مسلمان لڑکی پردہشت گردی کےالزام میں فرد جرم عائد

Denmark

کوپن ہیگن -ڈنمارک میں 16 سالہ لڑکی پر یہودی اسکول سمیت دو دیگر اسکولوں کو دہشت گردی کے حملے میں مبینہ طور پر اڑانے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈینش پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ لڑکی اور اس کے 24 سالہ دوست پر بم بنانے کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے، جس کے بارے میں مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ وہ سابق شامی جنگجو ہے۔ ڈینش براڈ کاسٹ ٹی وی ٹو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ لڑکی نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا اور اسے 13 جنوری کو گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے دوست کو اگلے دن گرفتار کیا گیا، جس پر لڑکی کو بم بنانے کیلئے استعمال ہونے والا سامان فراہم کرنے کا الزام تھا۔ ڈینش انٹیلیجنس سروسز کا کہنا تھا کہ مذکورہ گرفتاری سے ملک کو سلامتی کے خطرے کے حوالے سے فروری 2015 میں کی جانے والی 'سنگین' تشویش میں کمی نہیں آئی ہے جب ایک شخص نے دو افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ڈینش پروسیکیوٹر کرسٹن کرک نے بتایا کہ ملزمان نے کیمیکل حاصل کیے اور دونوں اسکولز میں دہشت گردی حملے کی منصوبہ بندی کیلئے دھماکہ ہخیز مواد بنانے کی کوشش بھی کی تھی۔ دونوں ملزمان، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، نے خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *