی جاری کی ہے۔انھوں روتے ہوئے کہا کہ ’ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ میں نے یہ سب کچھ شہرت اور توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا ہے۔ اس بات نے مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *