بھارتی فلم انڈسٹری میں یہودیوں کا کردار

zyalsrkyio-1454317325 آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی بھارتی فلم اندسٹری کو بہترین آغاز بخشنے والے کون لوگ تھے؟ انڈیا میں انگریزی دور میں جب فلموں کا آغاز ہو یہ خاموش فلموں کا دور تھا۔ اس وقت فلموں میں کام کرنے کے لیے ، وہ بھی خاموش فلموں میں ، خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ معاشرہ عورتوں کو اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس موقع پر وہ کون خواتین تھیں ، جنھوں نے اس معاشرتی ’’ ٹیبو ‘‘ کو توڑا ؟شاید آپ اس کا تصور بھی نہ کریں ،لیکن ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ یہودی کمیونٹی تھی۔ اب آپ کہیں گے کہ بھارت میں یہودی کہاں سے آئے ؟تو سن لیں کہ یہ یہودی خاندان بغداد سے آیا تھا اور بھارت میں ان کو مسلمان یا پارسی سمجھا جاتا تھا لیکن یہ اصلاً یہودی تھے۔ ان کی ایک بڑی تعداد ممبئی میں بستی تھی۔ آئیے اب آپ کو ہم ان معروف ناموں سے متعارف کراتے ہیں ۔’’سلوچنا ‘‘کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا۔اپنے دور کی یہ سپر سٹار یہودی عورت تھی اور اس کا اصل نام روبی میور تھا۔اسی طرح ’پرمیلا‘ ایک اداکارہ، پروڈیوسر ، اور رائٹر تھی ، یہ بھی یہودن تھی اور اس کا اصل نام ویکٹوریہ ابراہیم تھا۔ اس کی بہن رومیلا کا نام تو یقیناً کسی بھی فلمی شوقین کے لیے نیا نہیں ہو گا۔ جان لیجیے کہ اس نام صوفیہ ابراہیم تھا۔ ا س کے علاوہ پرمیلا وہ پہلی انڈین خاتون ہے جس نے مس انڈیا کا ٹائٹل جیتا تھا۔ اس کے علاوہ آرتی دیوی ،آشا بھندے، نادرہ، سب یہودی تھیں جنھوں نے ماحول کے لحاظ سے اپنے فلمی نام رکھ لیے تھے۔ یہ خواتین اگرچہ ہندی یا اردو روانی سے نہیں بول سکتی تھیں لیکن خاموش فلموں کی وجہ سے زبان کہ یہ رکاوٹ ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس دور کی مشہور فلمیں یہ ہیں :بڑے نواب صاحب ، پیا پیارے، اگرو وغیرہ۔ مردوں میں جوزف ڈیوڈ پنکر بھی یہودی تھا ، وہ مصنف ، شاعر ، ڈائریکٹر اور سکرین پلے رائٹر تھا۔ بیک وقت گجراتی، ہندی ، میراٹھی اور اردو میں لکھنا جانتا تھا۔ اسی طرحR.J.Minney بھی مشہور فلمی شخصیت یہودی تھا۔ یہاں ایک مشہور غلط فہمی ہم شائقین کی دور کر دیں کہ عام طور پر ہیلن اور زینت امان کو یہودی کہا جاتا ہے ، لیکن یہ درست نہیں ہے۔
اس لیے کہا جاتا ہے بھارت کی فلم انڈسٹری پر یہودیوں کے بہت احسانات ہیں ۔ اسی لیے بھارت نے ان میں سے کئی اداکاراؤں کے یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ہیں۔ لیکن اگر آپ کاتعلق کسی مذہبی تنظیم سے ہے تو آپ اطمینان رکھیں، یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہندستان میں فلمی ترقی بھی ’’ یہودی سازش ‘‘ تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *