سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

nasir malik
صاحب ! اُستاد ذوقؔ نے اپنے ایک شعر میں ہماری دلی کیفیّت کی کیا خوبصورت ترجمانی فرمائی ہے۔۔کہتے ہیں :
کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بد قمار
جو چال ہم چلے وہ نہایت بُری چلے
یہ گویاہمارے لئے ہی کہا گیا ہے۔یوں تو ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ زندگی میں ہم نے کوئی فیصلہ کیا ہو اور بعد میں اُس پر پچھتائے نہ ہوں!! لیکن بے شمار فیصلے ایسے بھی سر زد ہوئے جنہوں نے ہماری شخصیّت ( اگر کوئی تھی ) کو بے انتہا متاثر کیا۔چند دن پہلے ایم۔فِل اُردو میں داخلے کے لئے "GAT" یعنی General Assessment Test میں Appear ہونا بھی ہمارے ایسے ہی فیصلوں میں سے تھا۔ ہم نے ایک معروف یونیورسٹی کا اشتہار دیکھا کہ وہاں ایم۔فِل اُردو کے لئے داخلے ہو رہے ہیں۔ اگلے دن ہم یونیورسٹی پہنچ گئے۔استقبالئے پر بیٹھے صاحب نے ایک فارم دیتے ہوئے بتایا کہ فیس جمع کروا دیں اور فُلاں تاریخ کو ٹیسٹ یعنی GAT کے لئے آ جائیے گا۔ہم نے عرض کیا ،’’ حضرت یہ GAT کیا بلا ہے؟‘‘۔وہ صاحب صبح سے نجانے کتنے لوگوں کو GAT کے متعلق بتا چُکے تھے، لہذا جھنجھلاتے ہوئے بولے،’’ کمال ہے جی! آ پ لوگ ایم۔فِل کرنے چلے ہیں اور آپ کو GAT کا بھی پتہ نہیں۔‘‘ ہمیں فوراً احساس ہوا کہ ہمیں اس کا خود ہی پتہ ہونا چاہیے تھا ، لہذا اس کے بعد ہم نے کسی سے نہیں پوچھا۔ہمارے ذہن میں آیا کہ ٹیسٹ اُردو زبان و ادب اور جنرل نالج کے متعلق ہو گا۔چنانچہ ہم نے تیاری کے طور پر ولیؔ دکنی اور جعفر ز ٹلّی سے ٹو ڈیٹ، تمام اُردو ادب کھنگال مارا۔اس کے علاوہ جنرل نالج کو بھی اپ ڈیٹ کیا اور مقررّہ تاریخ پر امتحانی سینٹر پہنچ گئے۔
ہال میں داخل ہوئے تو میرؔ و غالبؔ کے اشعار ہمارے لبوں پر تھے جن کے دیوان ہم نے گُذشتہ رات ہی رٹّے تھے۔ہم نے دیکھا کہ ہال مستقبل کے فلسفیوں سے بھرا پڑا تھا۔وقت شروع ہونے پر ہمیں Qustion Paper‘Answer Sheet وغیرہ تھما دئیے گئے۔مگر یہ کیا؟؟ پرچہ سامنے آیا تو ہمیں چکر سا آگیا۔شعرو ادب تو دور کی بات ہے پرچے میں اُردو کا ایک لفظ بھی نہیں تھا، اور جنرل نالج کا بھی کہیں نشان نہیں تھا۔صرف چند ایک کے سوا سارے ’ میتھ ‘ کے سوال تھے۔ہمیں لگا کسی غلط ہال میں آ گئے ہیں۔مگر جب تقریباً سب اُمیدواروں کے چہروں پر یہی کیفیّت دیکھی تو کھُلا کہ اِدھر ہی آنا تھا۔ہال تو ٹھیک تھا ! البتہ ہمارا ’’ حال ‘‘ خراب ہو چُکا تھا۔ اک لمحے کو چشمِ تصوّر میں ہم نے دیکھا کہ وہ تمام مشاہیر جن کے نام اور کلام ہم گذشتہ ہفتے سے چبا چبا کر یاد کر رہے تھے،ہمارے سامنے کھڑے ہم پر قہقہے لگا رہے ہیں۔جنرل نالج کے زُمرے میں یاد کی گئیں شخصیات دوسری طرف کھڑی تالیاں بجا رہی تھیں۔پیپر پر بکھرے ’ میتھ ‘ کے سوال ہمارا مُنہ چِڑا رہے تھے۔یاد رہے کہ دُنیا میں اگر ہمیں کسی سے نفرت رہی ہے تو وہ ’ میتھ ‘ کے سبجیکٹ سے ہے۔میٹرک میں جب ہم آخری بار ’ میتھ ‘ کا پرچہ دے کر نکلے تو ہم نے باقاعدہ ’ یومِ نجات ‘ منایا تھا۔زرا ہمت کر کے ہم نے قریبی نگران سے پوچھا ، ’’ حضور! یہ ایم فِل اُردو کے داخلہ ٹیسٹ میں ریاضی کا کیا کام!! جناب اگر فِدوی کو فیل کرنا ہی مقصود تھا تو کوئی ڈھنگ کا طریقہ ڈھونڈ لیتے، جو ذرا کم اذیّت ناک ہوتا۔‘‘ نگران صاحب نے سر کو حقارت سے جھٹکا دیا اور کہا،’’ بھئی! یہ میٹرک لیول کا ’ میتھ ‘ ہے، آپ اس پر بھی پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘ نگران صاحب کو کون بتاتا کہ اوّل تو ہمیں میٹرک کئے بھی برسوں بیت گئے اور ہماری صورت حال یہ ہے کہ کل کی بات بھی یاد نہیں رہتی۔میٹرک کے متعلق بہت زور بھی دیں تو دماغ میں میتھ کے اُستاد مرحوم ماسٹر عبداللہ صاحب کا ’ مولا بخش ‘ ہی یاد آتا ہے جو ہمارے اوپر اکثر لہراتا رہتا تھا۔دوسرے، میٹرک میں بھی ہمارا میتھ کا لیول کب میٹرک والوں کے برابر تھا۔میٹرک کیا ہم تو ایم ۔اے بھی کر گئے لیکن ہمارا میتھ کبھی نرسری لیول سے بڑھ نہیں سکا( اور یہ بھی ہم مُبالغے سے کام لے رہے ہیں)۔میتھ کی کلاس میں ہمارا بیشتر وقت مُرغا بنے ہی گُزرتا تھا!اِدھر اُستاد صاحب نے حل کرنے کے لئے کوئی سوال لکھوایا اُدھر ہم نے کاپی پینسل رکھی اور سرِ تسلیم اور کمر دونوں کو خم کرتے ہوئے بینچ پر ہی مُرغا بن گئے۔چنانچہ ان حالات میں ہمارا میتھ لیول تو کیا بہتر ہوتا اُلٹادماغ اور کمر کا لیول بھی خراب ہو گیا۔ویسے بھی میتھ تو بڑے بڑوں کو یاد نہیں رہتی! نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام سے ایک مرتبہ ان کی بیٹی ، جو سکول میں پڑھتی تھی، نے ریاضی کا کوئی سوال حل کروانا چاہا ۔ ڈاکٹر صاحب کافی دیر سر کھپاتے رہے لیکن حل نہ کر سکے اور معذ رت کر لی۔اس پر اُن کی بیٹی نے کہا ’’ ابا جان آپ کو نوبل پرائز کیسے مل گیا!! ‘‘
ٹیسٹ میں دئیے گئے سوال ’’ بھَنگ‘‘ کی تاثیر رکھتے تھے!! سوال پڑھنے کے بعد ایک دفعہ دماغ چکراتا تھا۔۔مثلاً ایک سوال مُلاحظہ فرمائیں:
"If A is going at the speed of 40 km to north,,B is going at speed of 60 km to south,,C is going at speed of 80 km to east,,Then according to A,B,C, what is your monthly Income?"
جی ! اب بتائیے ! سر گھوما یا نہیں!! صاحب! اب کہ ہم بھی گویا اُدھار کھائے بیٹھے تھے! ہم نے بھی مذکورہ بالا سوال کا ’ تاریخی جواب دیا! ہمارا جواب تھا،’’ =A+B+Cدُر فِٹّے مُنہ‘‘۔
کوئی پون گھنٹہ ہم اس ٹیسٹ اور ایم۔فِل اُردو کے درمیان ربط ڈھونڈتے رہے۔ آخری دس منٹ رہ گئے تو ہم نے MCQ سوالوں کے اندھادھُند جواب ٹِک کرنے شروع کر دئیے۔اب ہم آنکھیں بند کر کے اُنگلی گھُماتے اور جہاں اُنگلی رُکتی اُسی جواب کو ٹِک کر دیتے۔ساتھ والے صاحب نے ہماری ’ سپیڈ ‘ دیکھی تو سرگوشی میں کہنے لگا،’’ بھئی! اتنی تیزی سے کر رہے ہو، آپ کو غلطی کا ڈر نہیں ہے؟ ہم نے سرگوشی ہی میں اُن صاحب کو اُس اناڑی رکشے والے کا لطیفہ سُنایا جو بے تحاشہ رکشہ چلا رہا تھا۔وہ انتہائی لا پرواہی سے موڑ کاٹتا تو پیچھے بیٹھی سواری کی چیخیں نکل جاتیں۔اس پر تنگ آکر سواری نے کہا،’’ بھئی! آرام سے چلاؤ۔۔ تمہیں ڈر نہیں لگتا؟‘‘ اُس پر اُس ’ رحمدل‘ ڈرائیور نے ترس کھاتے ہوئے اُس سواری کو مشورہ دیا،’’ دیکھو بی بی !! موڑ کاٹتے ہوئے تم بھی میری طرح آنکھیں بند کر لیا کرو۔۔ڈر نہیں لگے گا‘‘ ساتھ والے کو میرا بھی یہی مشورہ تھا۔ ٹیسٹ سے فارغ ہو کر باہر نکلے توہال کے دروازے پہ کھڑے کسی ستم ظریف نے پوچھا،’’ جناب کیسا ٹیسٹ ہوا۔۔کتنے سوال کئے؟ ‘‘ ہمارے لبوں پر بے ساختہ منیرؔ نیازی کا یہ شعر آگیا:
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *